• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال :۔ کسی شخص کا قربانی کا جانور بیمار ہو جائے تو اسے فروخت کر کے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب :۔ اگر کسی صاحب نصاب شخص نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا، پھر وہ جانور بیمار ہوگیا تو دیکھا جائے گا کہ اگر بیماری کی وجہ سے جانور ایسا عیب دار ہوجائے جس کی قربانی نہیں ہوسکتی تو اس پر ضروری ہوگا کہ وہ عیب دار جانور کی جگہ پر کسی دوسرے جانور کی قربانی کرے، لیکن اگر جانور بیماری کی وجہ سے عیب دار نہ ہوا ہو تو اس جانور کی جگہ دوسرے جانور کی قربانی کرنا ضروری نہیں ہوگا۔ 

دونوں صورتوں میں پہلے جانور کو بیچ کر دوسرا جانور خریدنا جائز تو ہے لیکن دوسری صورت میں قربانی کی نیت سے خریدے گئے جانور کو بیچنا مناسب نہیں ہے ۔دوسرا جانور خریدتے وقت اس بات کا خیال رکھنا پڑے گا کہ وہ پہلے جانور سے کم قیمت والا نہ ہو، اگر دوسرا جانور پہلے کی قیمت سے کم قیمت میں خرید لیا تو دونوں جانوروں کی قیمت کے فرق کے بقدر رقم صدقہ کرنی پڑے گی۔

اگر کسی غریب (جس پر صاحب نصاب نہ ہونے کی وجہ سے قربانی واجب نہ ہو) نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا اور پھر قربانی سے پہلے وہ جانور بیمار ہوگیا تو اس پر چونکہ قربانی کا یہ جانور خریدنے کی وجہ سے اس جانور کی قربانی لازم اور واجب ہوئی ہے، اس لئے اس شخص کے حق میں یہی جانور قربانی کرنے کے لئے متعین ہےاوراس پر اسی جانور کی قربانی کرنا لازم ہے۔(الفتاویٰ الھنديۃ (5/ 294)۔الدر المختار وحاشيۃ ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 325)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk