• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن ہائیکورٹ نے ریکوڈک کیس میں پاکستان کی درخواست سماعت سے روک دی

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) لندن ہائی کورٹ نے پاکستان کو ریکوڈک کیس میں کرپشن الزامات کی معروضات سے روک دیا ہے۔98 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ کرپشن الزامات کی بنیاد پر نہیں تھا،اس لیے کمپنی کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ جب کہ صوبہ بلوچستان نے ٹی سی سی کے خلاف برطانوی ہائی کورٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی نے حکام کو بھاری رشوت دی تھی۔ 

تفصیلات کے مطابق، لندن ہائی کورٹ نے پاکستان کو ریکوڈک کیس میں کرپشن الزامات کی معروضات سے روک دیا ہے، جسے انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس (آئی سی سی) نے چیلنج کیا تھا اور اسے جزوی طور پر آسٹریلیا کی کان کنی کی کمپنی تیتھیان کوپر کمپنی (ٹی سی سی) کو دیا گیا تھا۔ 

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ حکومت بلوچستان سونا نکالنے والی کمپنی کے خلاف کرپشن الزامات کی درخواست نہیں دے سکتی کیوں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ریکوڈک کیس میں فیصلہ کرپشن الزامات کی بنیاد پر نہیں تھا۔ 

دی نیوز اور جیو کی جسٹس روبن نائولز کے 98 صفحات پر مشتمل فیصلے تک رسائی ہے۔ ہائی کورٹ آف جسٹس کا فیصلہ پاکستان کے لیے بری خبر ہے کیوں کہ پاکستان کی لیگل ٹیم سپریم کورٹ پاکستان کے فیصلے کی بنیاد پر پورے کیس کو ختم کرنا چاہتی تھی، لیکن لندن ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ بلوچستان نے عالمی مصالحت کے دوران کرپشن کا مسئلہ نہیں اٹھایا بلکہ کرپشن کا الزام بھی عائد نہیں کیا۔ 

صوبہ بلوچستان نے ٹی سی سی کے خلاف برطانوی ہائی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا اور الزامات عائد کیے کہ ٹی سی سی نے حکومت پاکستان کے حکام کو بھاری رشوت دی جو کہ مشترکہ وینچر معاہدے پر اتفاق سے قبل اور اس کے بعد دی گئی تھی تاکہ کان کنی معاہدے کو تحفظ دیا جاسکے اور متعدد غیرقانونی فوائد معاہدے کے تحت حاصل کیے جاسکیں۔ 

صوبہ بلوچستان نے مبینہ طور پر کرپشن کا الزام عائد کیا تھا اور درخواست کی تھی کہ یہ آئی سی سی کے دائرہ کار میں نہیں آتا، لیکن برطانوی عدالت نے فیصلہ دیا کہ برطانوی مصالحتی قانون فریقین کو عدالت میں ایسا مسئلہ اٹھانے سے روکتا ہے، جسے اسی کیس میں مصالحت کے دوران اٹھایا نہیں گیا ہو۔ 

انہوں نے اپنے فیصلے میں اس بات کو سراہا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ مشترکہ وینچر معاہدے نے ٹی سی سی کو کھدائی کے حقوق کو محفوظ بنانے کی کوشش کی وہ سودمند نا ہوئی لیکن پاکستان کی سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستان کے دعویٰ کے مطابق نہیں تھا کہ معاہدہ رشوت یا کرپشن کا نتیجہ نہیں تھا۔ 

جج روبن نے کہا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے معاہدہ منسوخ کرتے وقت اپنے فیصلے میں کرپشن الزامات کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کرپشن سے متعلق حوالے ناکافی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جہاں تک کرپشن الزامات کا تعلق ہے تو کیا سپریم کورٹ آف پاکستان کو یہ معلوم ہوا تھا کہ معاہدے کرپشن کی وجہ سے ختم کیے گئے؟ 

ان کا کہنا تھا کہ میرے فیصلے کے مطابق ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے لکھا کہ بلوچستان حکومت کے پاس وافر مواقع تھے کہ وہ عالمی ٹریبونل میں کرپشن الزامات اٹھاتے لیکن انہوں نے ایسا نا کیا اور کیس کے لیے مختلف راستے کا انتخاب کیا۔ لندن ہائی کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ اس نے پاکستان کے خلاف ٹی سی سی کے دعویٰ پر ٹریبونل کے دائرہ اختیار کو قبول کیا۔ 

انہوں نے فیصلے میں لکھا کہ اگر صوبے کے پاس کرپشن سے متعلق الزامات پر ثبوت ہیں تو وہ آئی سی سی ٹریبونل کے پاس نہیں ہیں ایسے میں یہ صوبے کی ذمہ داری تھی کہ وہ مصالحتی ٹریبونل کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھاتا۔ 

یہ صوبے کے لیے قانونی جواز پیدا نہیں کرتا کہ وہ عدالت میں بطور چیلنج اٹھائے جو کہ مصالحتی ٹریبونل کے اختیار میں ہو۔ جج نے فیصلہ دیا کہ صوبہ بلوچستان کرپشن الزامات پر کیس اس لیے دائر نہیں کرسکتا کیوں کہ وہ مصالحتی دعویٰ فارم میں شامل نہیں تھا۔ 

چلی کی کمپنی انتوفاگاستا اور کینیڈا کی کمپنی بیرک گولڈ پہلے ہی 6 ارب ڈالرز جرمانے کے طور پر حاصل کرچکی ہے۔ 12 جولائی، 2019 کو آئی سی ایس آئی ڈی نے 5.976 ارب ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ جب کہ حکومت پاکستان کو تیتھیان کو ریکوڈک سے کان کنی کی لیز دینے سے انکار کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ 

اس کے خلاف پاکستان نے اپیل کی تھی، جس پر اکتوبر میں فیصلہ دیا گیا کہ تیتھیان کو جرمانے کی آدھی رقم حاصل کرنے کا اختیار ہے۔ جج نے فریقین کو فیصلے پر غور کرکے عدالت واپس آنے کا کہا تھا۔

تازہ ترین