• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کلہوڑا خاندان کا دور سندھ کی تاریخ کا درخشاں با ب تھا، جس کے آثار آج بھی خطے میں جا بجا نظر آتے ہیں۔ مغل سلطنت کے دور میں ملتان کے گورنر ، شہزادہ معزالدین نے کلہوڑاحکمرانوں کواپنے زیر نگین رکھنے کے لیے 1700ء میں ان کے مرکزی گائوں گاڑہی (موجودہ تحصیل خیرپور ناتھن شاہ) پر حملہ کیا، جس پر کلہوڑا سردار میاں دین محمد کی حکومت تھی۔ گاج ندی کے کنارے کھوڑ (ٹوڑ) کے مقام پر خوں ریز لڑائی ہوئی، جس میں فریقین کے بے شمار سپاہی مارے گئے۔

کلہوڑو کو شکست ہوئی اور ان کے سردار میاں دین محمد کلہوڑو گرفتار ہوئے، جنہیں ملتان لے جاکر ان کے 25 ساتھیوں کے ساتھ سزائے موت دی گئی۔ ان کے چھوٹے بھائی میاں یار محمد کلہوڑونے خیرپور ناتھن شاہ سے فرار ہوکر خان آف قلات کے پاس پناہ لی۔ ایک سال بعد1701ء میں میاں یارمحمد کلہوڑو سندھ آئے اور گائوں گاہا (تحصیل جوہی) میں’’ میانوال تحریک‘‘ کو فعال کیا اور سامتانی، مرکھپور اورفتح پور (اب دادو ضلع کے گائوں) کے علاقوں میں اپنا اثرنفوذ بڑھایا۔ انہوں نے مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے پاس ایلچی بھیجا جس نے انہیں ’’ خدایار‘‘ کا لقب دے کر سندھ پرحکم رانی کی سند عطا کی۔

خدایار خان نے ضلع دادو میں’’ گاہا گائوں‘‘ کے قریب پنہور قبیلے کی “شکارپور پنہور‘‘ نامی بستی میں’’ خدا آباد‘‘ کے نام سے نیا شہرتعمیر کراکر اسے اپنا دارالحکومت قرار دیا۔ مورخین کے مطابق خدا آبادشہر وسیع و عریض رقبے پر محیط تھا۔ کلہوڑا حکم رانوں نے اس میں بے شمار تعمیرات کرائی تھیں۔ یہاں حکمرانوں کی حویلیوں، محلات کے علاوہ دیگر فلک بوس اور خوبصورت عمارتیں تھیں۔

شہر کے عین وسط میں حکم رانوں کی رہائش کے لیے ایک محل تعمیر کرایا گیا تھا جو تعمیراتی فن کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ اس کی عمارت اتنی بلند و بالا تھی کہ اس کی بلندی کی پیمائش کے لیے’’ اصطرلاب‘‘(ایک آلہ جس سے ستاروں کی بلندی ، مقام اور رفتار دریافت کرتے ہیں) اس شہر میں بڑے باغات تھے جن میں سو، بہی، ترنج، صنوبر، ناشاپاتی کے درخت اور انگور کی بیلیں لگی ہوئی تھیں۔ 

پھولوں میں گلاب، چنبیلی، نرگس، نسرین، نیلوفر، سوسن، سنبل، ہزارہ، گل خیرو کے پودے لگے ہوئے تھے، جب کہ ان میں مختلف اقسام کے پرندے جن میں کبوتر، تدرو، کبک اور اور دیگر، چہچہاتے پھرتے تھے۔ ایک باغ کا نام ’’علی باغ‘‘ تھا۔ اس میں نہریں بہتی تھیں جب کہ قریب ہی شکار گاہ تھی۔ نہر کے کنارے ہر وقت ایک کشتی موجود رہتی تھی، جس پر کلہوڑا حکم راں سیر کیا کرتے تھے۔ 

مورخین نے اس شہر میں ایک بازار کی موجودگی کی بھی نشان دہی کی ہے جس کے صرف کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں۔ خدا آباد سے ایک میل کے فاصلے پر میاں یار محمد کلہوڑا کا مقبرہ ہےجسے میاں غلام شاہ کلہوڑا نے تعمیر کرایا تھا۔ یہ مربع شکل کی عمارت ہے جس پرخوب صورت گنبد بھی بنا ہوا ہے۔

میاں یارمحمد نے جامع مسجدکی بنیاد رکھی جسےان کے بیٹے، میاں نور محمد کلہوڑو نے تعمیر کرایا،جو اسلامی فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے ۔اس کی دیواریں مغلیہ اوراسلامی نقش و نگار سے آراستہ ہیں۔ قبہ (گنبد) اتنا بلند ہے کہ آسمان کو چھورہا ہے۔ نقش و نگار میں ((شنگرف ‘‘ کو با افراط استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے صحن کے دو حصےتھے، ایک 80فٹ لمبا اور 21فٹ چوڑا جب کہ دوسرا 80فٹ لمبا اور 25 فٹ چوڑا ہے۔ 

مرکزی دروازے پر دونوں جانب کاشی کاری کاخوب صورت کام کرایا گیا۔ہر ٹائل پر کنول کا پھول منقش ہے، جس کے پتے دائیں بائیں گرتے ہوئے نظر آتے ہیں جب کہ اس پھول کے اندر بھی بے شمار پھول بنائے گئے ہیں۔ تین صدیوں قبل یہ مسجد اس انداز سے تعمیر کرائی گئی تھی کہ جنگ کے زمانے میں اسے قلعہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ دیواروں میں خفیہ راستے بنائے گئے تھے جو اس کے معماروں کی مہارت کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ ان خفیہ راستوں سے جنگ کے دوران عسکری مدد حاصل کی جاتی تھی۔

میاں غلام شاہ خان کلہوڑاکے عہد حکومت تک اس شہر کی رونق، حسن اور عظمت میں اضافہ ہوتا رہا۔ جب انہوں نے اپنا دارالحکومت حیدرآباد منتقل کیا توان کے درباری، ملازمین اور تاجروں کی بڑی تعداد بھی وہیں منتقل ہوگئی جس کے بعد خدآباد کی رونقیں ماند پڑنے لگیں۔ دارالخلافہ کی منتقلی کے بعد ٹالپڑ اور کلہوڑوں میں اختلافات پیدا ہوئے جو قتل و غارت گری تک جا پہنچے۔1781ء میں عبدالنی کلہوڑا نے عبداللہ خان ٹالپڑاور فتح خان ٹالپڑ کو قتل کرادیاجس کا انتقام لینے کے لیے انہوں نے خدا آباد پر حملہ کردیا ۔ 

لوٹ مارکے بعد مکانوں اور خوب صورت عمارتوں کو آگ لگا دی گئی ، جس کی وجہ سے اس کی خوب صورت تعمیرات، باغات ، محلات نیست و نابود ہوگئے ۔ اب یہاں اس دور کی صرف دو عمارتیں باقی بچی ہیں، میاں یار محمد کلہوڑا کا مقبرہ اور جامع مسجد۔ خدا آباد کی سیر کی غرض سے آنے والے سیاحوں میں سے بعض نے اس کے خوب صورت ٹائلوں کو اکھاڑنے کی کوششیں بھی کیں جس کی وجہ سے وہ جگہ جگہ سے ٹوٹ گئی ہیں۔ اگر حکومت اور محکمہ قدیم آثار نے ان بچے کچھے آثار کو محفوظ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کیا تو دیگر عمارتوں کی طرح ان کے صرف کھنڈرات باقی رہ جائیں گے۔

غلام رسول مہرؔ (کتاب تاریخ سندھ سے ایک باب)