• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمیں وہ لیکچر نہ دیں جو اپنے گریبان میں جھانکتے نہ ہوں، علی زیدی کا قومی اسمبلی میں خطاب

وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ سوچا تھا کہ بجٹ پر بات کروں، پھر ڈیسک بجاؤں یعنی اپوزیشن کی طرح منافق ہوجاؤں۔

قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں علی زیدی نے کہا کہ ہمیں وہ لیکچر نہ دیں جو اپنے گریبان میں جھانکتے نہ ہوں، اسی اسمبلی سے مفتی محمود کو نکالا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان ہی جمہوریت پسند لوگوں نے ماضی میں نیشنل عوامی پارٹی پر غداری کے مقدمے کرائے تھے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ میثاق مک مکا کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ بینظیر بھٹو نے ابوظبی میں ایک ڈکٹیٹر سے مک مکا اور ڈیل کی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومتی بنچوں سے کسی نے وڈیو نہیں بنائی، اپوزیشن بنچوں کی طرف سے وڈیوز بنائی گئیں، توہین آمیز زبان استعمال کی گئی۔

علی زیدی نے یہ بھی کہا کہ سوچا تھا بجٹ کی تقریر میں اپنی وزارت پر بات کروں گا اور پھر آرام سے ڈیسک بجاؤں، لیکن اپوزیشن نے اپنی تقاریر میں تصویر کا ایک رخ دکھایا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی تقریروں سے ایسا لگ رہا تھا جیسے 2018ء سے پہلے ملک میں دودھ کی نہریں تھیں، یہ ہمیں اس طرح لیکچر نہ دیں، ہمیں ان کی حقیقت معلوم ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بلاول بھٹو نے تقریر میں انگریزی الفاظ استعمال کیے، معلوم نہیں وہ کسے سنارہے تھے، ہوسکتا ہے وہ اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے یہاں انگلش بولتے ہوں۔

اُن کا کہنا تھا کہ کراچی کو دیکھ کر نیویارک بھی شرما جائے، شہر قائد میں انفرااسٹرکچر تباہ ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کہتے ہیں میں وزیراعظم عمران خان کو جواب دہ نہیں ہوں۔

علی زیدی نے کہا کہ کل فادرز ڈے تھا، اب جنرل ضیاء الحق کی باقیات پر بھی بات کرلیتا ہوں، اس اسمبلی کا اب یہ حال ہے کہ یہ وزیر اعظم کے سامنے بیٹھ کر انہیں گالیاں دیتے ہیں، یہ مراد سعید پر ان کے خاندان پر ذاتی حملے کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے ارکان اسمبلی بالخصوص خواتین اور خاتون اول سے معذرت خواہ ہوں، جن پر انہوں نے کیچڑ اچھالا اور اُنہوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔

قومی خبریں سے مزید