• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نگہت کامران

ہمارا شہر کراچی، دلی کی طرح کئی بار اجڑا، اور بدستور اجاڑا جا رہا ہے۔ گو کہ کراچی کو بجا طور پر منی پاکستان کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ منی پاکستان اس قدر لاوارث ہے کہ اس کا کوئی پرسان حال نہیں کتابوں اور اخبارات کی پرانی فائلیں اٹھا کر دیکھو یا کراچی کے قدیم باشندوں کی باتیں سنو تو دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ ہمارا شہر تو پاکستان کے ابتدائی برسوں ہی سے کمائوپوت رہا ہے، قومی آمدنی میں سب سے زیادہ پیسہ کراچی سے آتا ہے، صرف ملک کے دوسرے علاقوں کے ہی نہیں افغانیوں اور بنگالیوں کی بہتات بھی یہاں آباد ہے۔ لیکن اس شہر کی مردم شماری ہی ایمانداری سے نہیں کی گئی تو وسائل کی منصفانہ تقسیم کس طرح ممکن ہے۔

ہمارا دعویٰ ہے کہ کراچی میں کم و بیش تین کروڑ نفوس بستے ہیں ، لیکن 2017کی آخری مردم شماری میں کراچی کی آبادی صرف 14.97ملین یعنی ڈیڑھ کروڑ کے قریب ظاہر کی گئی ہے۔ اب ظاہر ہے وفاق سے کراچی کو جو حصہ ملتا ہے وہ ڈیڑھ کروڑ لوگوں کے لیے ہی ہوتا ہے، جسے تین کروڑ لوگ استعمال کرتے ہیں۔ یعنی پانچ افراد اگر ایک وقت کے کھانے میں دس روٹیاں کھاتے ہیں ، لیکن روٹیاں صرف پانچ ملیں گی تو ایک فرد کے حصے میں ایک روٹی آئے گی۔ سب ہی بھوکے رہے گے اور مسائل پیدا ہوں گے۔ اسی لیے کراچی کے شہریوں کو بجلی پوری ملتی ہے، نہ پانی اور نہ گیس۔

آبادی کا بے تحاشا دبائو ہی کراچی کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہ کس طرح ،ختم ہو؟ اندرون سندھ، پنجاب، خیبر پختونخواہ وغیرہ سے آنے والوں کو تو روکا نہیں جا سکتا۔ کیوں کہ آئین کے تحت مملکت میں رہنے والے ہر فرد کو ملک میں کہیں بھی رہائش اختیار کرنے اور روزگار کمانے کی آزادی حاصل ہے۔ البتہ فوری طور پر غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے ممالک میں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ 

کم از کم ان کالی بھیڑوں کی تو پکڑ ہو سکتی ہے، جو شناختی کارڈ جاری کر دیتے ہیں۔ شناختی کارڈ بنوانے کے بعد یہ لوگ پاکستانی پاسپورٹ بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ اور جب ہیروئن کے ساتھ غیر ملکی ایئر پورٹ پر پکڑے جاتے ہیں تو اپنے پاسپورٹ کی بنا پر پاکستان اور کراچی کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ اس حوالے سے سخت اقدامات کی ضرورت ہے ۔

اسی آبادی کی وجہ سے کراچی میں کچی غیر قانونی آبادیاں کینسر کے ناسور کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ الحمدللہ یہ لوگ کھاتے کماتے کراچی میں ہیں، مگر نہ یوٹیلیٹی بلز ادا کرتے ہیں۔ نہ ٹیکس۔ لائن مین کو پانچ سو روپیہ ماہانہ دے کر کنڈے پر بجلی مزے سے استعمال کرتے ہیں۔ اور ہزاروں، لاکھوں روپے کا بل ہم باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ کراچی میں بجلی چور رہتے ہیں۔ بستیوں کے مجموعے کو کاسموپولیٹن سٹی کہہ کر خوش ہوتے رہتے ہیں۔

شہروں کو پھیلنا ضرور چاہیے کہ یہ فطری امر ہے، مگر کوئی سلیقہ تو دکھائی دے ۔ آبادی کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہر چیز ایک خاص مدت کے بعد تجدید، مینٹینس مانگتی ہے لیکن بے چارا کراچی جس میں مینٹنس تو دور کی بات احوال پرسی بھی ضروری نہیں سمجھی جاتی۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ شہر کراچی کو چلایا نہیں چلنے دیا جارہا ہے، لگتا ہے کہ یہ طے کر لیا گیا ہے کہ اس شہر سے صرف وصول کرنا ہے ، اسے کچھ دینا نہیں۔

آج کراچی میں کوئی محلہ ایسا نہیں ہے، جہاں سڑکیں سلامت ہوں، نئی کراچی، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، فیڈرل بی ایریا، لیاقت آباد سے کلفٹن تک کے راستوں اور سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں گٹر نہ ابل رہے ہوں اور ملبے، کیچڑ اور تعفن نے شہر کو بدصورت نہ بنا رکھا ہو۔وزراء اور ذمہ داروں کواس سے کچھ غرض نہیں، کراچی کےعوام روتی رہے، سسکتی رہے۔

کراچی کے مسائل سیاسی بھی ہیں اور شہری بھی ۔ سیاسی مسائل تو گھمبیرتا کے حامل ہیں لیکن شہری مسائل اگر ارباب اقتدار چاہیں اور نیک نیتی سے اقدامات اٹھائیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کراچی پہلے جیسا والا صاف ستھرا شہر نہ بن جائے، جب ٹریفک قوانین پرسختی سے عمل درآمد کرایا جاتا تھا۔ ایسا نہیں کہ کراچی جنت تھا ہاں، جنت نشان ضرور تھا۔ لوگوں میں خرابیاں تو تھیں، مگر اُنہیں دور کرنے کا شعور و ارادہ بھی تھا۔ آج کی طرح ٹریفک کا اژدہام نہیں تھا۔ 

نصف گھنٹے کا سفر ڈیڑھ سے تین گھنٹے میں مکمل نہیں ہوتا تھا۔ شہر میں باقاعدہ پبلک ٹرانسپورٹ کے علاوہ لوکل ٹرین اور ٹرام بھی چلتی تھی۔ ٹرانسپورٹ مافیا عنقا تھی۔ طوفان بدتمیزی کی طرح سڑکوں پر دندناتی منی بسیں ، کوچز، چنگچیاں، پریشر ہارن نہ تھے، مسافروں سے بدسلوکی تو حالیہ برسوں کے مظاہر ہیں۔ اگر شہری مسائل حل کر دیئے جائیں تو کراچی پھر عالم انتخاب بن سکتا ہے۔