• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

دھوپ اور آکسیجن سے تحلیل ہوجانے والا پلاسٹک

اس جدید دور میں دنیا بھرکے ماہرین نت نئی چیزیں تیار کرنے میں سر گرداں ہیں ۔اس ضمن میں چینی سائنسدانوں نے ایسا ماحول دوست پلاسٹک تیار کیا ہے جو دھوپ اور آکسیجن کی موجودگی میں ایک ہفتے کے دوران بے ضرر مادّوں میں بدل کر ختم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پلاسٹک لچکدار ہے اور خاص طرح کے نامیاتی (آرگینک)پولیمرز سے بنایا گیا ہے۔ جب تک اس پر دھوپ نہیں پڑتی، تب تک یہ پلاسٹک اپنی اصل حالت برقرار رکھتا ہے لیکن دھوپ میں رکھنے پر یہ ہوا میں موجود آکسیجن کے ساتھ کیمیائی عمل شروع کرکے تیزی سے تحلیل ہو کر بے ضرر مادّوں میں ٹوٹنے لگتا ہے۔

یہ عمل زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں مکمل ہوجاتا ہے ، جس کا واحد ضمنی حاصل (بائی پروڈکٹ) سکسینک ایسڈ بچ رہتا ہے۔ یہ ایک قدرتی مرکب ہے، جس کی ادویہ سازی اور غذائی مصنوعات کی تیاری میں بہت ضرورت پڑتی ہے۔ اگرچہ یہ اتنا مضبوط تو نہیں کہ اس سے شاپنگ بیگ یا مشروبات کی بوتلیں بنائی جاسکیں لیکن اسے اسمارٹ فون، ٹیبلٹ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز وغیرہ کے لیے ایسے لچک دار برقی آلات میں ضرور استعمال کیا جاسکے گا جو ناکارہ ہوجانے کے بعد دھوپ میں رکھ کر تلف کیے جاسکیں گے۔ یہ پلاسٹک بنانے والی ٹیم کے سر براہ ڈاکٹر لیا نگ لوکا کا کہنا ہے کہ ابھی یہ پلاسٹک ابتدائی مرحلے میں ہے ،اس کو مزید بہتر بنانے میں کئی سال لگیں گے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید