• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2 بار وزارت عظمیٰ کی آفرز ہوئیں، موجودہ دور کے راز سینے میں دفن، پارٹی سے استعفیٰ دیا نہ منظر سے غائب ہوا، شہباز شریف


کراچی(ٹی وی رپورٹ)پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ دو بار وزارت عظمیٰ کی آفرز ہوئیں، موجودہ دور کے راز سینے میں دفن، پارٹی سے استعفیٰ دیا نہ منظر سے غائب ہوا۔میں ہمیشہ سے قومی مصالحت چاہتا ہوں ، ہم فرشتے نہیں نواز شریف سے بھی ماضی میں غلطیاں ہوئی ہونگی، وہ انسان ہیں آدمی جذبات میں آکر باتیں کرجاتا ہے ، آگے بڑھیں اورعوام کے دکھوں کا مداوا کریں ،جتنی سپورٹ عمران خان کو ملی اس کا 30واں حصہ کسی اور کو ملا ہوتا تو آج ملک کے حالات کچھ اور ہوتے، عمران خان نے فوج کیخلاف زہر اُگلا ، ماضی میں پرویز مشرف کے اپنے فیصلے تھے ادارے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تھا،2018ء الیکشن میں بہتر اجتماعی حکمت عملی بناتے تو شاید نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم ہوتے، جنرل باجوہ کی توسیع میں عمران خان کی خالی نااہلی نہیں بدنیتی بھی تھی کہ معاملہ سپریم کورٹ گیا

نواز شریف کی طبیعت بہتر نہیں،چیئرمین نیب کی توسیع پر مشاورت سے فیصلہ کرینگے، LNG معاہدے میں ایک سال کے اندر اربوں ڈالر اضافی ادا کرنا پڑیںگے ، پی ڈی ایم ٹوٹنے کا گلہ مجھ سے نہ کریں۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کر رہے تھے۔

پروگرام کی تفصیلات کے مطابق سلیم صافی… بسم اللہ الرحمن السلام علیکم ملک کی اہم ترین جماعت ہونے کے ناتے مسلم لیگ نون خبروں کا مرکز تھی لیکن آج کل اس جماعت کے صدر شہباز شریف بھی خبروں کا محور بن چکے ہیں ان کی مہربانی ہے ہماری درخواست پر آج کے جرگہ میں آمادگی ظاہر کی ہے۔ کیا واقعی آپ مستعفی ہو رہے ہیں صدارت سے۔

شہباز شریف… میں نے بجٹ تقریر میں جب فائنلی مجھے اجازت مل گئی چار دن کے شور شرابے کے بعد وہاں جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے میں نے ایک جملہ کہا تھا کہ اگر عوام کی جیب خالی ہے تو یہ بجٹ جعلی ہے اسی طریقے سے یہ خبر جعلی ہے۔سلیم صافی… اچھا استعفیٰ کی خبر جعلی ہے لیکن یہ خبر تو جعلی نہیں ہے کہ آپ کچھ ناراض تو نہیں ہیں آپ منظر سے ہی غائب ہیں۔ شہباز شریف… منظر سے غائب نہیں ہوں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے مسلم لیگ نون میرا اور ہمارا ایک گھر ہے اور اس گھر کو بڑی محنت سے نواز شریف نے بنایا ہے چالیس سال پر محیط ہے یہ محنت اس میں ہر کارکن کی بزرگوں کی شراکت ہے۔

سلیم صافی… اب گھر میں اگر ایک بھائی لڑنے پر تلا ہو اور دوسرا بھائی لڑنے سے انکاری ہو اس گھر کا انجام کیا ہوگا یا ہم پاکستان سے اس کی تشبیہہ دے دیں اگر خدانخواستہ انڈیا سے جنگ چھڑ جائے اور وزیراعظم جنگ کرنے پر تلے ہوں اور ملٹری لیڈر شپ ہے، اس وقت کیوں کہ مسلم لیگ کے صدر تو آپ ہیں کمانڈ تو آپ کر رہے ہیں وہ جنگ کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں تو پاکستان کا انجام کیا ہوگا۔شہباز شریف…یہ سوال لڑائی یا جنگ کا ہاں لڑائی ہے جنگ ہے اس پاکستان جو کہ بڑی قربانیوں کے بعد وجود میں آیا تھا قائد اعظم کی لیڈر شپ میں، ان شہداء کی قربانیوں کو تقاضا یہ ہے کہ اس ملک میں غربت افلاس معاشی ناانصافی کے خلاف جنگ کی جائے اور ایمانداری سے کی جائے، بھرپور کی جائے، حقیقت یہ ہے کہ 72 سالوں میں ہم سب نے غلطیاں کیں اور یہ جنگ جو ہونی چاہئے تھی اس ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے جس ہمت محنت اور دیانت کی ضرورت تھی اس کا فقدان رہا ہے۔

یہ نہ کسی ایک فرد اور ادارے کے خلاف جنگ لڑائی تو دور کی بات ہے، میں سمجھتا ہوں اس میں نفرت کا بھی اثر نہیں ہے، نہ ہونا چاہئے، اگر اس ملک کو 72 سال بعد بھی اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے اپنی اجتماعی بصیرت اور کاوشوں کو بروئے کار نہ لائے تو خدا ہمیں معاف کرے گا نہ آنے والی نسلیں معاف کریں گی۔

سلیم صافی… پہلے مسلم لیگ نون میں آپ دونوں بھائیوں کی اجتماعی بصیر ت بروئے کار آجائے کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز مفاہمت کے لئے تیار نہیں ہیں اور آپ اسٹیبلشمنٹ کی مزاحمت کے لئے تیار نہیں ہیں۔شہباز شریف… نواز شریف میرے قائد ہیں ہم ہر معاملے میں ان سے رہنمائی لیتے ہیں مشاورت کرتے ہیں یہ بات پارٹیوں میں سیاست میں جمہور میں یہ بات بالکل اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں اور جب مشاورت ہوتی ہے تو سب کو اپنی اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

یہ جو بات آپ کر رہے ہیں مفاہمت اور مزاحمت کی میری رائے جو ہے ایک سوچ ہے کہ پاکستان کو اگر ہم نے آگے لے کر چلنا ہے اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلوانا ہے تو اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ اپنی ذاتی پسند اور ناپسند سے بالاتر ہو کر اور یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے، بارہ اکتوبر کو جو شب خون مارا گیا جنرل مشرف نے تو ایک ایلیکٹڈ وزیراعظم موجود تھا نوازشریف اور جھگڑا کارگل تھا میں ذاتی معلومات کی بناء پر بتا سکتا ہوں کہ جنرل مشرف نے جو کارگل میں چڑھائی کی تھی اب تو یہ کتابوں میں ہسٹری بکز میں لکھا جاچکا ہے

اس میں مشاورت کا کتنا عمل دخل تھا لیکن اس کے باوجود بھی ۔سلیم صافی… وزیراعظم سے مشاورت نہیں ہوئی تھی۔ شہباز شریف… مجھے نوازشریف نے یہ بتایا تھا کہ ان کے ساتھ جو مشاورت ہونا چاہئے تھی وہ نہیں ہوئی تھی میں اس میٹنگ میں نہیں تھا یہ ان کی زبانی ہے لیکن میں آپ کو اگر ریگارڈ لیز جب یہ معاملہ بڑھا اور طول پکڑ گیا پوری دنیا میں اس پر باتیں شروع ہوگئیں تو نوازشریف نے پاکستان کو بدنامی سے بچانے کے لئے کہ کارگل میں چڑھائی کیوں کی گئی اس کا کیا مقصد تھا امریکا کے صدر سے میٹنگ طے ہوئی، چار جولائی 1999 اور میں نے نوازشریف کو مشورہ دیا تھا کہ آپ کیونکہ جنرل مشرف ہمارے سپہ سالار ہیں اور یہ کارروائی ہوئی ہے ان کو اس میٹنگ میں ساتھ لے کر جائیں تاکہ وہاں پر جو کچھ بھی طے ہو اس کا وہ حصہ ہوں۔ہمارے ایک بڑے سمجھدار دوست ہیں انہوں نے اس سے اختلاف کیا انہوں نے کہا نہیں جی نوازشریف agree کر گئے تھے

انہوں نے کہا نہیں ان کو ساتھ نہ لے کر جائیں اس لئے کہ بل کلنٹن سمجھیں گے سپہ سالار پاکستان کا وزیراعظم کے ساتھ آیا ہے تو اس کا مطلب ان کے بغیر کوئی بھی چیز ہلتی نہیں ہے، فیصلہ نہیں ہوتا۔

میں نے کہا نہیں ایسا تاثر قطعاً نہیں جائے گا پوری دنیا کو حقائق کا علم ہے وہ بھی جانتے ہیں اس سے جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پوری قوم کے لئے تسلی بخش ہوگا کہ وزیراعظم اور سپہ سالار موجود ہیں۔ بہرکیف وزیراعظم خود تشریف لے گئے پاکستان کو تو انہوں نے بچا لیا ایک بڑے معرکے سے لیکن خود اپنی وزارت عظمی کی قربانی دے دی اس کے مقابلے میں اگر دیکھیں مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے جس طرح یہ واقعہ آج ہوا ہے جب 1997 میں الیکشن ہوئے وزیراعظم نوازشریف منتخب ہوئے اسی سال نومبر میں جو صورتحال بن گئی تھی وہ آپ کے سامنے ہے اچھی طرح آپ اس سے واقف ہیں۔ میں حقائق پر مبنی بات کر رہا ہوں۔

جب یہ معاملہ نومبر میں بڑھا اس زمانے میں کس طریقے سے 58-2-B پہلے بھی سوال ہوتا رہا اور یہ سب جانتے تھے کہ ایک ٹرائیکا ہے جس میں صدر وزیراعظم اور آرمی چیف اور ٹرائیکا جس طرف اس کی میجورٹی ہوجاتی ہے اس میں تیسرا آئیسولیٹ ہوجاتا ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے مرحوم چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی تھیں تو ٹرائیکا میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور اس وقت کے مرحوم صدر میں ہم آہنگی ہوگئی تو اس وقت حالات اتنے سازگار تھے کہ کوئی ملٹری انٹروینشن ہوسکتی تھی اور اگر ہوتی تو کم لوگوں کو اعتراض کہ یہ تو آپس میں دست و گریباں ہیں فوج کیا کرتی لیکن میرے ذاتی علم میں ہے کہ جنرل جہانگیر کرامت نے بڑا ریسٹرن شو کیا انہوں نے کہا Democracy must be allowed to prosper and have a chance یہ میرے ذاتی علم میں ہے۔سلیم صافی… لیکن ان سے پھر انہوں نے استعفیٰ لے لیا۔شہباز شریف… وہ ایک علیحدہ قصہ ہے کسی اور وقت بیان کروں گا۔سلیم صافی… یہی تاثر ہے کہ آپ کے بھائی کی اسٹیبلشمٹ سے بنتی نہیں ہے اور آپ کی بگڑتی نہیں ہے۔

شہباز شریف… غلطیاں ہم سب سے ہوئی ہیں مشرقی پاکستان کا جدا ہوجانا اس سے بڑا کوئی سانحہ ہوسکتا تھا، ہم نے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی ہیں، ہم آلہ کار بنے ہیں، میں کسی پارٹی کا نام نہیں لیتا، ہم سب شامل ہیں، اس حمام میں ہم سب ننگے ہیں، اسی طریقے سے جب شب خون مارے گئے، جمہوریت کا پودا کبھی پنپ نہیں سکا۔

ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اب ہم آگے بڑھیں اس وقت ملک کے بائیس کروڑ عوام کے دکھوں کا مداوا کریں۔ میرے دل کی آواز ہے اس وقت دیکھیں ملک کے چیلنجز کیا ہیں افغانستان۔سلیم صافی… اس وقت جن واقعات پر آپ نے اشارہ کیا، ایک سوچ ملک کے اندر یہ ہے بھی اور جو نوازشریف اور مریم کی سوچ لگتی ہے کہ جب تک کارگل اور بنگلہ دیش جیسے سانحوں کا حساب نہ لیا جائے تب تک یہ ملک ٹھیک نہیں ہوسکتا، پھر وہ کہتے ہیں کہ آپ کسی کے ماتحت رہ کر اصل اختیار کسی کے پاس ہو تو اقتدار میں آنے کا کیا فائدہ دوسری طرف آپ کا موقف کہ ان چیزوں پر مٹی ڈالو اور آگے جا کر ایک مفاہمت کی پالیسی اپناؤ اگر یہ دونوں چیزیں ساتھ چلائیں گے تو پارٹی نقصان اٹھاتی رہے گی۔

شہباز شریف… یا تو ہم ماضی میں جو حساب کتاب ہے اس کی طرف چل پڑیں اور تمام توانائیاں اس پر لگا دیں آپ بنگلہ دیش، کارگل یا جو شب خون مارے گئے ان کا حساب لینا ہے دوسری طرف میں سمجھتا ہوں کہ یقینا جمہوریت کمزور ہوئی اور یقینا سیاستدان بھی استعمال ہوئے تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ایسا نہیں ہے کہ کسی ایک شخص کا قصور ہے یا کسی ایک ادارے کا قصور ہے ہم سب اس حمام میں ننگے ہیں اس کا بہتر حل کیا ہے ماضی سے ہم سبق سیکھیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور آگے بڑھیں یا پھر جو 72 سال کی تاریخ ہے اس میں گم ہوجائیں کہیں نہیں we have to take accountibilty first and than move forward دو ہی راستے ہیں۔

سلیم صافی… اس پر آپ اپنے بھائی اور بھتیجی کو قائل کیوں نہیں کرسکتے، آپ کی convincing power کمزور ہے یا ان کے سمجھنے کی۔شہباز شریف… میری پارٹی میں مشاورت ہوتی ہے سب اپنی رائے دیتے ہیں اور میری رائے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے یہ جو عام طور پر لفظ استعمال ہوتا ہے مفاہمت کا، اس کے معنی ٹھیک نہیں ہیں، میں بات کرتا ہوںnational reconciliation کی، میں اس کی بات کرتا ہوں کہ جو ہوا اس کا ادراک کریں سبق حاصل کریں اپنی ذاتی انا کو مٹائیں اور غریب قوم کا جو حال ہے اس کو جانیں، دن رات محنت کرکے ان دکھوں کو خوشیوں میں غربت کا خاتمہ کریں

مہنگائی کا خاتمہ کریں، اس ملک میں معاشی صورتحال ہے آج بھی کشکول لے کر گھومتے ہیں اس حالت کو بدلیں، یہ آسان کام نہیں ہے، اگر ہم اس حالت کو نہیں بدلیں گے تو میں آپ کو یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حالات بہت بگڑ جائیں گے۔

سلیم صافی… آپ کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ آپ اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کی التجا کرتے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پرویز مشرف بھی آپ کو وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں آپ کو نوازشریف کو رخصت کرنا چاہتے ہیں اس الیکشن سے پہلے بھی اگر آپ آمادہ ہوجاتے تو شاید آپ وزیراعظم ہوتے عمران خان کی جگہ تو یہ کیوں ہے۔شہباز شریف… مفاہمت کی التجا کرتا رہتا ہوں جو آپ نے بات کی یہ درست بات نہیں ہے۔سلیم صافی… لوگ کہتے ہیں ڈیل کی التجا۔

