• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزراء کو گھر بھیجیں، FBR بند کر دیں: شاہد خاقان عباسی

مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت کا پیٹرول پر ٹیکس لگا کر 600 ارب روپے جمع کرنے کا پروگرام ہے، وزراء کو گھر بھیجیں، ایف بی آر کو بند کر دیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوان کی روایات ہیں، اس ایوان کا چلنا نہ چلنا اسپیکر کی کامیابی ناکامی ہوتی ہے، ایوان نہ چلے تو عوام کے مسائل رہ جاتے ہیں، اس ایوان میں لیڈر آف اپوزیشن پر حملہ کیا گیا، کسی رکن نے کچھ نہیں کہا، اسپیکر نے بھی کچھ نہیں کہا۔

انہوں نے کہا کہ کتابیں اراکین کو نہیں جمہوریت کو ماری گئیں، ایک دن آئے گا کہ یہ کتابیں ٹی وی پر دکھائی جائیں گی، کہا جائے گا کہ جمہوریت سے آمریت بہتر ہے، یہ آمریت اس ملک پر پہلے بھی مسلط رہ چکی، ایوان میں حملے کے بعد ملک میں صدارتی نظام کی باتیں ہوئیں، اس ملک میں صدارتی نظام نہیں چل سکتا، آئین پارلیمانی ہے، یہ ایوان صدارتی نظام کے خلاف قرار داد پاس کرے، صدراتی نظام کے خلاف بات کرنا میرا فرض ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اس بجٹ میں عوام کے لیے کچھ نہیں، مہنگائی عروج پر ہے، کیا وزیرِ خزانہ آٹے چینی کی قیمت کم کرسکتے ہیں؟ ہر چیز کی قیمت اس بجٹ کے بعد بڑھے گی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافہ ہونا چاہیئے، اس مہنگائی میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف سے ان کو کیا ملے گا؟ سرکاری ملازمین کو بجٹ میں نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر بجلی کی قیمت بڑھائی جائے گی، سرکاری ملازم غربت کی سطح سے نیچے چلا گیا ہے، وزیرِ دفاع پرویز خٹک نے نیا معاشی فارمولا بتایا ہے، وہ کہتے ہیں کہ مہنگائی ہوگی تو ترقی ہو گی، وزیرِ دفاع کی اپنی وزارت کے بجٹ کی افادیت 30 فیصد کم ہو گئی ہے، پرویز خٹک عجیب منطق لائے ہیں۔

سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ کابینہ میں ایسے لوگ ہیں جن کا کروڑوں کا گھر اور گاڑیاں ہیں، اس ایوان میں بھی پیسے والے لوگ موجود ہیں، لیکن ٹیکس نہیں دیتے، اس ملک میں صرف ارکانِ پارلیمنٹ کے ٹیکسوں کی ڈائریکٹری چھپتی ہے، ججوں اور بیورو کریسی کے ٹیکس کا کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ہر آدمی کے اخراجات کا حکومت کے پاس ریکارڈ موجود ہے، ایوان کے ارکان سے پوچھا جائے کہ وہ ٹیکس دیتے ہیں یا نہیں، جو رکن ٹیکس نہیں دیتا وہ کیوں نہیں دیتا؟ جو خود ٹیکس نہ دے وہ عوام پر ٹیکس کیسے لگا سکتا ہے؟ چار سال بعد ہم وہیں ہوں گے جہاں پہلے تھے، کہا جاتا ہے کہ خواتین کے کم کپڑے پہننے سے مردوں کے جذبات ابھرتے ہیں۔

نون لیگی رہنما نے کہا کہ گردشی اور ملکی و غیر ملکی قرضے کہاں پہنچ گئے، ماہرین کہتے ہیں کہ اگر یہ حکومت 5 سال پورے کر گئی تو قرضے دگنے ہو جائیں گے، زراعت کی گروتھ دکھا کر ترقی ظاہر کرنا چاہتے ہیں، وزیرِ خزانہ کہتے ہیں کہ ملک میں گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کل کابینہ نے گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی، کیا باہر کی گندم سے چپاتی اچھی بنتی ہے؟ کیا باہر کی چینی زیادہ میٹھی ہوتی ہے؟ فصل ریکارڈ ہوئی لیکن ہم گندم چینی باہر سے منگوا رہے ہیں، اس طرح کے انوکھے فیصلے یہی حکومت کر سکتی ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزراء پارلیمنٹ میں صرف چور کا لفظ استعمال کرتے ہیں، چور کا لفظ حذف ہوا تو وزراء کی تقریروں کا آدھا ریکارڈ غائب ہو جائے گا، وزیروں کی تقاریر میں غلط بیانی بار بار کرنا شامل ہے، اتنی غلط بیانی کرتے ہیں کہ خود اس پر یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں، معیشت اور بجلی پر وہ وزیر تقریر کرتے جو اس وزارت سے نکالے گئے، وزیراعظم نے نااہلی پر ان وزراء کو نکالا۔

قومی خبریں سے مزید