• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی صنعت اب چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہوچکی ہے۔ البتہ، ہر نیا صنعتی دور اپنے شراکت داروں کے لیے جہاں نئے مواقع لاتا ہے، چیلنجز بھی اتنے ہی کٹھن ہوتے ہیں۔ کارپوریٹ لیڈرز، اپنی کمپنیوں اور اداروں کو نئے دور میں کاروبار کے لیے کس حد تک تیار کرچکے ہیں یا کررہے ہیں، اس کا جائزہ لینا آسان کام نہیں۔ سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ نئے دور میں کارپوریٹ لیڈرز کے لیے بُری خبر کیا ہے۔

بُری خبر: کاروبار کرنے کے روایتی طریقوں کو فوری طور پر بدلنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر یہ بُری خبر نہیں لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ تبدیلی کو قبول کرنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔

مستقبل (اورایک حد تک حال) ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ہے۔ ایک سروے کے مطابق، 10فی صد سے بھی کم کاروباری اداروں کے موجودہ ’بزنس ماڈلز‘ ڈیجیٹل دور کے تقاضے پورے کرنے کے قابل ہیں۔ صارف اہمیت، آمدنی میں اضافے اور مارکیٹ قیمت کے لحاظ سے موجودہ وقت میں کامیاب ترین بزنس ماڈل ’ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل‘ ہے۔ 

دنیا کی 10 سب سے زیادہ قیمتی اور قابلِ قدر کمپنیوں میں 70فی صد (ایمیزون، علی بابا، ایپل، مائیکروسافٹ وغیرہ) اور ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت رکھنے والے 70فی صد اسٹارٹ اَپس، جنھیں ’یونی کارن‘ کہا جاتا ہے، اس بزنس ماڈل پر عمل پیرا ہیں۔ 

توقع ہے کہ 2030ء تک 30فی صد عالمی معاشی سرگرمیاں ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل کے تحت وقوع پذیر ہوں گی، تاہم اس وقت 5 فی صد سے بھی کم روایتی کمپنیاں اس سلسلے میں کوئی مربوط لائحہ عمل رکھتی ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ، موجودہ کمپنیوں کے بورڈ پر موجود 10فی صد سے بھی کم اراکین ایسے ہیں جو ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل کی معیشت کو پوری طرح سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نتیجتاً، آج کے کارپوریٹ لیڈرز کی ایک بڑی تعداد، چوتھے صنعتی انقلاب کے لیے درکار تبدیلیوں کو اپنے اداروں میں متعارف کرانے کے لیے پراعتماد نہیں ہے۔

اچھی خبر: ہدف بہت بلند نظر ہے، تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ فوری طور پر حتمی نتیجے پر نظر رکھنے کے بجائے ہدف کے حصول کے لیے جزوی یا چھوٹے چھوٹے سنگِ میل مقرر کیے جاسکتے ہیں۔ کارپوریٹ لیڈرز، کاروبار کے روایتی طریقوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل پر منتقل کرنے کے لیے درج ذیل لائحہ عمل اختیار کرسکتے ہیں۔

1۔ آپ کا بورڈ اور ایگزیکٹو ٹیم ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل کی معیشت کو اچھی طرح سمجھتی ہے؟

آج کے کئی کارپوریٹ لیڈرز ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی محض سطحی اہمیت سے واقف ہیں، انھیں ابھی تک اس کی وسعت کا علم ہی نہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایک نیا رجحان ہے، جس کےبارے میں کم افسران جانتے ہیں۔ کارپوریٹ لیڈرز کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مقابلہ کرنے اور اشتراک میں کام کرنے کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار ہوسکیں۔

2۔ کیا آپ ایسا دلیرانہ لائحہ عمل رکھتے ہیں، جسے کارپوریٹ اور ڈیجیٹل اسٹریٹجی میں ضم کیا جاسکے؟

کارپوریٹ لیڈرز کو جب نئے مواقع اور خطرات کا ادراک ہوگا، تب ہی وہ اپنے ادارے کی نمو کے لیے تیار کردہ لائحہ عمل میں ڈیجیٹل سوچ کو شامل کرسکیں گے۔ اس کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ محتاط روابط اور ابلاغ پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ پانچ سال قبل چینی انشورنس کمپنی’پِنگ این‘ نے اعلان کیا تھا کہ وہ خود کو انشورنس کمپنی نہیں بلکہ ’ فائنانشل سروسز لائسنسڈ ٹیکنالوجی کمپنی‘ سمجھتی ہے۔

3۔ کیا آپ نے اپنا 10فی صد سرمایہ اور دیگر وسائل ڈیجیٹل پلیٹ فارم ماڈل کے لیے مختص کیا ہے؟

وقت آگیا ہے کہ آپ اپنے وسائل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل کریں، جس سے کمپنی کے تمام اسٹیک ہولڈرز مستفید ہوں گے۔ موجودہ وسائل میں سے کچھ حصہ نکال کر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں لگانا، آپ کے مستقبل کے لائحہ عمل کو حقیقت میں بدلنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔

4۔ کیا آپ نے انڈسٹری 4.0 کے پیشِ نظر اپنی کمپنی کے مقاصد پر دوبارہ غور کیا ہے؟

ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل، کمپنیوں کو روایتی اثاثہ جات میں سرمایہ کاری کیے بغیر اپنے صارفین کی خدمت کرنے کے لائق بناتاہے۔ ڈیجیٹل کمپنیاں محض متعدد فریقین کے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کرتی ہیں۔

5۔ کیا آپ کی کمپنی سوفٹ ویئر، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت میں اہلیت رکھتی ہے؟

علی بابا کے چیف اسٹریٹجی آفیسرمینگ زینگ نے اپنی کتاب’اسمارٹ بزنس‘میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ ان کی کمپنی کس طرح تمام سرگرمیوں میں بہتری لانے کے لیے سوفٹ ویئر، ڈیٹا اور مشین لرننگ میں سرمایہ کاری کرتی ہے، مثلاً حساب و شمار کے ذریعے ہر لین دین یا تبادلہ کو زیادہ مؤثر بنانا، سوفٹ ویئر کے ذریعے انسانی فیصلہ سازی کی نقل اُتارنا اور ایپلی کیشن پروگرامنگ اِنٹرفیس (اے پی آئی)کے ذریعے کمپنی کے اندر اور باہرڈیٹا کا بہاؤ۔ اس کا مقصد مشینوں کو زیادہ تر آپریشنل فیصلہ سازی کرنے کے لائق بنانا ہے تاکہ کمپنی مارکیٹ کی طلب کو زیادہ تیزی سے اختیار کرسکے۔

6۔ کیا اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے آپ نے جانچنے کے نئے معیارات تخلیق کیے ہیں؟

کمپنیوں کے پیمائش کے معیارات اکثر قلیل مدتی اور ماضی کے عکاس ہوتے ہیں۔ وہ موجودہ بزنس ماڈل کی کامیابی کی پیمائش پر تومرتکز رہتے ہیں، تاہم نئے بزنس ماڈلز کی کامیابی کے امکانات کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز شکل لینے میں اکثر تین سال، رواں ہونے میں پانچ سال اور بڑے پیمانے پر اثرپذیر ہونے کے لیے آٹھ سال لیتے ہیں۔ روایتی کمپنیاں اس طرح کے طاقتور ڈیجیٹل ماڈلز کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہیں، اس لیے پیمائش کے نئے معیارات کو سمجھنا ضروری ہے۔