شہباز شریف… یہ درست بات نہیں ہے، بتائیں اگر ڈیل کی بات ہے تو پھر مرحوم غلام اسحاق سے لے کر آج تک دیکھ لیں کیا جب مشرف کے شب خون کے نتیجے میں نوازشریف اگر اٹک قلع میں گئے تو میں نہیں گیا تھا اٹک جیل میں گئے تو میں نہیں گیا تھا لانڈھی جیل میں گئے تو میں نہیں گیا تھا جب ہمارے خاندان کو غریب الوطنی اختیار کرنا پڑی تو میں نہیں گیا تھا۔

نیب میں نوازشریف، مریم، حمزہ، میں گیا، پارٹی کی بڑی سینئر لیڈر شپ گئی، میں تو دو مرتبہ گرفتار ہوچکا ہوں، نیب کا میں دو دفعہ مہمان بن چکا ہوں، عمران خان کا بس چلے تو ہمارا انٹرویو ختم کرکے جیل بھجوائیں اس کے نتیجے میں میری ذات کو کیا ملا۔

ابھی آپ نے بات بتائی جنرل مشرف کی یہ درست ہے میں ویسے اپنے تئیں کبھی جو حساس ہوتے ہیں میں راز پبلک نہیں کرتا، میری عادت نہیں ہے، نہ کبھی کیا ہے، نہ کروں گا جنرل مشرف خود انٹرویو میں بتا چکے کہ شہباز شریف سے وزیراعظم شپ کی بات ہوئی تھی انہوں نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا، میں نے اس کی تصحیح کی ڈپٹی وزیراعظم نہیں انہوں نے وزایراعظم کی آفر کی تھی یہ ریکارڈ کی بات ہے، کیا میں نے یہ قبول کرلی۔ سلیم صافی… ہماری معلومات کے مطابق 2018 ء کے الیکشن سے پہلے بھی آپ کو یہ آفر ہوئی تھی کہ اگر آپ بھائی بھتیجے کو خاموش کردیں چھوڑدیں تو آپ وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

شہباز شریف… اس طرح کی بات میں نہیں کہوں گا 2018 کے الیکشن سے پہلے ہماری اجتماعی مشاورت کے ساتھ اگر حکمت عملی ٹھیک بناتے تو شاید 2018 کے الیکشن کے نتیجے میں بھی نوازشریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم ہوتے، یہ بات میں کہہ سکتا ہوں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ آج ملک اوپر کی طرف جارہا ہوتا، آج اسٹیبلشمنٹ نے 72 سال میں آئینی ان کا فرض بھی ہے اور ملک کی ضرورت بھی ہے کہ سپورٹ کیا جائے آئینی فرض ہے کہ سپورٹ کیا جائے تاکہ ملک آگے چلے حکومتیں کامیاب ہوں اور پاکستان ترقی کرے، خوشحال ہو، اس پیرائے میں جتنی سپورٹ عمران خان کو اس دور میں ملی ہے

شاید اس کا سواں حصہ بھی کسی حکومت کو نہیں ملا ہوگا ماضی میں، میں یہ برملا کہتا ہوں کہ اتنی سپورٹ کا تیس فیصد حصہ بھی کسی حکومت کو ملا ہوتا تو ملک خوشحالی کی طرف جارہا ہوتا ہے، مگر عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ اتنی سپورٹ ہونے کے باوجود بھی حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔

بجٹ میں کہا گیا تھا کہ کوئی ٹیکس نہیں لگے گا جون اور آج اکتیس جولائی ہے تین بار پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا ہے اور چینی کا کہا گیا اَسی سے نہیں بڑھنے دیں گے چینی سو روپے کراس کرچکی ہے اور جتنے بھی باقی فوڈ آئٹم ہیں ایک عام آدمی سوچتا ہے کہ دال روٹی کا انتظام کروں گا تو دوا کیسے لاؤں گا۔

