• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رکن اسمبلی نصراللہ زیرے کے فرزند کے اغواء کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

کوئٹہ ( پ ر) پشتونخوامیپ ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ورکن اسمبلی نصراللہ خان زیرے کے فرزند اولس یار خان کے اغواء کرنے کے واقعہ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ مرکزی سیکرٹریٹ سے برآمد ہوا اور کلب روڈ ، لیاقت پارک ،قندہاری بازار ، جناح روڈ سے ہوتے ہوئے پریس کلب کے سامنے احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوا۔ احتجاجی جلسے سے مرکزی وصوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال ، ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے فرزند ارجمند خوشحال خان کاکڑ ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سید عبدالقادر آغا ایڈووکیٹ نے خطاب کیا ۔احتجاجی مظاہرے میں صوبائی نائب صدر عبدالقہار خان ودان ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری خوشحال خان کاسی ، ضلع کوئٹہ کے ایگزیکٹوز سمیت عام لوگوں نے شرکت کی۔ مقررین نے نصراللہ خان زیرے کے معصوم 11سالہ بچے کے اغوا کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ادارے اب اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ سیاسی وجمہوری لوگوں بالخصوص پشتونخوامیپ کے رہنماؤں ، کارکنوں کو اپنے آئینی وسیاسی موقف سے ہٹانے کیلئے بچوں کے اغواء سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ادارے مفلوج ہوچکے ہیں۔ حکومتی ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ اولس یارکو اغوا ء ہوئے 24گھنٹے سے زائد کا وقت گزرنے کے باوجود اغواء کاروں کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔حالانکہ Save City Projectپر اربوں روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔ حکومتی دعووں کے مطابق ہر شاہراہ پر کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اولس یار خان کو گھر سے کے سامنے سے ماسک پہنے مسلح افراد نے اغواء کیا اور تقریباً5گھنٹے تک اسے نامعلوم مقام پر حبس بیجا میں رکھا اور پھر انہیں سریاب روڈ پر پل کے نیچے آنکھوں پر پٹی باندھے پھینک دیا گیا ۔ اس صورتحال سے حکومتی انتظامیہ اور پولیس کو آگاہ کیا گیا مگر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور پارٹی کو مجبوراً احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑرہا ہے اور یہ احتجاج عید کے بعد پارٹی کے رواں احتجاجی تحریک کے ساتھ مل کراس احتجاج کو مزید وسیع کیا جائیگا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ صوبے بھرمیں مسلح دہشتگردگروپوں کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے اور عوام کو امن وامان دینے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائیں۔
کوئٹہ سے مزید