• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی ہیرو علی سدپارہ کی لاش کے ٹو پر ہی محفوظ

سرما میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو سر کرنے کی مہم کے دوران جاں بحق ہونے والے قومی ہیرو علی سدپارہ کی لاش پہاڑوں پر ہی محفوظ کردی گئی ہے۔

گزشتہ روز علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے کے ٹو سر کرنے کے بعد سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک ٹوئٹ میں پہاڑوں پر پاکستان کا جھنڈا لگے ایک تصویر شیئر کی۔

ساجد سدپارہ نے لکھا کہ ’ہمارے ہیرو( علی سدپارہ) کی لاش کے ٹو پر سی فور (کیمپ فور) کے مقام پر محفوظ کردی ہے، ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے ایک کوہ پیما نے لاش کو بوٹل نیک سے کیمپ فور لانے میں بڑی مدد کی۔‘

انہوں نے لکھا کہ میں نے اس موقع پر پوری قوم کی جانب سے فاتحہ خوانی کی اور قرآن کی تلاوت کی اور میت کو پاکستانی جھنڈے کی نشانی کے ساتھ محفوظ کردیا ہے۔

ساجد سدپارہ نے اس حوالے سے مزید کچھ بتانے سے گریز کیا کہ کیا وہ اپنے والد کی میت کو پھر کبھی نیچے لائیں گے یا پھر وہیں دفن کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ساجد سدپارہ اپنے والد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی لاشوں کی تلاش اور انہیں واپس لانے کے مقصد سے دوبارہ کے ٹو پر پہنچے ہیں۔

ساجد سدپارہ کے ہمراہ کینیڈین فوٹو گرافر اور فلم میکر ایلیا سیکلی اور نیپال کے پسنگ کاجی شرپا نے بھی کے ٹو کو سر کیا۔ ان تینوں کوہِ پیماؤں نے گزشتہ روزصبح 7 بج کر پینتالیس منٹ پر کے ٹو کو سر کیا۔

خاص رپورٹ سے مزید