• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

’اولمپکس میں اچھی کارکردگی دکھانے کی کوشش کروں گا‘

پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کی درخواست پر انٹر نیشنل اولمپک کمیٹی کے اولمپک کھیلوں کے سہ فریقی کمیشن نے انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (آئی ڈبلیو ایف) کی اجازت سے پاکستان کے ویٹ لفٹر طلحہ طالب کو ٹوکیو اولمپکس گیمز میں شامل کرلیا ہے، وہ67 کلوگرام میں ملک کی نمائندگی کریں گے، وہ پہلی مرتبہ اولمپکس گیمز میں شر کت کریں گے، طلحہ طالب نے پاکستان کے لئے دولت مشترکہ( کامن ویلتھ گیمز) میں کانسی ، ساؤتھ ایشین گیمز (طلائی) اور بین الاقوامی یکجہتی ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں (گولڈ) میڈلز جیت چکے ہیں۔ 

اولمپکس کا ٹکٹ ملنے کے بعد جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے پاکستان واپڈا کےقومی ویٹ لفٹر طلحہ طالبنے کہا کہ اولمپکس گیمز میں نمائندگی کا اعزاز میرےخواب کی تعبیر ہوگا، 46سال کے طویل عرصے بعد پہلا ویٹ لفٹر بنوں گا جو ان کھیلو ں میں حصہ لے گا،واضح رہے کہ 1976 کے مانٹریال اولمپکس گیمز میں پاکستان کے ارشد ملک اور محمد منظور نے پاکستان کی جانب سے حصہ لیا تھا، جنگ سے بات چیت کرتے ہوئےطلحہ طالب نے کہا کہ، خوشی ہے کہ میں اب اولمپین کہلاؤں گا، میں نے بہت تیاری کی ہوئی ہے، میڈل کے لیے فائٹ کروں گا۔ 

تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ ان کے پاس ٹریننگ کے لئے مناسب جگہ اور سہولت نہیں ہے، ایک سال سے جہاں ٹریننگ کر رہا ہوں وہ مناسب جگہ نہیں ہے، میں ایک اسکول میں ٹرییننگ کرتا ہوں، یہ ایک پرائیویٹ جگہ ہے، مجھے ڈیڈ لائن ملی ہوئی ہے کہ میں پہلی اگست کوجگہ خالی کردوں، حکومت سے التماس ہے کہ مجھے جم کے لیے جگہ فراہم کی جائے، اگر مجھے جگہ ناملی تو میرا کیرئیر ختم ہو جائے گا،ویٹ لفٹر نے بتایا کہ کووڈ کی وجہ سے بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جم بند تھے تو میں گھر کی دوسری منزل پر ٹریننگ کرتا رہا، ٹریننگ کے لیے میں ذاتی طور پر اپنا سامان لیکر آیا تاکہ ٹریننگ میں وقفہ نہ آئے، میرے پاس معیاری سامان نہیں ہے۔ اور جب بھی بین الاقوامی سرکٹ میں حصہ لینے کے لئے جاتا ہوں تو مسائل کا سامنا رہتا ہے، گذشتہ تین سالوں سے وزیر اعظم کے پورٹل کے ذریعہ ریاست سے سامان اور مناسب ہال کی درخواست کررہا ہوں۔ 

لیکن اب تک اس کی درخواست سنی نہیں گئی ہے۔طلحہ نے کہا ہاں یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، جب بھی بیرون ملک جاتا ہوں تو مجھے وہاں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،آپ کے پاس بین الاقوامی معیار کے سازوسامان ہوں تواولمپکس میں میڈل جیتنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے والد محمد اسلام خود بھی ویٹ لفٹر ہیں، ان فٹ ہونے کی وجہ سے انہوں نے قومی ایونٹ میں حصہ لینا چھوڑ دیا تھا، وہ اب کوچنگ کررہے ہیں، انہوں نے میری ٹریننگ میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، مگر سہولتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے اچھے کھلاڑی اور بہتر نتائج سامنے نہیں آ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پوری کوشش ہوگی کہ اولمپکس گیمز میں اچھی کار کردگی کا مظاہرہ کروں۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید