• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت کا ویکسین کے 5 مختلف تجربات کی اجازت دینے سے انکار


حکومت پاکستان کی نیشنل بائیو ایتھکس کمیٹی (این بی سی) نے کورونا ویکسین کے پانچ مختلف تجربات کی اجازت اخلاقی بنیادوں پر دینے سے انکار کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو گنی پگز ( Guinea Pigs) یا تجرباتی چوہے بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

نیشنل بائیو ایتھکس کمیٹی آف پاکستان کے حکام نے جنگ کو بتایا کہ پاکستان کی چند مقامی اور ملٹی نیشنل فارماسوٹیکل کمپنیوں نے کورونا ویکسین کی میسنجر آر این اے اور دیگر روایتی ویکسینز کے 5 تجربات کرنے کے لئے درخواستیں دیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹرائلز کراچی کے آغا خان اسپتال اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور میں منعقد ہونا تھے۔

این بی سی کے حکام کا کہنا تھا کہ یہ تجربات "پلیسیبو کنٹرول ڈبل بلائنڈ اسٹڈیز" کہلاتے ہیں، جن میں میں آدھے افراد کو پلیسیبو یا سادہ پانی لگایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنے شہریوں کو تجربات کی بھینٹ چڑھانے کی اجازت نہیں دے سکتے، اس لئے ان فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور اسپتالوں کو کہا کہ چونکہ اب ملک میں مختلف اقسام کی کورونا ویکسین موجود ہیں اس لیے ان تجربات میں حصہ لینے والے افراد کو پلسیبو کی جگہ پاکستان میں موجود مختلف ویکسین لگائی جائیں۔

این بی سی کے حکام کا کہنا تھا کہ ایک چینی کمپنی میسنجر آر این اے ویکسین کے تجربات پاکستان میں کرنا چاہتی ہے جبکہ چند دیگر یورپی کمپنیاں مقامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر روایتی ویکسین کے تجربات بھی پاکستان میں کرنا چاہتی ہیں۔

یہ کمپنیاں میسنجر آر این اے اور دیگر روایتی ویکسینز کے تجربات کرنے کی اجازت مانگ رہی ہیں لیکن ہم ان تجربات کے دوران ہزاروں شہریوں کو پلیسیبو یا سادہ پانی لگانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

این بی سی حکام کا کہنا تھا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیاں اور ان تجربات کے پرنسپل انویسٹیگیٹرز تجربات کے دوران شہریوں کو پلیسیبو یا سادہ پانی کی جگہ پاکستان میں موجود ویکسین لگانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

نیشنل بائیو ایتھکس کمیٹی کے حکام کا کہنا تھا کہ تجربات کے دوران پلیسیبو لگنے کی وجہ سے شہریوں کو کورونا انفیکشن ہونے اور موت کا خدشہ ہے، ملک میں مختلف ویکسینز ہونے کے باوجود ہزاروں شہریوں کو پلیسیبو لگانا اخلاقی طور پر درست نہیں، تجربات میں مصروف کمپنیوں اور اداروں کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

دوسری جانب ویکسینز کے ٹرائلز کی کوششیں کرنے والی کمپنیوں کے حکام کا کہنا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی ابھی پلیسیبو کی جگہ کورونا ویکسین نہیں لگائی جارہی، جن لوگوں کو پلیسیبو لگے گا ان کی صحت کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جبکہ ان کو مناسب معاوضہ بھی فراہم کیا جائے گا۔

قومی خبریں سے مزید