• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گرفتار PTI کے MPA نذیر چوہان کا جوڈیشل ریمانڈ

لاہور کی عدالت نے وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے پر گرفتار ان ہی کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے رکن نذیر چوہان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی اور ان کا جوڈیشل ریمانڈ دے دیا۔

اس سے قبل ایم پی اے نذیر چوہان کو ہتھکڑیاں لگا کر لاہور کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مجسٹریٹ سے نذیر چوہان کا جسمانی ریمانڈ مانگ لیا۔

ایف آئی اے کے وکیل نے عدالت میں اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم نذیر چوہان تعاون نہیں کر رہے، نذیر چوہان کا فیس بک اکاؤنٹ چیک کیا ہے، اکاؤنٹ سے ویڈیوز نکلی ہیں، وائس سیمپلنگ کرانی ہے، ملزم کا واٹس ایپ نمبر اور ڈیوائس کی ریکوری کرنی ہے، ریکوری کے ساتھ ہی کیس چلے گا، ڈیوائس ملے گی تو ہی واٹس ایپ چیک ہو سکتا ہے جو اس سے لنک ہو۔

سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ ملزم کے پاس آئی فون ہے جس کے آئی کلاؤڈ میں سب کچھ ہوتا ہے، شریک ملزم وسیم کا بھی نذیر چوہان سے پتہ لگانا ہے۔

ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ ملزم کے خلاف کچھ نہ ہوا تو فائدہ ملزم کو ہو گا۔

جج نے استفسار کیا کہ پچھلے ریمانڈ میں کیا پیش رفت ہوئی؟

سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ ملزم کا فیس بک اکاؤنٹ چیک ہوا ہے۔

ایف آئی اے کے وکیل نے بتایا کہ موبائل فون مانگ رہے ہیں، سختی کر نہیں سکتے، ملزم فون نہ دینے کے بہانے کر رہا ہے۔

ایم پی اے نذیر چوہان کے وکیل شفقت چوہان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نذیر چوہان نے اس دوران کبھی فون استعمال ہی نہیں کیا، پتہ نہیں ایف آئی اے کو یہ معلومات کہاں سے ملتی ہیں؟ ایف آئی اے سسٹم کے ساتھ کھیل رہی ہے، جب فون استعمال ہی نہیں کیا تو ریکوری کیا کرنی ہے، مواد انٹرنیٹ پر شیئر ہی نہیں ہوا تو کوئی کیس ہی نہیں ہے۔

ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ سب کچھ موبائل میں موجود ہے۔

ایف آئی اے کی نذیر چوہان کے ریمانڈ کی درخواست پر عدالت نے پہلے فیصلہ محفوظ کر لیا، بعد میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مجسٹریٹ نے نذیر چوہان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی اور ان کا جوڈیشل ریمانڈ دے دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ نذیر چوہان کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر 14 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

قومی خبریں سے مزید