سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن اور سابق صدر بل کلنٹن ایپسٹین دستاویزات سے متعلق آج کانگریس کمیٹی کے سامنے بیک وقت گواہی دیں گے، کمیٹی چیئرمین جیمز کومر نے اعلان کیا ہے کہ دونوں کے انٹرویوز کے ٹرانسکرپٹس کو عوام کے لیے جاری کیا جائے گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلیری کلنٹن نے گزشتہ روز بند کمرے میں ایک بیان بھی ریکارڈ کروایا ہے، تاحال یہ واضح نہیں کہ ہلیری کلنٹن کی ایپسٹین سے کبھی براہِ راست ملاقات ہوئی یا نہیں جبکہ وہ مسلسل اس بات کی تردید کرتی آئی ہیں۔
یہ پیش رفت بدنامِ زمانہ سرمایہ کار اور جنسی جرائم میں ملوث جیفری ایپسٹین سے متعلق حالیہ دستاویزات منظرِ عام پر آنے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اپنے حلفیہ بیان میں ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ مجھے ایپسٹین یا اس کی ساتھی گھسلین میکسویل کے جرائم سے متعلق کوئی ذاتی علم نہیں تھا اور نہ ہی میں محکمۂ انصاف کی کسی تحقیقات میں شامل رہی ہوں۔
’دی نیوز انٹرنیشنل‘ کی رپورٹ کے مطابق کلنٹن جوڑے نے ابتداء میں ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیو اوورسائٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا تھا تاہم توہینِ کانگریس کی کارروائی کے خدشے پر آمادہ ہو گئے۔
کمیٹی کے مطابق ایپسٹین نے کلنٹن کے دورِ صدارت میں وائٹ ہاؤس کے 17 دورے کیے، بل کلنٹن نے اعتراف کیا ہے کہ وہ 2000ء کی دہائی کے اوائل میں ایپسٹین کے طیارے میں سفر کر چکے ہیں تاہم کسی غیر قانونی کام کی تردید کی ہے۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بھی ماضی میں ایپسٹین سے سماجی روابط کے حوالے سے سامنے آ چکا ہے تاہم کمیٹی کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد انہیں کسی جرم سے نہیں جوڑتے۔
امریکی محکمۂ انصاف نے کانگریس کے قانون کے تحت ایپسٹین سے متعلق 30 لاکھ سے زائد صفحات جاری کیے ہیں، ان دستاویزات میں کئی بااثر شخصیات کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن میں امریکی وزیرِ تجارت ہوورڈ لٹنک اور ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب برطانیہ میں بھی تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے جہاں شہزادہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سمیت دیگر اہم شخصیات کے نام زیرِ تفتیش ہیں۔