• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’کبھی آہ بن کے لب پہ تیرا نام نہ آئے‘‘ نامور انقلابی عوامی شاعر حبیب جالب کی لکھی یہ غزل معروف موسیقار حسن لطیف نے سُریلی آواز کے حامل مجیب عالم سے صرف سولہ برس کی عمر میں ان ریلیز فلم ’’نرگس‘‘ کے لیے گوائی۔ انہوں نے مجیب عالم کو کسی پروگرام میں نامور گلوکار محمد رفیع کا گیت گاتے سُنا، تو فیصلہ کیا کہ وہ اس سریلے گائیک کو علمی گلوکاری کا موقع دیں گے۔ ’’نرگس‘‘ مکمل نہ ہوسکی اور لوگوں تک مجیب عالم کی گائی مذکورہ غزل نہ پہنچ سکی۔ ریلیز کے تناظر میں مجیب عالم کی آواز سے آراستہ پہلی فلم ’’مجبور‘‘ (1966ء) میں ریلیز ہوئی۔

اس فلم میں ان سے موسیقار تصدق حسین نے شاعر قتیل شفائی کی لکھی یہ خُوب صورت لوری گوائی جو فلم میں سنتوش کمار پر فلمائی گئی۔ ’’آجا میری نندیا آجا، آجا چوری چوری سوئے میرا لاڈلہ، میں دیتا جائوں لوری‘‘۔ سال 1966ء میں فلم ’’مجبور‘‘ کے علاوہ مجیب عالم کی سُریلی آواز فلم ’’جان پہچان‘‘، ’’لوری‘‘، ’’جلوہ‘‘ اور ’’حسن کا چور‘‘ میں سماعتوں کو آسودہ کر گئی کچھ یُوں: ’’راز اشکوں میں چھپانے کا ہنر کیا کہنا‘‘ (جان پہچان، ناصر کاسگنجوی، مصلح الدین) ’’میں خوشی سے کیوں نہ گائوں، میرا دل بھی گا رہا ہے‘‘ (لوری، حمایت علی شاعر، خلیل احمد)۔ ’’وہ نقاب رخ الٹ کر یوں سامنے نہ آئیں، کوئی جاکے ان سے کہہ دے ہمیں یوں نہ آزمائیں‘‘ (جلوہ، کلیم عثمانی، ناشاد)۔’’پھول ہنس کے کھل گئے، اشک موتی بن گئے‘‘ (حسن کا چور ہمراہ ناہید نیازی، حمایت علی شاعر، خلیل احمد)۔’’ہم متوالے ہمت والے، البیلے راہی‘‘ (حسن کا چور ہمراہ شوکت علی، حمایت علی شاعر، خلیل احمد)۔سال 1967ء میں مجیب عالم کی آواز سے سجی فلموں میں بےرحم، چکوری، حاتم طائی، لاکھوں میں ایک شامل ہیں۔

’’گیت چھیڑ پیار کا دھڑکتے دل کے ساز پر‘‘ (بےرحم، ہمراہ مالا، مظفر وارثی، کمال احمد)۔ ’’وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں، میرے ہر خواب کی تعبیر بنے بیٹھے ہیں‘‘ (چکوری، اختر یوسف، روبن گھوش،۔ اس گیت کی عمدہ گائیکی کے عوض مجیب عالم کو نگار ایوارڈ عطا کیا گیا، جو ان کا اکلوتا ایوارڈ ثابت ہوا اور موسیقار روبن گھوش کے ساتھ مجیب عالم کا یہ واحد نغمہ بھی ہے)۔ ’’خدا نے حسن دیا ایسا بے مثال تمہیں‘‘ (حاتم طائی، مسرور انور، نثار بزمی)۔ ’’ساتھی کہاں ہو، آواز تو دو پل پل میرا پیار پکارے، پیار پکارے‘‘ (لاکھوں میں ایک، ہمراہ نورجہاں، تنویر نقوی، نثار بزمی)

1968ء میں مجیب عالم کی مدھرآواز سے سجے گیت یہ رہے:. ’’تھکی تھکی سی زندگی، بجھی بجھی سی شام ہے‘‘ (آوارہ، احمد راہی، مصلح الدین)۔’’یُوں کھو گئے تیرے پیار میں ہم، اب ہوش میں آنا مشکل ہے‘‘ (افسانہ، تنویر نقوی، ناشاد)۔ ’’چونکہ ان پڑھ رہنا برا ہے اس لیے تھوڑا پڑھ لکھ لو‘‘ (بیٹی بیٹا، قتیل شفائی، منظور اشرف)۔ ’’واہ ری قسمت تیری دہائی تیری دہائی‘‘ (بزدل، فیاض ہاشمی، خلیل احمد)۔’’اے جان آرزو مجھے کیسے بھلائیں ہم‘‘ (جان آرزو، قتیل شفائی، ماسٹر عنایت حسین)۔ ’’کھو گئے تم کہاں لٹ گئے ہم یہاں‘‘ (جنگلی پھول ہمراہ ناہید نیازی، اختر لکھنوی، کریم شباب الدین)

’’میری جان میرے ہم سفر نہ رو، دیکھ اب قریب ہے سحر نہ رو‘‘ (دوسری شادی، سیف الدین سیف، ایم اشرف)۔ ’’ان حسینوں سے کہہ دو، ماہ جبینوں سے کہہ دو‘‘ (عصمت، کلیم عثمانی، معصوم رحیم)۔ ’’اک مدت سے دیوانہ دل خوشیوں کا زمانہ بھول گیا‘‘ (کرشمہ، تنویر نقوی، حسن لطیف)۔ ’’بجھے نہ دل رات کا سفر‘‘ (گھر پیارا گھر، حبیب جالب، نثار بزمی)۔ ’’کسی کے بے چین دل کی دھڑکن، کسی کے ساز وفا کا نغمہ قبول کرلو، قبول کرلو‘‘ (میں کہاں منزل کہاں، قتیل شفائی، غلام نبی عبداللطیف)۔ ’’بے قرار کرکے ہمیں چل دئیے حضور، یہ سزا تو نہ دیجئے حضور‘‘ (میری دوستی میرا پیار، ہمراہ احمد رشدی، ریاض الرحمان ساغر، تصدق حسین)۔ ’’سو جارے سو جارے بھیا کی بہنا پل بھر کی رات ہے‘‘ (میں زندہ ہوں، مشیر کاظمی، حسن لطیف)۔ ’’ہری ہری رت آئی ساون کی آئی رے رت ساون کی‘‘ (میں زندہ ہوں، ہمراہ مالا، حبیب جالب، حسن لطیف)۔ 

سال 1969ء مجیب عالم کی ان فلموں کے ساتھ ایا۔ ’’گوری درشن دے کے چلی ہے کہاں‘‘ اور ’’یہ پھول یا ستارہ کوئی بتا دے مجھے‘‘ (پیاسا، اختر یوسف، سبل داس)۔’’مجھ کو الفت بھی نہیں، مجھ کو عداوت بھی نہیں‘‘ (تم ملے پیارملا، تسلیم فاضلی، ناشاد)۔’’دنیا کے غموں سے گھبرا کر تیرے در پہ سوالی آئے ہیں‘‘ (درد، ہمراہ منیر حسین و ساتھی، خواجہ پرویز، ایم اشرف)

’’ذرا تم ہی سوچو، بچھڑ کے یُوں ملنا محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے‘‘ (دل دے کے دیکھو، فیاض ہاشمی، سہیل رعنا)۔ ’’نور ہی نور ہے زیبائش زیبائی ہے‘‘ (بزم انصاری، موسیقار ربانی)۔ ’’قسم اس وقت کی جب زندگی کروٹ بدلتی ہے‘‘ (قسم اس وقت کی، جوش ملیح آبادی، سہیل رعنا)۔ ’’یہ ہی سہی تو چلو یوں ہی پیار کرلی‘‘ اور ’’بند نہ کر ابھی نین دوارے‘‘ (گیت کہیں سنگیت کہیں، شاعر اختر یوسف اور تنویر نقوی، موسیقار ماسٹر طفیل حسین)۔ ’’تم نے وعدہ کیا تھا آنے کا اپنا وعدہ نبھانے آجائو تم آجائو تم‘‘ (ماں بیٹا، مسرور انور، سہیل رعنا)۔ ’’اپنی بکھری ہوئی گھنی زلفوں کے سائے میں‘‘ (ناز، ہمراہ رونا لیلیٰ، قتیل شفائی، نثار بزمی)۔

اور پھر آیا سال 1970ء مجیب عالم کے ان سُریلے نغمات کو لے کر: ’’تو چندا ہے میرا، میں تیرا اجالا‘‘ (بے قصور، ہمراہ رونا لیلیٰ، تنویز نقوی، منظور اشرف)۔ ’’دنیا والو تمہاری دنیا میں یُوں گزاری ہے زندگی ہم نے‘‘ اور ’’تم سے مل کر میری دنیا ہی بدل جاتی ہے‘‘ (سوغات، مسرور انور، سہیل رعنا)۔ نوٹ فلم ’’ہمرائی‘‘ میں مسعود رانا نے سات سولو نغمات گائے تھے۔ بعدازاں اس ریکارڈ کو مجیب عالم نے فلم ’’شمع اور پروانہ‘‘ میں 5سولو نغمات اور اک دو گانے کی صورت میں برابر کرنے کی کوشش کی ، لیکن وہ ایک نغمہ کی کمی سے محروم رہے، مگر اس فلم میں ان سے نثار بزمی نے شان دار نغمات گوائے، جن میں اس سے پہلے نغمے کے علاوہ بقیہ نغمات مسرو رانور نے تحریر کیے۔ 

پہلا نغمہ سیف الدین سیف نے لکھا۔ ’’میرے عزیز تجھے یہ خوشی مبارک ہو نئی بہار نئی زندگی مبارک ہو، اس سے پہلے کہ تیری چشم کرم معذرت کی نگاہ بن جائے، میں تیرا شہر چھوڑ جائوں گا‘‘۔ ’’دل تیری یاد میں جب بھی گھبرائے گا، کون یادوں کو زنجیر پہنائے گا‘‘۔ ’’آمیرے ساتھی دل میرا تجھ کو تڑپ تڑپ کے پکارے، آجا رے آجا رے‘‘۔’’میں تیرے اجنبی شہر میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تجھے مجھ کو آواز دے‘‘۔’’ہوائوں میں تیری سانسوں کی مہک ہے، زندگی جھوم کے لہرائے گی آج تو آئے گی‘‘۔ ’’بادلوں کے تلے ہم یونہی شام ڈھلے روز ملتے رہیں ہیں روز ملتے رہیں گے‘‘ (ہمراہ مالا)۔ سال 1971ء میں مجیب عالم کی عمدہ کارکردگی ان نغمات میں نمایاں رہی۔

’’آرے آرے دل کے سہارے دل کی ہر دھڑکن تجھ کو پکارے‘‘ (دوستی، ہمراہ ونر جہاں، کلیم عثمانی، اے حمید)۔ سال 1972ء میں مجیب عالم صرف فلم ’’میرے ہم سفر‘‘ میں نغمہ سرا ہوئے۔ 1973ء میں بھی’’دلہن رانی‘‘ میں اس سہ گانے میں مالا اور رجب علی کے ہمراہ نغمہ سرا ہوئے۔’’ٹوٹ گئے سب خواب سہانے آگ لگی ارمانوں کو‘‘ (تسلیم فاضلی، ناشاد)۔ سال 1974ء میں مجیب عالم نے ایک سے زائد فلموں کے لیے نغمات گائے۔ 1975ء میں مجیب عالم کی کوئی فلم نہ آسکی۔ 1976ء میں انہوں نے فلم ’’تقدیر کہاں لے آئی‘‘ میں یہ دو گانے مالا کے ساتھ گائے۔

سال 1977ء اور 1978ء بھی مجیب عالم کی فملوں کے بغیر گزرے، پھر 1979ء میں ان کی آواز فلم ’’پیسہ بولتا ہے‘‘ کہ اس سہ گانے میں عشرت جہاں اور رضوانہ جبیں کے ہمراہ سنائی دی۔ سال 1980ء، 1981ء، 1982ء بھی مجیب عالم کے نغمات سے خالی رہے پھر 1983ء میں ان کا گایا ایک دلکش نغمہ فلم ’’مانگ میری بھر دو‘‘ میں سنائی دیا۔ سال 1984ء، 1985ء میں بھی مجیب عالم فلموں کے بغیر رہے اور سال 1986ء میں ان کی گائیکی سے آراستہ آخری فلم ’’سیاست‘‘ آئی۔

مذکورہ بالا اردو فلموں کے علاوہ مجیب عالم نے پنجابی فلموں کے لیے بھی آواز کا جادو جگایا۔ ان کی پہلی پنجابی فلم ’’پیار دا ویری‘‘ (1968ء) تھی، جس میں انہوں نے مالا بیگم کے ساتھ دو گانا گایا۔ 

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید