• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محب وطن اوورسیز کمیونٹی کےمسائل حل کئے جائیں

تحریر:محمد سعید مغل۔۔۔برمنگھم
بیرون ممالک آباد اوورسیز پاکسانی کمیونٹی ملک کے بے لوث وفادار اور محب وطن پاکستانی جو دن رات پاکستان سے آنے والے معزز مہمانوں کی خدمت کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں، بیرون ملک مقیم کمیونٹی ملک کو زرمبادلہ بہم پہنچا کر خوشی محسوس کرتے ہیں جس سے ملکی معیشت مضبوط ہوتی ہے، اوورسیز پاکستانی امید کرتے ہیں کہ ان کو جو مسائل درپیش ہیں وہ سرکاری سطح ر ہمدردی سے حل کئے جائیں، کروونا وائرس کی وجہ پوری دنیا کے لوگوں کے کاروبار کی بندش اور بے روزگاری میں اضافہ ہونے کے باوجود پچھلے سالوں کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ زر مبادلہ پاکستان بھیجا گیا ہمارے معزز وزیراعظم جناب عمران خان کئی سال برطانیہ میں مقیم رہے ہیں اس لئے وہ اوورسیز کمیونٹی کے مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور ان لوگوں کی محب الوطنی پر فخر کرتے ہیں، ان اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل اپنی آبائی جائیداد اور ہائوسنگ سوسائٹیوں میں جو سرمایا کاری کی تھی سے تعلق رکھتے ہیں، قائم ہونے والی ہر نئی حکومت نے وعدے کئے کہ ہم ان مسائل کو حل کریں گے مگر مسائل جوں کے توں ہیں، سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے اپنے مفاد کیلئے بیرون ملک سیاسی برانچیں اس لئے قائم کیں تاکہ ہمیں پرٹوکول سے لے کر آئیں، گلے میں پھولوں کے ہار ڈالیں، دعوتوں کا اہتمام بھی کریں، اس سے کمیونٹی کو بڑا نقصان ہوا ہے کمیونٹی میں تقسیم پیدا ہوئی آپس میں اختلافات پیدا ہوگئے، ان اختلافات کا سب سے زیادہ فائدہ ان سیاستدانوں کو ہوا اور ہمارے اتحاد کو نقصان، حالانکہ اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کے تعلیم یافتہ لوگوں نے جب برطانیہ کی سیاست میں حصہ لیا تو ان میں سے کئی پاکستانی برطانیہ میں ممبر آف پارلیمینٹ منتخب ہوئے، حالانکہ سائوتھ ایشین ممالک اوورسیز باشندے محنت مزدوری سے منسلک ہوتے ہیں اور سیاست میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن جن لوگوں نے یہاں کی سیاست میں حصہ لیا وہ یہاں سیاست میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن جن لوگوں نے یہاں کی سیاست میں حصہ لیا وہ یہاں سیاست میں کامیاب بھی ہوئے، یہاں اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو بغیر سفارش کے برطانیوی محکموں میں اچھے عہدوں پر فائز کیا گیا جن سیاستدانوں کو ہم برطانیہ میں عزت دیتے ہیں اعلی قسم کے تحائف مہیا کرتے ہیں ان کی مالی امداد بھی کرتے ہیں، جب ہمارے دوست احباب پاکستان جاتے ہیں تو کوئی ان سے ملاقات کیلئے بھی نہیں آتا، ہم ہی ان سے جب ملاقات کرنے جاتے ہیں تو باہم بیٹھا منشی بڑے آرام سے کہتا ہے کہ صاحب ابھی فارغ نہیں ہوئے، جب ملاقات ہوتی ہے تو موضوف سیاسی مصروفیات کا بہانہ بنا کر چلے جاتے ہیں، انہوں نے کبھی ہمیں عزت یا تحائف دینا گوارہ نہیں کیا، آج اگر ہم ان سیاسی جماعتوں میں شمولیت نہ کرتے تو کاروبار میں آگئے ہوتے، خوشحال ہوتے، بچوں کو اعلی تعلیم دے سکتے تھے مگر ہم نے زیادہ وقت ان سیاست دانوں کو خوش رکھنے میں گزارہ جس سے ہمیں نقصان ہوا ہے، ہماری پانچویں نسل یہاں جوان ہو رہی ہے سیاست کا نام تک نہیں لیتی، یہاں آکر سیاست دانوں نے صرف ہمیں تقسیم کیا ہے، دوسرا بڑا نقصان ان مولویوں سے ہوا ہے جنہوں نے یہاں آکر مسلک عقیدوں کی بنیاد پر کمیونٹی کو مزید تقسیم کردیا، اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے رویئے تبدیل کریں، سیاست دان عزت کے ساتھ سیاست کریں کیونکہ کوئی بھی سیاست دان ملک کی پہچان ہوتا ہے، مثبت کام کرنے سے ملک کا نام روشن ہوتا ہے، دعوتوں، تحائف یا پروٹوکول سے ذاتی فائدہ تو ہوسکتا ہے مگر معاشرہ میں ترقی اسی وقت ہوگی جب بیرون ملک کا دورہ کرنے سے ملک میں سرمایہ کاری بڑے، کاروباری لوگ یہاں آکر انڈسٹریز کو پروموٹ کریں، جس سے بے روزگاری میں کمی آئے ملکی معیشت مضبوط ہو اور معاشرہ میں خوشحالی آئے، علماء اکرام دین اسلام کا پرچار کریں تاکہ لوگوں میں محبت اخوت اور بھائی چارہ قائم ہو، سیاست دانوں اور علماء اکرام کی وجہ سے ہی معاشرہ میں ترقی اور خوشحالی آتی ہے۔
یورپ سے سے مزید