• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی، لندن
عید کے اس کالم میں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صرف جشن عید اور اس کیہنگامہ مستی کا ہی ذکر ہو۔ عید کے ساتھ پھیلے رنج و دکھ اور کہیں کہیں کسی ،کسی کیلئے تو غموں کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ قربانی کی ایسی مثال ہے یہ عید کہ سنت ابراہیمی سے لے کرشہادت کربلا کے تمام شہداء پر سلام پیش کیا جاتا ہے کہ قربانی کی عظیم مثال قائم ہوئی لیکن یہ بھی دیکھئے کہ قربانی ایک امتحان کا نام ہے جو حضرت اسماعیل سے لے کر شہادت حسین تک اسلام کا اور اطاعت خداوندی کا ثبوت دے گئی کہ ہم اپنے دین پر ثابت قدم ہیں۔ قربانی کھٹن مراحل سے گزرنے کا نام ہے جس ریت کو حسین نبھا گئے کہ حکم ربی سے سرمو تساہل یا تغافل نہیں برتا۔ قربانی اور شہادت میں ہمارے کسی بھی پیغمبر نے مقام بندگی سے کسی بھی طرح پہلو تہی نہ کی بلکہ جیسے جیسے خدا کا حکم ہواویسے ویسے سر جھکا دیا۔ سر تو ہر کسی کو جھکانا پڑتا ہے خدا کی رضا کے سامنے کہ جو خدا کی مرضی! اولاد چاہے اسلام کے نام پر قربان ہو یا کسی درندے کے ہاتھوں اس کا قتل ہو وہ بھی خدا کی رضا میں نہایت دکھی دل کے ساتھ، صبر کے ساتھ راضی بہ رضا ہو ہی جاتا ہے۔ کیا گزرتی ہے ان والدین پر جن کی اولاد بغیر کسی بڑی خطا کے بہیمانہ قتل کردی جاتی ہے۔ معاشرہ خراب سے خراب ہوتا جا رہا ہے اور اس کے سپوت جسے ہم اپنی اگلی نسل کہتے ہیں، اپناوارث کہتے ہیں، اپنی باقیات کہتے ہیں وہ جس قدر بھی آزادانہ روش کی قائل ہوگئی ہے بلکہ والدین تو کیا خدا کا ڈر بھی ان آدم زادوں کو نہیں رہا۔ ان کی زندگی اگر آسودہ ہے تو ذہنی مسائل پیدا کر لیتے ہیں کبھی نشے کی عادت، کبھی دولت کے خمار میں مست ہو کر بگڑ جانا، کبھی کسی کی ہلکی پھلکی سرزنش بھی ان سے برداشت نہیں ہوتی۔ آج نوجوان نسل نے خود کو صرف من مستیوں کے، من مرضی کےمطابق ڈھال رکھا ہے۔ نفسیاتی مسائل نشوں کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں کہ ذہن اتنا پاگل ہو جاتا ہے کہ معمولی بات پر بغیر کسی بڑے جھگڑے کے محبوبہ کے گلے پر چھری چلا کر اسے ذبح کر دیا جاتا ہے جیسے نورمقدم کو کیا گیا۔ دکھ اور غم کی بات یہ ہے کہ نور کی والدہ کو بالکل نہیں بتایا گیا کہ نور کو کیسے اور کس آلے سے قتل کیا گیا وہ یہ ہی کہہ رہی تھیں کہ نور کو گولی لگی ہے۔ ظاہر ہے جس ماں نے پیدا کیا اور پرورش کی اس کے تصور میں نہیں آسکتی یہ بات کہ اس کے بچے کے جسم پر گرم ہوا بھی چھو کر گزرے۔ قربان تو اور بھی خواتین و مرد ہوئے ہیں چاند رات سے عید کے دن تک! سندھ میں پسند کی شادی کرنے پر دھوکے سے لڑکی کے گھر والوں نے بلا کر دونوں میاں بیوی کو مار دیا۔ اس قدر قتل و غارت بڑھ گئی ملک میں کہ کون سا شہر اور کونسا دن ایسا ہے کہ جب کوئی نہ کوئی لرزہ خیزخبر نہ سننے کو ملے آج ہر کسی کے ذہن میں یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ معاشرہ کس طرف جا رہا ہے کہ ہر روز قتل، اغوا، غیرت کے نام پر نشے کی وجہ سے وغیرہ وغیرہ۔ اپنے پیاروں سے جدا ہو ہو کر کون سے گل و گلزار کھلیں گے، سماج میں کھلبلی مچی ہو تو پھر کیسی عید اور کیسا تہوار، کیسی مہندی اور کیسی چوڑیاں!برطانیہ میں بسنے والے چاند رات چوڑیوں، مہندی اور پیراہن کے علاوہ بھی عیدمناتے ہیں لڑ کر، جھگڑ کر نور مقدم تو سفاکی سے قتل ہوئی تو ہوئی وہ بھی سفاک ذہنی مریض کے ہاتھوں مگر لگتا ہے تمام پاکستانی جوش و جذبے، مارکٹائی، لڑائی جھگڑے کی تعلیم ایک ہی اسکول سے لیتے ہیں۔ ابھی چاند رات کو الفرڈ شہر میں چاند رات کی خوب گہما گہمی تھی یہاں پاکستانی کمیونٹی خوب آباد ہے یہاں اسی لئے ہر تہوار کا اہتمام شوق و ذوق سے کیا جاتا ہے۔ چاند رات کو یہاں خوب ہنگامہ برپا ہوا، اس قدر خون خرابے والی آپس میں پرجوش لڑکوں کی لڑائی دیکھنے کو ملی کہ دل دہل گیا پولیس نے آکر کنٹرول کیا۔ برطانیہ کی پولیس نے جتنی لڑائیاں پاکستانی کمیونٹی کی دیکھی اور نمٹائی ہیں اتنی کسی دوسری کمیونٹی کی نہ دیکھی ہوںگی۔ اتنے جوشیلے ہمارے نوجوان ہیں کہ ہر اپنے قومی اور مذہبی تہواروں پر ہنگامہ برپا رکھتے ہیں۔ ابھی تو 14 اگست آنے والی ہے یہ ہی نوجوان اپنا جوش و ولولہ ختم یا کم نہ ہونے دیں گے پھر سے نئی مستی میں اپنی شناخت پاکستانی کی کرائیں گے۔ خدایا !والدین ہوش کریں اور اپنے بچوں کی جوشیلی روش کو روکنے کی کوشش کریں ورنہ ان کے ذہن جارحانہ اور سفاکی کی طرف چلے جائیں گے۔ ابھی عید ہی کے موقع پر سیاسی لڑائی بھی دیکھنے کو ملی وہ بھی ایک ترکش ریسٹورنٹ میں جہاں بہت سی قومیت کے لوگ کھانا کھانے آتے ہیں پھر وہ لڑائی بھی لوگوں نے دیکھ کر انجوائے کی۔ افسوس کہ ایسے مواقع پر جھگڑا ختم کرانے کی بجائے لوگوں کو ویڈیوز بنانے کا شوق ہوتا ہے پانی پھینکنے سے آگ بجھ سکتی ہے تو جھگڑا بھی بند کرانے سے ختم ہو سکتا ہے اگر کوئی سمجھے تو۔ ہمارے پاکستانیوں خو کو اپنے جوش و جذبے اور جارحانہ پن سے باز رکھو ورنہ ملک ترقی کیسے کرے گا۔
یورپ سے سے مزید