• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طالبعلم سے زیادتی، مفتی عزیز بیٹے سمیت گرفتار


لاہور پولیس نے مدرسے میں طالبعلم سے زیادتی کرنے والے مفتی عزیز الرحمٰن کو میانوالی سے گرفتار کر لیا، پولیس کے مطابق مفتی عزیز الرحمٰن کے 1 بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

مفتی عزیز الرحمٰن اور ان کے بیٹے مبینہ زیادتی کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سے روپوش تھے۔

مدرسے میں طالب علم سے مبینہ زیادتی میں ملوث مفتی عزیز الرحمٰن کو بالآخر میانوالی سے گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے 2 روز قبل ٹاؤن شپ میں چھاپہ مارا تھا، جہاں سے وہ پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو چکے تھے۔

پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع ملی کہ مفتی عزیزالرحمٰن میانوالی میں ہیں، جہاں چھاپہ مار کر مفتی عزیز اور ان کے ایک بیٹے کو پکڑ لیا گیا ہے۔

مفتی عزیز الرحمٰن کے 2 بیٹے تاحال مفرور ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

مفتی عزیز الرحمٰن اور ان کے بیٹوں کے خلاف صابر شاہ نامی طالب علم نے تھانہ صدر میں مقدمہ درج کرا رکھا ہے، جس میں مفتی عزیز الرحمٰن پر 3 سال تک زیادتی کا نشانہ بنانے اور ان کے بیٹوں کے خلاف دھمکیاں دینے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق مفتی عزیز الرحمٰن کی طالب علم سے مبینہ زیادتی کی ویڈیو چند روز قبل منظر عام پر آئی تھی۔

جس کے بعد مفتی عزیز الرحمٰن نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ جب یہ معاملہ ہوا، وہ ہوش میں نہیں تھے، مگر ان کے اس بیان کے بعد مزید کئی ویڈیوز بھی سامنے آ گئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مدعی طالب علم صابر شاہ محفوظ مقام پر ہے۔

دوسری جانب ویڈیوز سامنے آنے کے بعد مفتی عزیز الرحمٰن کو متعلقہ مدرسے سے نکال دیا گیا تھا جبکہ جمعیت علمائے اسلام نے بھی مفتی عزیز الرحمٰن کی رکنیت معطل کر دی تھی۔

قومی خبریں سے مزید