• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عام آدمی کے استعمال کی ہر چیز پر ٹیکس لگایا، بلاول، حکومت ہیرا پھیری کررہی ہے، شاہد خاقان

عام آدمی کے استعمال کی ہر چیز پر ٹیکس لگایا، بلاول


کراچی(ایجنسیاں‘ٹی وی رپورٹ)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے عام آدمی کے استعمال کی کوئی ایسی شے نہیں چھوڑی جس پر ٹیکس نہ لگایا ہو جبکہ مسلم لیگ ن کے سینئرنائب صدرشاہد خاقان عباسی نےکہا ہے کہ شوکت ترین نے وہی بجٹ تقریر پڑھی جو پیپلزپارٹی کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے پڑھی تھی‘ حکومت نمبروں کی ہیرا پھیری سے عوام کو دھوکہ دینا چاہتی ہے‘ بجٹ میں 383ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔

اتوارکو بلاول ہائوس میڈیا سیل سے جاری بیان میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے بجٹ میں عوام پر تقریبا پونے چار سو ارب روپے سے زائد کے ٹیکس لگانے کے عمل کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں فون کال، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس لگانے کے بعد اگلے دن واپس لینا حکومتی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔

عمران خان کی حکومت نے عام آدمی کے استعمال کی کوئی ایسی شے نہیں چھوڑی جس پر ٹیکس نہ لگایا ہو۔عمران خان کی حکومت بھاری ٹیکسوں کے طوفان پر عوامی ردعمل سے ڈری ہوئی ہے، پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ میں ٹیکسوں کے نام پر عوام کی جیبوں پر ڈاکے کو مسترد کرتا ہوں۔ 

عمران خان کے عوام دشمن معاشی اقدامات کو بے نقاب کرتا رہوں گا۔ دریں اثناءگزشتہ روزکراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 1200ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کے باوجود آٹھ سو ارب روپےکی اضافی رقم حاصل کی جاسکی، نئے بجٹ میں 383ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔

شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ یہ عوام کے پیٹ کاٹ کر جعلی ہدف پورے کرنا چاہتےہیں، حکومت نمبروں کی ہیرا پھیری سے عوام کو دھوکہ دینا چاہتی ہے ،رہنما ن لیگ نے کہا کہ ملکی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جس کو جھوٹ بولنے میں شرم نہیں، اگلے بجٹ میں کوئی نیا وزیر خزانہ ہوگا،جو نئی باتیں کہےگا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت رہتی تو2018ءسے زیادہ گروتھ ہوتی، مسلم لیگ ن کی اگر حکومت رہتی تو 370ارب روپے جی ڈی پی ہوتی،ن لیگ کے دور میں ساڑھے 7 ارب روپے کا خسارہ 5 سال میں تھا،موجودہ حکومت کا تین سال میں خسارہ 10 ارب سے زیادہ ہے،وزیر خزانہ تقریر میں پچھلی حکومت پر ملبہ ڈالتے ہیں۔ 

سابق وزیراعظم نے کہا کہ تین سال میں موجودہ حکومت نے 15 ہزار ارب سے زائد روپے کا اضافی قرضہ لیا،تین سال میں 50 لاکھ آدمی بے روزگار ہوگئے ہیں،بجٹ کی تجاویز میں کہیں لکھا ہوا کہ روزگار کون مہیا کرے گا؟پانچ سال میں ایک غلط بیانی بتا دیں بس کرپشن کرپشن کی باتیں کرتے ہیں،ایک کرپشن کا اسکینڈل لے آئیں پانچ سال میں ، میں جوابدہ ہوں گا۔

اہم خبریں سے مزید