• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہلدی کے استعمال سے صحت اور خوبصورتی پر حیرت انگیز فوائد

قدرتی جڑی بوٹی کی جڑوں سے حاصل کیا جانےوالا خوبصورت رنگ کا قدرتی مسالہ ہلدی ایک طاقتور اینٹی سیپٹک اور اینٹی انفلامینٹری جز ہے جس کے استعمال سے انسانی صحت اور خوبصورتی پر بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

انگلش ادویات زیادہ تر اینٹی سیپٹک، اینٹی انفلامینٹری، اینٹی آکسیڈنٹ اور اور اینٹی الرجک ہوتی ہیں جنہیں موسمی انفیکشن سے پیش آنے والے مسائل سے لڑنے کے لیے مریضوں کو تجویز کیا جاتا ہے، موسمی وائرسز اور انفیکشن پیدا کرنے والے بیکٹیریاز زیادہ تر کمزور قوت مدافعت والے افراد کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔

قدرتی جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے والے ماہرین اور غذائی ماہرین کی جانب سے قوت مدافعت بڑھانے اور انسان کو نقصان پہنچانے والے بیکٹیریاز سے بچاؤ کے لیے ہلدی کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر تجویز کیا جاتا ہے۔

ہلدی ایک اینٹی کولیسٹرول مسالہ ہے جو کہ انسانی مجموعی صحت اور دل کے لیے مفید مانا جاتا ہے، ہلدی میں موجود کُرکُمِن نامی مرکب انتہائی طاقتور ہوتا ہے جو انسانی قوت مدافعت کا نظام مضبوط بناتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہلدی میں متعدد بیماریوں کا علاج موجود ہے جس میں جوڑوں کا درد، ہائی بلڈ پریشر کا متوازن رہنا، کینسر کے خلیات کی افزائش کی روک تھام میں مدد کرنا، سوزش سے نجات، ذہنی دباؤمیں آرام اور متاثرہ پٹھوں کی بحالی شامل ہے، اسے کئی طرح سے استعمال میں لایا جا سکتا ہے کہ جیسے کہ پکوان، سلاد، دودھ اور چٹنیوں وغیرہ۔

ہلدی کے استعمال سے حاصل ہونے والے چند فوائد اور طریقہ کار مندرجہ ذیل ہے :

بلڈشوگر کنٹرول کرے

تحقیق کے مطابق  ہلدی کا استعمال بلڈ گلوکوز یا بلڈ شوگر لیول کم اور کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، خصوصاً ایسے افراد میں جو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار ہوں، اسی طرح یہ مسالہ ذیابیطس کا شکار ہونے سے بھی بچاتا ہے مگر اس حوالے سے سائنسدانوں نے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جوڑوں کی تکلیف میں کمی

ہلدی میں موجود پولی فینول ایسا اینٹی آکسیڈنٹ جز ہے جو کہ اینٹی انفلامینٹری خصوصیات رکھتا ہے، ہلدی جوڑوں کے درد، اکڑن اور سوجن میں کمی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جوڑوں کے امراض کے شکار افراد ڈاکٹر کے مشورے سے ہلدی پاؤڈر کے کیپسول بھی استعمال کر کے جوڑوں کے درد میں  ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔

ہلدی سے بنی مفید چائے

ایک کپ پانی کو ابالیں اور پھر اس میں آدھا چائے کا چمچ ہلدی شامل کر لیں، اب اسے دس منٹ تک مزید پکائیں اور پینے سے قبل چھان لیں، اس میں حسب منشا شہد، مصری یا لیموں بھی شامل کر سکتے ہیں۔

چہرے کی خوبصورتی بڑھانے اور مختلف شکایات سے بچنے کے لیے ہلدی کا استعمال

اکثر خواتین میں غیر متوازن ہارمونز کے سبب چہرے کے بال بڑھنے لگتے ہیں ہلدی چہرے کے غیر ضروری بالوں کی نشوونما کی روک تھام میں مدد فراہم کرتی ہے.

ایک چوتھائی چمچ ہلدی کو ایک چمچ بیسن میں مکس کریں اور پانی کی مدد سے پیسٹ بنالیں، اب اسے چہرے پر پندرہ منٹ لگا رہنے دیں اور بعد میں دھو لیں، یہ عمل 3 ماہ تک روزانہ بلا ناغہ دہرائیں، بالوں کی افزائش میں کمی واقع ہوگی۔

ہلدی کا استعمال کیل مہاسوں کی روک تھام ہی نہیں کرتا بلکہ اسے اکثر چہرے پر لگانے سے کیل مہاسوں کے نشانات اور سوجن بھی ختم ہو جاتی ہے۔

ہلدی کا چہرے پر استعمال جلد کے مردہ خلیات کی صفائی کے لیے بہترین ہے اور یہ جلد کو چمک دینے میں مدد دیتی ہے۔

ہلدی کو دودھ یا دہی میں ملائیں اور اچھی طرح مکس کرکے چہرے، گردن، بازوؤں پر لگائیں۔

اس ماسک کو  خشک ہونے کے لیے چھوڑ دیں۔

بعد ازاں نیم گرم پانی سے دھو لیں، دھوتے ہوئے گول دائروں میں مساج بھی کریں، چہرہ کھِل اٹھے گا اور جِلد کی متعدد شکایات سے نجات حاصل ہوگی۔

صحت سے مزید