• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پاکستان میں عالمی فٹبال لیگ کی تیاری آخری مراحل میں

پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے انڈر23 فٹ بال ٹورنامنٹ کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرتے ہوئے اس کے انعقاد کو ممکن بنا لیا۔ مخالف گروپ نے ایونٹ کے آغاز سے قبل مقامی عدالت میں کیس دائر کیا،عدالت نے ایونٹ روکنے کے خلاف دائر درخواستیں خارج کرکے پی ایف ایف کو چیمپئن شپ کرانے کی اجازت دیدی۔ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے صدر انجینئر اشفاق حسین شاہ نے افتتاح کیا۔ شریک ٹیموں کے کھلاڑیوں نے مارچ پاسٹ کیا۔ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے نائب صدر اور پنجاب فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر سردار نوید احمد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ 

چیمپئن شپ میں ملک بھر سے بارہ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، سیمی فائنل 13 اور 14 جولائی کو، تیسری پوزیشن کا میچ 15 جولائی کو جبکہ فائنل16 جولائی کو کھیلا جائے گا۔ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے صدر سید اشفاق حسین شاہ نے جنگ کو بتایا کہ فیڈریشن کے قانونی عہدیدار کی حیثیت سے ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم پورے پاکستان میں کسی بھی جگہ ایونٹس کرائیں کسی کو اسے روکنے کا اختیار نہیں ، گزشتہ پانچ سال کے دوران کھیل کا جتنا نقصان ہوا ہے اس سے پوری قوم آگاہ ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ سب سے مل کر کھیل کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کیا جائے، ہم نے دسمبر 2021 تک فٹ بال ایونٹس کاشیڈول تیار کرلیا ہے ، ملکی تاریخ میں پہلی بار عالمی سطح کی لیگ کرانے کے انتظامات کو آخری شکل دے رہے ہیں لیگ کے میچز بھی فیفا ریفریز سپروائز کریں گے۔ 

اس سے ملکی کھلاڑیوں کو فائدہ ہوگا ان کو کئی کئی گناہ زیادہ معاوضہ ملے گا۔ فیفا نارملائزیشن کمیٹی اپنا کام کرے، ہم نے اس کی راہ میں پہلے بھی رکاوٹ نہیں ڈالی ہے اور نہ ایسا ارادہ ہے، فیفا اور اے ایف سی سے اپیل ہے کہ گزشتہ پندرہ سال سے پاکستانی فٹ بال کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کا تجزیہ کیا جائے اور جو بھی ذمہ دار ہے اس کا تعین کرتے ہوئے سزا دی جائے۔ ہم نے وفاقی وزیر سے درخواست کی ہے کہ ہمیں پاکستان میں فٹ بال کیلئے کھل کر کام کرنے کا موقع دیا جائے اور چھ ماہ کا وقت دیا جائے اس دوران اگر ناکام ہوگئے تو پھر گھر چلے جائیں گے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید