• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید خطرات کا سامنا ہے، امین اسلم

اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے شدید خطرات کا سامنا ہے جس کے لئے حکومت خصوصی و ترجیحی اقدامات اٹھا رہی ہے بالخصوص بڑھتے ہوئے در جہ حرارت کی وجہ سے گلیشئیر کے پگھلاؤ کے عمل میں شدت اور بارشوں کے نظام میں خلل جیسی آفات شامل ہیں۔اس امر کا اظہار ملک امین اسلم نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیراہتمام ’’شفاف توانائی کی طرف بڑھنے کے عمل ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ عالمی کانفرنس سے کیا، انہوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی اور قابل تجدید توانائی جیسے منصوبوں پر خصوصی توجہ دینے کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے،نئے سال کے مالی میزانیہ میں شفاف توانائی و شمسی توانائی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر بجٹ مختص کیا گیا ہے تاکہ ماحولیاتی نظام کی بحالی ممکن ہو سکے،قومی اسمبلی کی رکن شاندانہ گلزار نے کہا کہ روائتی تجارتی اسلوب کو تبدیل کر کے جدت لانے کے عمل کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے تا کہ شفاف توانائی کی جانب سفر میں آسانی اور تیزی آ سکے، انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کے حصول اور کورونا کے اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے سر براہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس امر کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے کہ شفاف اور قابل تجدید توانائی صارف کی قوت ِ خرید پر اثر انداز نہ ہو سکے، کلین انرجی نیکسس کے ڈینی کینیڈی نے کہا کہ ریاست کیلی فورنیا نے قابل تجدید توانائی کی جانب کامیاب پیش رفت کی ہے ۔ اس تجربہ کا فائدہ پاکستان اٹھا سکتا ہے، ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے شیراز انور ،شعبہ توانائی کے ماہر فیصل شریف، بورڈ آف انوسٹمنٹ خیبر پختونخوا کے سر براہ حسن داؤد بٹ ، پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مصطفی حیدر سید ، ڈاکٹر فاطمہ خوشنود ، ایس ڈی پی آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرپرسن ایمبیسڈر شفقت کاکاخیل نے بھی خطاب کیا۔
تازہ ترین