• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوبہ پنجاب کا آئندہ مالی سال 22-2021ء کا بجٹ کل 14 جون کو پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ تقریباً 2 ہزار 4 سو ارب روپے کے لگ بھگ ہوگا، پنجاب میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ گیا ہے، پنجاب میں ترقیاتی پروگرام کے لیے 550 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 سو ارب روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے جبکہ صحت اور تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں ڈیڑھ گنا اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق صحت سہولت کارڈ کے لیے 70 ارب روپے، کورونا سے متاثر کاروباری کے ریلیف کے لیے 40 ارب روپے، سڑکوں کے لیے 35 ارب روپے جبکہ جنوبی پنجاب کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 80 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ جنوبی پنجاب کی ترقیاتی اسکمیوں کے لیے مختص فنڈز کسی اور جگہ خرچ نہیں ہو سکیں گے، زرعی شعبے کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 20 ارب روپے خرچ ہوں گے اور 36 اضلاع کے لیے ترقیاتی پروگرام کے تحت 100 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ پروگرام کا منصوبہ 3 برس تک چلے گا، پنجاب میں انصاف اسکول اپ گریڈیشن پروگرام کے لیے 7 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، اسکول اپ گریڈیشن پروگرام میں پرائمری اسکول شام میں سیکنڈری اسکول میں تبدیل ہو جائے گا۔

اسی طرح ماحولیات، اقلیتوں اور اوقاف اور سیاحت کے لیے بھی بھاری رقم مختص کی جائے گی۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ گرین انفرا اسٹرکچر فنڈ میں ڈھائی ارب روپے تک رکھنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی نے 9 سروسز پر ٹیکس کم کرنے کی تجویز دی ہے، پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بعض ٹیکسز میں کمی کی تجویز ہے جبکہ بیوٹی پارلز، فیشن ڈیزائنرز، اسٹیچنگ سروسز، ویئر ہاؤس سروسز پر ٹیکس کم کرنےکی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق کنسٹرکشن، لانڈری، رینٹل بلڈرز سروسز پر ٹیکس کم کرنے کی تجویز ہے اور پنجاب ریونیو اتھارٹی کا آئندہ مالی سال کے لیے 160 ارب روپے ٹیکس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ترقياتي بجٹ 600 ارب روپے سے زائد اور غير ترقياتی بجٹ 1350 ارب روپے تک ہونےکا امکان ہے۔

وفاق سے 1680 ارب روپے سے زائد رقم حاصل ہو گئ جبکہ 300 ارب روپے پنجاب کے ٹيکس اور 73 ارب روپے نان ٹيکس سے حاصل ہوں گے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ گندم کی خريداری کے ليے400 ارب روپے مختص کيئے جائيں گے۔

پنجاب کے بجٹ میں ملازمین اور پنشنز کے لیے 10 فیصد اضافے کی تجویز بھی شامل ہے۔

تجارتی خبریں سے مزید