• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عورت اور تھر کا پس منظر ہمیشہ سے داستانوں اور لوک گیتوں کا موضوع رہا ہے۔ تھر کی خواتین کے پہناوے تھرکی شہری علاقوں کی خواتین سےمنفرد ہیں۔ خوبصورت روایتی لباس اور جیولری پسماندہ علاقے کی ان خواتین کی خاص پہچان ہے۔ تھر کے باسیوں کا لباس صحرا کے موسموں کے مطابق سر سے پاؤں تک ڈھانپنے والا ہے۔ پانی سے بھرے مٹکے سروں پر اُٹھائے تھر ی عورتوں کے دلکش رنگوں سے مزئین چُنری، گج اور گھاگھرے قوس و قزح سے مشابہہ نظر آتے ہیں۔ گج اور گھاگھروں پر جھلملاتے ستارے ،دوپٹے کی اوٹ سے چہرے چھپائے اور کلائیوں میں سفید چوڑیاں پہنی تھری عورتیں صحرائی بانکپن کی عکاس نظر آتی ہیں۔یہ خواتین جہاں محنت کش ہونے میں اپنی مثال آپ ہیں، وہیں سج دھج میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔

گھاگھراچولی، ان کا روایتی لباس ہے تو بازوؤں تک سفید چوڑیاں بھی ان کی خاص پہچان ہیں، جنہیں مقامی زبان میں ’’کڑیاں‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ تھر کی کچھ خواتین ناک میں بولی اور پیروں میں پازیب بھی پہنتی ہیں۔زیورات تھر کی خواتین کو جہیز میں ملتے ہیں اس لیے یہ انہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتی ہیں۔ چوڑیاں پہننے کا طریقہ ان کےشادی شدہ ہونے کا پتا دیتی ہیں۔ کہنیوں تک چوڑیاں غیر شادی شدہ جبکہ پورے بازوؤں میں شادی شدہ خواتین چوڑیاں پہنتی ہیں، بیوہ خاتون ہندو ہو یا مسلمان چوڑیاں نہیں پہنتی۔ چوڑیاں عام طور پر پلاسٹک ،عاج اور ناریل کے درخت سے بنائی جاتی ہیں ۔ پہلے زمانے میں ہاتھی کے دانت سے بنتی تھیں۔

بازؤںمیں سفید روایتی چوڑیاں پہنے شوخ رنگو ں سے مزین لباس میں ملبوس تھر پارکر کی خواتین کی زندگی محنت ،مشقت ، صبر اور برداشت سے عبارت ہے۔ نیچی چھتوں اور تنگ دروازوں والے گھروں میں رہنے والی ان خواتین کی زندگی شہری خواتین سے یکسر مختلف ہے۔ یہاں کی خواتین جس قدر شوخ رنگوں کا انتخاب کرتی ہیں اُن کی زندگی اُسی قدر مشکلات سے بھرپور، بے رنگ اور بے کیف ہوتی ہے۔ یہاں ہندو اور مسلمان دونوں رہتے ہیں لیکن پورے ماحول میں ہندو ،مسلم آبادی میں کوئی تفریق نہیں کر سکتے۔ نہ خواتین کے لباسوں سے نہ گھروں سے ۔ ہر چیز میں یکسانیت ہے۔

بیشتر عورتیں صبح سویرے اٹھ کر مال مویشی سنبھالیتیں، ان کا دودھ دھوتیں اور چارے وغیرہ کا انتظام کرتی ہیں۔اس کے بعد گھر والوں کے لئے ناشتہ بناتی ہیں۔ مردوں کے کاموں پر جانے کے ساتھ ہی وہ بھی میلوں دور کنویں سے پانی لینے چلی جاتی ہیں، پھر دوپہر کا کھانا بناتی ہیں ۔ کھانے کے بعد سلائی کڑھائی کا کام کرتی ہیں، کیوں کہ جس خاتون یا لڑکی کو یہ کام نہیں آتا یا وہ نہیں کرتی اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ 

تھر کی عورت آج بھی مرد سے زیادہ محنت کرتی ہے۔ خواتین کے ہاتھ کی بنی اشیا لوگ اپنے دوست، احباب اور رشتے داروں کو تحفے تحائف میں دیتے ہیں۔خوبصورت تھری کشیدہ کاری ، تھری کھتہ ، پھڑہ، چنی، مشہور تھری رلی کا کام ، تھری ہینڈی کرافٹ ، تھری قالین ، تھری ڈبل بیڈ اور سنگل بیڈ کی انتہائی خوبصورت ہاتھ کے کام کی چادریں پاکستان سمیت یورپ میں بھی بےحد مقبول ہیں۔