• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گالم گلوچ اور شور شرابہ کیا جائے گا نہ ارکان نشستوں سے اٹھیں گے، وفاقی وزرا

شور کیا جائیگا نہ ارکان نشستوں سے اٹھیں گے، وفاقی وزرا


اسلام آباد(ایجنسیاں)وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اسمبلی اجلاس میں ہنگامہ آرائی سے پارلیمان کی سبکی ہوئی‘حکومت اور اپوزیشن معاہدے پر پہنچ گئے ہیں کہ اجلاس احسن انداز میں چلایا جائے گا‘ دنگا فساد‘گالم گلوچ اورشورشرابہ کیاجائے گا نہ ارکان نشستوں سے اٹھیں گے ‘اس ضمن میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی گئی جس میں معاملات کو دیکھا جائے گا کہ انہیں کس طرح کنٹرول کرنا ہے‘ اسپیکر کے اختیارات کو بڑھانے پر بھی بات ہوئی‘ اب کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ اسپیکر کے اختیارات پر کس طرح نظرثانی کی جائے اور انہیں کس طرح بڑھایا جائے‘ 186ارکان نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، بجٹ آسانی سے منظور ہو جائے گا۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ گزشتہ روز حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تفصیلی بات ہوئی‘حکومت کی طرف سے پرویز خٹک، اسد عمر، علی محمد خان، عامر ڈوگر اور وہ خود جبکہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے رانا ثناءاللہ، ایاز صادق اور رانا تنویر اور پیپلز پارٹی کی طرف سے راجہ پرویز اشرف اور شازیہ مری شامل تھے۔بات چیت میں تمام معاملات پر گفتگو ہوئی اور اتفاق ہوا کہ اسمبلی کے اندر ایسا ماحول پیدا نہیں ہونا چاہئے جس سے ادارے فنکشنل نہ ہوں، ۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی گئی جس میں معاملات کو دیکھا جائے گا کہ انہیں کس طرح کنٹرول کرنا ہے۔ اسپیکر کے اختیارات کو بڑھانے پر بھی بات ہوئی، اب کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ سپیکر کے اختیارات پر کس طرح نظرثانی کی جائے اور انہیں کس طرح بڑھایا جائے۔اپوزیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد واپس لے، انہوں نے کہا کہ خوش کن بات یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں اور پارلیمان معمول کے مطابق کام کرے گی۔اس موقع پر پرویز خٹک نے کہا کہ جس روز آئندہ مالی سال کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا، اس روز بھی شور شرابا، ہنگامہ آرائی اور ہلڑ بازی رہی جو ہم نے برداشت کی، اگلے دو دن بھی یہی صورتحال رہی، یہ ہمارے ملک اور آئین کے لئے اچھا نہیں ہے اور دونوں اطراف سے اراکین نے اچھا نہیں کیا۔

اہم خبریں سے مزید