• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایس ایچ او سمیت 6 ملازمین کی معطلی کا سبب بننے والا ایک نوجوان پولیس مقابلہ میں شدید زخمی

راولپنڈی(وسیم اختر،سٹاف رپورٹر) تھانہ کینٹ کے ایس ایچ اوسمیت 6پولیس ملازمین کی معطلی کاسبب بننے والے چارافرادمیں سے ایک نوجوان ضلع اٹک میں ہونے والے مبینہ پولیس مقابلہ میں شدیدزخمی ہوگیا۔ 29اور30جون کی درمیانی سی پی اوراولپنڈی نےایس ایچ او کینٹ اعزاز عظیم، اے ایس آئی اسحٰق، اے ایس آئی عامر، محرر محمد علی، ڈی ایف سی علی، اور کانسٹیبل عابد کومعطل کرکے پولیس لائنز رپورٹ کرنے کا حکم دیا، ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق سٹی پولیس آفیسر محمد احسن یونس کو ایک شہری نے شکایت کی کہ تھانہ کینٹ کے سٹاف نے مشکوک گاڑی قبضہ پولیس میں لی اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی بجائے رشوت طلب کی جس پر سی پی اومحمداحسن یونس نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ اوکینٹ سمیت 6پولیس افسران کو معطل کردیا،ابتدائی انکوائری میں الزامات درست ثابت ہونے پرکارروائی کی گئی اس معاملے کی مفصل انکوائری ایس ایس پی آپریشنز شعیب محمود اور ایس پی پوٹھوہار تصور اقبال کوسونپی گئی ہے۔اس حوالے سے الزامات میں یاحقیقت ہے یہ انکوائری رپورٹ سامنے آنے پرمعلوم ہوگا۔ تاہم واقعات کے مطابق 29جون کی رات اے ایس آئی عامرمحمودنے تھانہ کینٹ میں رپٹ نمبر 45/2 درج کی کپیٹل سینماچوک میں موجودتھاکہ گاڑی نمبر اے جی ای 769 کار،ماڈل 2017 مال روڈکی طرف سے آئی جس کومشکوک جان کرروکاگیاڈرائیورنے اپنانام وپتہ آصف خان ولدنیک محمدڈاک خانہ چکدری تحصیل ادن زئی ضلع لوئردیربتایاجوگاڑی کی ملکیت بارے کوئی ثبوت نہ دے سکا گاڑی کے انجن وچیسزنمبربھی مشکوک پائے گئے گاڑی مشتبہ السرقہ جانتے ہوئے زیردفعہ 550ض ف قبضہ پولیس میں لی گئی اسی دوران ایک اورگاڑی نمبراے زیڈیو139سندھ کوبھی روکاگیا ڈرائیورنے اپنانام وپتہ اعتزازاحمدولدسعیداللہ قلعہ ہیروشاہ تحصیل درگئی ضلع مالاکنڈ بتایاجوگاڑی کی ملکیت بارے کوئی ثبوت نہ دے سکااسے بھی زیردفعہ 550ض ف قبضہ پولیس میں لیاگیا ہردوڈرائیوروں کومخلصی دی گئی مذکورہ دونوں گاڑیوں کی آئندہ فرانزک لیبارٹری کروائی جائے گی۔جب کہ اسی تھانہ میں اسی رات اے ایس آئی اسحاق کی جانب سے رپٹ درج کی گئی کہ ٹیکسلاسٹینڈ چوک موجودتھاکہ گاڑی نمبر ایل ای 247برنگ سلورزیارت معصو م شاہ کی طرف سے آئی جس کومشکوک جان کرروکاگیا۔ ڈرائیورنے اپنانام وپتہ باسط احسان ولداحسان اللہ سکنہ قلعہ ڈاک خانہ ہیروشاہ تحصیل درگئی ضلع مالاکنڈبتایاجوکہ گاڑی کی ملکیت کاکوئی ثبوت نہ دے سکاجسے احاطہ تھانہ میں زیردفعہ 550ض ف بندکیاگیا۔ ذرائع کے مطابق اس دوران ایک شخص تھانہ کینٹ پہنچاجس نے اپناتعارف ایف آئی اے کے افسرکے طورکرایااورخودکوملزم باسط کاانکل بتایا اورپولیس ملازمین سے کہاکہ پراونشل پولیس افسرپنجاب اس کے فرسٹ کزن ہیں ۔اس نے افسروں کوفون کئے اورتھوڑی دیربعدراولپنڈی پولیس کے دوسینئرپولیس افسرتھانہ کینٹ پہنچ گئے اس دوران مذکورہ شخص کووی آئی پی پروٹوکول دیاگیا اوراس کی تواضع کیلئے پیزا اورکولڈدرنکس منگوائی گئیں ۔29جون کی رات ساڑھے گیارہ بجے ایس ڈی پی اوکینٹ سرکل نے بھی ایک رپٹ لکھی جس کے مطابق زاہدانورکی درخواست افسران بالاکی طرف سے موصول ہوئی جس کی انکوائری تھانہ کینٹ میں کی گئی جو4افرادجن کے نام جنیداخترولد ریداللہ ضلع مالاکنڈ،باسط احسان ولد احسان اللہ ،اعتزازاحمدولد سعیداللہ ساکنائے مالاکنڈ اورآصف خان ولد نیک محمد سکنہ لوئردیر اورپاسوگاڑی نمبر اے زیڈڈبلیو 139بھی کھڑی پائی گئی جوپولیس ملازمین وہاں موجودتھے جنہوں نے بتایاکہ یہ گاڑی مذکورہ افرادسے برآمدہوئی ہے جوکہ مشکوک ہے جس کوزیردفعہ 550ض ف قبضہ پولیس میں لیاجاتاہے مزیدانکوائری مکمل ہونے تک مندرجہ بالاافرادکومخلصی دی جاتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق نہ صرف چاروں افرادمذکورہ شخص اپنے ہمراہ لے گیا بلکہ پولیس ملازمین نے انہیں پانچ لاکھ روپے بھی اداکئے ایک پولیس ملازم نے اپنانام افشا نہ کرنے کی شرط پربتایاکہ افسروں تک رسائی حاصل کرنے کے بعد مذکورہ افرادنے ہم سے پانچ لاکھ روپے کی ڈیمانڈکی اورکہاکہ یہ ہمارادستورہے کہ صلح کرنے پررقم بھی لی جائے مرتے کیانہ کرتے ہم نے پانچ لاکھ روپے جمع کرکے ان کے حوالے کئے۔ادھر اس واقعہ کے تین روزبعد دوجولائی کی شام ضلع اٹک کے تھانہ حضرومیں ہونے والے مبینہ پولیس مقابلہ میں ایک شخص جاں بحق اورایک شدیدزخمی ہوگیاپویس کے مطابق کارنمبر 780میں سوار افرادنے برہان انٹرچینج کے قریب پولیس ملازمین پرفائرنگ کی جس پرپولیس نے موٹروے روڈچھچھ انٹرچینج پل کے نزدیک ناکہ بندی کی ہوئی تھی کہ مذکورہ کارآئی جس کوروکنے کی کوشش کی گئی جس میں سوارتین افراد نے گاڑی سے اترکرپولیس پرفائرنگ کی اوردوافراد اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے زخمی ہوکرگرپڑے جب کہ ان کاتیسراساتھی فائرنگ کرتے ہوئے بھاگ گیا۔ان میں سے ساجد محمدولدعبدالرحمٰن جاں بحق جب کہ آصف خان ولدنیک محمدسکنہ امیرآبادچکدرہ لوئردیرشدیدزخمی ہوگیاجسے تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال حضرومیں داخل کرادیاگیا لیکن بعدازاں اسے اس کے گھروالوں کے حوالے کردیاگیاجواسے اپنے ہمراہ لے گئے،ذرائع کے مطابق آصف خان ان چارافرادمیں سے ایک ہے کہ جسے تھانہ کینٹ پولیس نے مشتبہ گاڑیوں کے ہمراہ پکڑاتھا ۔اس سارے معاملے کی تحقیقات اعلیٰ سطح پرہونی چاہئے ،اس ضمن میں پولیس حکام نے چپ سادھ لی ہے اورکوئی افسربات کرنے کوتیارنہیں ہے لیکن نجی محفلوں میں پولیس ملازمین مطالبہ کررہے ہیں کہ اس حوالے سے محکمہ پولیس سے ہٹ کراعلیٰ سطح پرانکوائری ہونی چاہیے ۔جب کہ معطل ہونے والے پولیس ملازمین کی انکوائری بھی جاری ہے۔
تازہ ترین