• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آرٹیفیشل انٹیلیجنس سائبر سیکیورٹی کے مسائل حل کرنے سے کہیں زیادہ پیدا کر رہی ہے: رپورٹ میں انکشاف

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار ہونے والے سافٹ ویئر کی تیز رفتار ترقی سائبر سیکیورٹی کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہے جبکہ سیکیورٹی خامیوں کو دور کرنے کی رفتار اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ کم ہے۔

امریکی سیکیورٹی کمپنی ویراکوڈ Veracode کی جانب سے سالانہ ’اسٹیٹ آف سافٹ ویئر سیکیورٹی‘ رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق کمپنی کے کلاؤڈ پلیٹ فارم پر ٹیسٹ کی گئی 16 لاکھ ایپلیکیشنز کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ سافٹ ویئر میں نئی خامیاں پیدا ہونے کی رفتار ان کو ٹھیک کرنے سے زیادہ ہے جس کے باعث عالمی سطح پر سیکیورٹی کا خلاء بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ میں ’سیکیورٹی ڈیٹ‘ کو ان خامیوں سے تعبیر کیا گیا ہے جو ایک سال سے زائد عرصے سے درست نہیں کی گئیں، یہ مسئلہ اب 82 فیصد کمپنیوں کو متاثر کر رہا ہے جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 74 فیصد تھی۔ 

اسی طرح سنگین نوعیت کی خامیاں 8.3 فیصد سے بڑھ کر 11.3 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

ایپلیکیشنز کا جائزہ اسٹیٹک اور ڈائنامک ٹیسٹنگ، سافٹ ویئر کمپوزیشن اینالیسس اور دستی پینیٹریشن ٹیسٹنگ کے ذریعے لیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ جدید ٹولز پہلے کے مقابلے میں زیادہ خامیاں دریافت کر رہے ہیں تاہم اصل مسئلہ خامیوں کے بروقت ازالے میں ناکامی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تیزی سے تیار ہونے والا نیا کوڈ سیکیورٹی اصلاحات کی رفتار سے ہم آہنگ نہیں۔ 

اس کے علاوہ اے آئی سے تیار کردہ کوڈ میں تکنیکی پیچیدگی بھی زیادہ ہوتی ہے جسے درست کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب اے آئی ٹولز کو سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی اور خودکار اصلاح کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم ان سے غلط الرٹس اور پرامپٹ انجیکشن جیسے نئے خطرات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اوپن سورس سافٹ ویئر میں خامیوں کی تعداد میں معمولی کمی ضرور آئی ہے لیکن مجموعی طور پر سیکیورٹی مسائل کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید