• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ ہم ہر سال اجتماعی قربانی کرتے ہیں۔ پہلے ہم خود جانور خرید لیتے تھے اور پھر حصہ داروں کو حصص فروخت کردیتے تھے جس میں معمولی مقدار میں ہمارا حق الخدمت بھی شامل ہوتا تھا۔ اگر جانور ہمارے پاس موجود نہ ہوتا تو ہم حصہ فروخت نہیں کرتے تھے ،تاکہ قبضہ سے پہلے فروخت کی قباحت لازم نہ آئے ،مگر پچھلے سال ہمارے کچھ جانور چوری ہوگئے اور ایک جانور مرگیا جس سے ہمیں کافی نقصان ہوا ،اس لیے اس سال ہم نے اپنے جانور نہیں خریدے ، بلکہ لوگوں کی طرف سے جانور خریدے ، تاکہ کسی آفت، چوری وغیرہ کی وجہ سے ہمیں پھر سے اس طرح نقصان نہ ہو۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ قربانی کی خدمت انجام دینے کے لیے ہمارے پاس رضاکار بہت کم تھے، جس کی وجہ سے ہمیں اجرت پر لوگ رکھنے پڑتے ہیں تو کیا اس صورت میں ہم ان اخراجات کی مد میں کوئی زائد رقم وصول کرسکتے ہیں ؟(صبیح احمد)

جواب:۔ آپ وکالت کے طور پر لوگوں کے لیے جانور خرید لیا کریں اور قربانی کے نظم پر جو اخراجات آتے ہیں، وہ اپنے محنتانہ کی شکل میں لوگوں سے وصول کرلیا کریں یا پھر محنتانہ الگ سے طے کرکے متوقع اخراجات لوگوں سے پہلے وصول کرلیا کریں۔ پہلی صورت میں محنتانہ پہلے سے طے کرنا ضروری ہے اور دوسری صورت میں اگر اخراجات کی مد میں لی گئی رقم میں سے کچھ بچ گئی تو وہ لوگوں کو واپس کرنا ضروری ہے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk