• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈائنوسارز کو ناپید کرنے والا شہابیہ خلا کے تاریک حصے سے آیا تھا، ماہرین

کراچی (نیوز ڈیسک) ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 6؍ کروڑ 60؍ لاکھ سال قبل زمین سے ٹکرانے والا 10؍ کلومیٹر قطر کا شہابیہ، جس کے نتیجے میں کرۂ ارض کی 76؍ فیصد مخلوق بشمول ڈائنوسارز ختم ہوگئے تھے، شہابیوں کے مرکزی بیلٹ کی بجائے کہیں باہر سے اور دور دراز کے خلائی حصے سے آیا تھا۔ شہابیہ زمین سے ٹکرانے کی نتیجے میں 200؍ کلومیٹر چوڑا گڑھا پڑ گیا اور کھربوں ٹن مٹی اور دھول فضا میں پھیل گئی جس سے زمین کا درجہ حرارت نمایاں حد تک کم ہوگیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مخلوق کا صفایا ہوگیا۔ امریکی ریاست ٹیکساس میں سائوتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محققین کے مطابق، جس جگہ یہ گڑھا پڑا اس مقام سے حاصل کیے گئے نمونوں اور کمپیوٹر ماڈلنگ سے تحقیق کی گئی ہے کہ ٹکرانے والا شہابیہ کہاں سے آیا تھا۔ ماہرین ارضیات (جیولوجسٹس) نے بتایا ہے کہ آنے والا شہابیہ نظام شمسی کی تخلیق کے وقت بچ جانے والی چیزوں پر مشتمل بیلٹ سے آیا تھا، ماہرین اس علاقے کو خلا کے ’’تاریک حصے‘‘ (ڈارک کارنرز) کا نام دیتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید