اسلام آباد:(انصار عباسی)…پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ بڑی کمپنیاں کارپوریٹ رپورٹنگ میں اب بھی صرف درمیانے درجے کی شفافیت کا مظاہرہ کر رہی ہیں، جبکہ انسانی حقوق، ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) سے متعلق امور اور انسدادِ بدعنوانی کے پروگراموں کے بارے میں معلومات کا افشا ان کی بڑی کمزوریوں کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ بات ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایک نئے جائزے میں سامنے آئی ہے۔ کارپوریٹ رپورٹنگ میں شفافیت کا جائزہ (ٹی آر اے سی) 2026، جس میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ 104؍ پبلک لمیٹڈ کمپنیوں کا احاطہ کیا گیا، میں اوسط اسکور 66.73؍ فیصد، یعنی 10؍ میں سے 6.67؍ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اسکور گزشتہ رپورٹ میں ریکارڈ کیے گئے 72.3؍ فیصد کے اوسط سے نمایاں طور پر کم تھا، جس میں 69؍ کمپنیوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی کمپنیوں میں معلومات افشا کرنے کے طریقۂ کار میں شفافیت کمزور پڑنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) کے مطابق، کسی بھی کمپنی نے مجموعی شفافیت میں مکمل اسکور حاصل نہیں کیا، تاہم آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی)، فوجی سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ سرفہرست کارکردگی دکھانے والی کمپنیاں رہیں، جنہوں نے بالترتیب 92.71؍ فیصد، 91.67؍ فیصد اور 91.04؍ فیصد اسکور حاصل کیے۔ جائزے میں انسانی حقوق اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) یعنی کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی کے شعبوں میں معلومات افشا کرنے کی سب سے کمزور کارکردگی سامنے آئی، جہاں کمپنیوں کا اوسط اسکور محض 45.98؍ فیصد رہا۔ اس کے بعد ای ایس جی سے متعلق معلومات کا اسکور 47.84؍ فیصد رہا، جبکہ انسدادِ بدعنوانی کے پروگراموں میں اوسط اسکور 53.41؍ فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ یہ نتائج کارپوریٹ جواب دہی اور ذمہ دارانہ کاروباری طریقوں سے متعلق عوامی طور پر دستیاب معلومات میں نمایاں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، کمپنیوں نے اپنے تنظیمی ڈھانچوں اور ملکی مالیاتی معلومات کی رپورٹنگ میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ تنظیمی شفافیت کا اوسط اسکور 92.49؍ فیصد رہا، جبکہ ملکی مالیاتی رپورٹنگ میں 92.50؍ فیصد اسکور حاصل کیا گیا۔ رپورٹ میں دونوں شعبوں کو نمایاں شفافیت کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ صنفی مساوات، عدم امتیاز اور معذور افراد کی شمولیت کے زمرے میں اوسط اسکور 68.11؍ فیصد رہا، جو درمیانے درجے کی شفافیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ میں معذور افراد کی شمولیت اور امتیازی سلوک کی شکایات درج کرانے کے طریقۂ کار سے متعلق معلومات کے افشا میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ انسانی حقوق اور سی ایس آر کے زمرے میں صرف فوجی سیمنٹ نے معلومات کے افشا میں مکمل شفافیت حاصل کی، جبکہ 11؍ کمپنیوں کو نمایاں طور پر شفاف قرار دیا گیا۔ جائزے میں انسانی حقوق سے متعلق احتیاطی اقدامات، بچوں سے مشقت کی روک تھام، ملازمین کی حفاظت، اجرتوں کی ادائیگی کے طریقۂ کار اور شکایات کے ازالے کے نظام سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں کارپوریٹ انسدادِ بدعنوانی سے متعلق معلومات کے افشا میں بھی خامیوں کو اجاگر کیا گیا، بالخصوص عملے کی تربیت، پالیسیوں سے آگاہی اور بدعنوانی سے متعلق خدشات کی رپورٹنگ کے طریقۂ کار کے حوالے سے۔ او جی ڈی سی، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، پاکستان ٹوبیکو کمپنی لمیٹڈ اور لکی کور انڈسٹریز لمیٹڈ نے اس زمرے میں سب سے زیادہ اسکور حاصل کیا۔ تاہم، موجودہ اور گزشتہ رپورٹوں، دونوں میں شامل 63؍ کمپنیوں کا تقابلی جائزہ نسبتاً حوصلہ افزا تصویر پیش کرتا ہے۔ ان کمپنیوں کا اوسط مجموعی اسکور 72.01؍ فیصد سے بڑھ کر 78.45؍ فیصد ہو گیا، جو تقریباً 8.9؍ فیصد بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ پیش رفت ان سوالات پر بہتر کارکردگی کے باعث ممکن ہوئی جو دونوں رپورٹوں میں یکساں رہے۔ یہ جائزہ عوامی طور پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کیا گیا، جن میں کمپنیوں کی 2024ء اور 2025ء کی تازہ ترین سالانہ رپورٹیں، سرکاری ویب سائٹس اور دیگر عوامی دستاویزات شامل تھیں۔ اس میں کارپوریٹ معلومات کے افشا کے 8؍ شعبوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں انسدادِ بدعنوانی کے پروگرام، تنظیمی شفافیت، ملک وار رپورٹنگ، ملکی مالیاتی رپورٹنگ، سرکاری معاہدوں سے متعلق خریداری، انسانی حقوق، صنفی مساوات اور معذور افراد کی شمولیت، نیز ای ایس جی سے متعلق معلومات کا افشا شامل ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے واضح کیا کہ یہ جائزہ اس بات کی پیمائش کرتا ہے کہ کمپنیاں کتنی معلومات افشا کرتی ہیں، نہ کہ اس بات کی کہ وہ رپورٹ کردہ پالیسیوں پر حقیقتاً عمل بھی کرتی ہیں یا نہیں۔ لہٰذا، کم اسکور لازماً غیر اخلاقی طرزِ عمل کو ثابت نہیں کرتا، بالکل اسی طرح جیسے بلند اسکور مؤثر عمل درآمد کی ضمانت نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود، رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ کارپوریٹ معلومات کا جامع افشا سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانے، عوامی اعتماد بہتر کرنے اور گورننس کے خطرات کم کرنے کیلئے اہم ہے۔ بدعنوانی اور محصولات کی کمزور وصولی جیسے مسائل سے دوچار ملک میں رپورٹنگ کے مضبوط معیارات کارپوریٹ جواب دہی کا مظاہرہ کرنے اور کاروباری ماحول کو مزید شفاف بنانے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