سلیم صافی …اس میں کتنی حقیقت ہے آپ ڈیل کی کوشش کرالیتے ہیں، اپنی پارٹی کے لئے اپنے بھائی کے لئے رعایت بھی لے لیتے ہیں لیکن ادھر سے جو ہے پھر ان کے بیانات یا اقدامات سے وہ ڈیل خراب ہوجاتی ہے، کیا یہ حقیقت نہیں ہے، بڑے میاں صاحب آپ کی ان کوششوں، ان ڈیل کے نتیجے میں باہر گئے ہیں؟ ۔

شہباز شریف …اگر آپ کا ڈیل سے مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی خوشحالی ہو اور یہ ملک جو ہے یہ فائنلی اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے اس کے جسم میں توانائی اور قوت آجائے اور ہم غیروں کے سامنے سر نہ جھکائیں اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرکے اپنا سر اونچا کرکے مگر انکساری اور پورے اعتماد کے ساتھ اقوام عالم میں چلیں تو اگر اس کو آپ ڈیل کہتے ہیں تو یہ تو بری بات نہیں ہے، میں کھل کر بیان کردیتا ہوں کہ اپنے قانونی اور آئینی دائروں میں رہ کر اور باہمی مشاورت اور یکجہتی اور نئے عزم اور نئے ولولے کے ساتھ اگر ہم ملک کو آگے لے کر چلیں تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ پاکستان کی حالت اگلے 10 یا 15سالوں میں بدل جائے گی اور وہ شہداء جن کی روحیں تڑپ رہی ہیں قبروں میں، کہ وہ یہ پاکستان کا خواب نہیں تھا جس کے لئے ہم نے اپنی جانیں قربان کی تھیں ان کی روحوں کو سکون آجائے گا ہماری آنے والی نسلیں جو ہیں وہ ہمیں برا بھلا نہیں کہیں گی اور شاید ہماری قبر پر جاکر ہمیں دعائیں دیں گی۔

لیکن اگر اس طرح کی حالت ہی رہی اور ہم اپنے اپنے دائروں میں قید رہے، تنہائی میں کام کرتے رہے اور ہم نے قومی وحدت کا ثبوت نہ دیا اور ہم نے یہ فیصلہ نہ کیا کہ ہم ماضی کو بھلا کر، تلخیوں کو بھلا کر چاہے کوئی ہو چاہے ہماری پارٹی ہو، چاہے کوئی اور پارٹی ہو یا ادارے ہوں اگر ہم نے ماضی کو بھلا کر اور سبق حاصل کرکے، بھلانے سے مراد یہ نہیں کہ ہم سبق نہ لیں، سبق حاصل کرکے اگر ہم نے اپنا راستہ نہ اپنایا اور شب و روز محنت نہ کی تو پھر کوئی ہمارا نام لینے والا نہ ہوگا۔سلیم صافی …تو اس کا مطلب یہ کہ حکومت کا یہ الزام درست ہے میاں نواز شریف کو آپ نے نکلوایا ہے، بیماری اس حد تک سنگین نہیں تھی؟۔

شہباز شریف …بڑے افسوس کی بات ہے صافی صاحب جب میاں نواز شریف بیمار ہوئے تھے وہ گھر پر تھے یا نیب کے عقوبت خانے میں تھے۔

نیب کی عقوبت خانے سے ان کو اسپتال میں لایا تھا یا حکومت لے کر آئی تھی۔ سروسز اسپتال میں ڈاکٹر نے علاج کیا تھا یا کوئی پرائیویٹ ڈاکٹرز آکر علاج کررہے تھے۔ ڈاکٹر طاہر شمسی جو ایکسپرٹ ہیں کراچی سے ان کو میں نے بلوایا تھا یا حکومت نے بلوایا تھا۔

اور پھر دن میں دو دو مرتبہ جو بلیٹن جاری کرتے تھے کہ میاں نواز شریف کے پلیٹ لٹس اتنے گرگئے ہیں اور صورتحال یہ ہے اور یہاں ٹیسٹ کرایا وہ بلیٹن میں جاری کرتا تھا یا حکومت کرتی تھی۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ وہ یقینا میاں نواز شریف شدید بیمار تھے اس وقت یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص کرم تھا، اس کی مہربانی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بیماری سے بچایا وہ لندن سفر کے قابل ہو گئے

میں ساتھ تھا اور وہاں پر اسپتالوں میں جو ان کے ٹیسٹ ہوئے ان کا علاج ہوا میں سب ساتھ تھا، دیکھیں اس بات کو تو یہاں رہنے دیتے ہیں جب میری مرحومہ کلثوم بھابھی صاحبہ بیمار ہوئیں تو معاف کیجئے آپ کی بات نہیں کررہا بعض چینلز پر کس طرح کی شرمناک خبریں چلائی گئیں کہ وہ بیمار نہیں ہیں یہ سب خدانخواستہ ایک بہانہ کیا گیا ہے اور وہ بیمار نہیں ہیں اور میں اس وقت لندن میں تھا اور یقین کریں وہاں پر ان کا علاج ہورہا تھا۔سلیم صافی… ابھی آپ جو کہہ رہے ہیں ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے

اتفا ق کی ضرورت ہے تو اس کے لئے تمام اداروں کا ایک Page پر آنا ضروری ہے۔شہباز شریف… یقینا، جو پروپیگنڈا کرتے ہیں میری ذات کے حوالے سے مجھے ملا کیا، مجھے بتائیں ناں مجھے کیا ملا میری ذات کو، ہاں مشرف نے بالکل آفر کی تھی یہ تو ریکارڈ کی بات ہے میں کوئی راز افشا نہیں کررہا مرحوم غلام صاحب انہوں نے بالکل مجھے، وہ میرے والد صاحب کے دوست بھی تھے بالکل میرے سامنے کہا شہباز آپ بنیں وزیراعظم۔سلیم صافی…وہ تو آپ پردہ ڈال رہے ہیں شاید کچھ عرصہ بعد آپ موجودہ دور کا بھی کہہ دیں گے کہ آفر ہوئی تھی۔شہباز شریف …نہیں موجودہ دور کا نہیں وہ راز میرے سینے میں دفن ہے۔

یہ دو باتیں ہیں جو ساری دنیا جانتی ہے اس لئے میں اس کو دہرارہا ہوں۔ مجھے ان چیزوں نے اپنے راستے سے تو نہیں ہٹایا۔سلیم صافی …آپ اتنی قربانیاں دے رہے ہیں مگر جب نواز شریف اور مریم نواز فوج پر تنقید کریں گی اور یہ زبان استعمال کریں گی تو پھر تو یہ مفاہمت نہیں ہوسکتی نا۔ حکومت کا الزام یہی ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کا مشن یہی ہے کہ وہ فوج کو بدنام کررہی ہے۔

شہباز شریف… میں ایک بات عرض کروں بطور ایک مسلمان، ایک پاکستانی اور انشاء اللہ زندگی رہی تو23 ستمبر کو میں 70 سال کا ہوجاؤں گا او رمیری ایک ہی خواہش ہے اور ہونی بھی چاہئے سب کی ہے کہ یہ ملک جو ہے یہ اس راستے پر چل پڑے جس کے لئے حضرت قائد اعظم نے اور لاکھوں لوگوں نے خواب دیکھا تھا اور عظیم قربانیاں دی تھیں۔ دیکھیں یہ جو بات آپ کررہے ہیں کہ میاں نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے اور پھر تیوں ادوار میں، میں یہ نہیں کہتا ہم فرشتے ہیں ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں

ان سے بھی ہوئی ہوں گی، مجھ سے بھی ہوئی ہوں گی لیکن وہ نواز شریف جس نے پانچ ارب ڈالر کی جو آفر تھی بل کلنٹن کی، اس کو رد کردیا اور پاکستان کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پوری قوم کی دعاؤں اور کاوشوں سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔

وہ نواز شریف جس کے دور کے آخر سال 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی یہ ممکن نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے کرم اور محنت سے یہ ممکن ہوا۔ جب ان کی بیگم کے ساتھ جب وہ علیل تھیں اور یہ خود اڈیالہ جیل میں تھے اور اس کے علاوہ مجھے کہنا نہیں چاہئے ہتھکڑیاں مشرف کے دور میں پہنائی گئیں اور جیسا میں نے کارگل کی بات کی، کارگل کے نتیجے میں جو ہولناک جنگ خدانخواستہ ہوسکتی تھی اس کو بچالیا مگر اپنی حکومت کو وہ نہ بچاپائے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ انسان ہیں اور یہ آدمی کبھی جذبات میں آکر بات کرجاتا ہے مگر اس کے مقابلے میں مجھے آپ بتائیں۔

سلیم صافی…اس وقت کی حکومت یہ الزام لگارہی ہے کہ آپ لوگ انڈین ایجنٹ ہیں فوج کو بدنام کررہے ہیں؟۔شہباز شریف…عمران خان نے لندن میں بھری پبلک میٹنگز میں افواج پاکستان کے بارے میں جو زہر اگلا ہے میرا خیال ہے ہزار سالوں میں اس کی کوئی ہلکی سی بھی آپ کو مثال نہ ملے جو انہوں نے زہر اگلا ہے اور پھر اپنی کتابوں میں اپنی تقاریر میں آپ وارن اینڈ ٹیرار کو دیکھ لیں، رد الفساد اور ضرب عضب ہوئی نواز شریف کے دور میں اور جنرل راحیل تھے

سپہ سالار اور رد الفساد وہ بھی شروع ہوئی میاں نواز شریف کے دور میں اور موجودہ جو سپہ سالار ہیں ان کے دور میں اور کتنی عظیم قربانیاں دیں، افواج پاکستان کے سپاہیوں، افسران، جرنیلوں نے مجھے یاد ہے۔ میں تفصیل بیان کرنا نہیں چاہ رہا بڑی دل آزاری ہوئی ہے۔ بدترین زبان استعمال کی، بدترین زبان۔سلیم صافی…

لیکن اب وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ لوگ فوج کے ساتھ بات بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں؟۔شہباز شریف …میں نے اسی لئے کہا ہے نا کہ آئیں ماضی کی تاریخوں کو دفن کریں خدارا ایک اللہ تعالیٰ سے ہم دعا مانگیں میں آپ کو بتارہا ہوں کہ جب 2007ء نومبر میں ہم اپنی جلاوطنی کاٹ کر پاکستان پہنچے خدا کی قسم میں نے مدینہ میں مسجد نبوی میں دعا کی کہ یااللہ ہم پاکستان جارہے ہیں جو کچھ مشرف نے ہمارے ساتھ کیا ہے یا میرے ساتھ کیا ہے اس کو ہمارے دماغ سے نکال دے۔

تاکہ میں پاکستان جاؤں تو ذرا بھی تلخی نہ ہو، تاہم اس میں ادارے کا کوئی عمل دخل نہ تھا وہ تو مشرف کے اپنے فیصلے تھے۔ میں نے خدا کی قسم دعا کی اس ادارے کے بارے میں جو عزت و احترام قائم رکھنا پاکستان جارہے ہیں۔

سلیم صافی… اب ان کی صحت بہتر ہے وہ کیوں نہیں آتے۔شہباز شریف… یہ آپ کو کس نے کہہ دیا میری چند دن پہلے نوازشریف سے بات ہوئی تھی انہوں نے کہا کہ ہارٹ ایک ایک انٹروینشن ہونا ضروری ہے چونکہ کووڈ ہے

اس طرح یہاں پر بڑے حالات خراب تھے میں نہیں کراسکا تو میں کراؤں گا ڈاکٹر نے کہا سفر نہیں کرسکتے آپ کو کس نے کہہ دیا طبیعت بہتر ہے، خدا کرے اللّٰہ انہیں صحت دے۔سلیم صافی… اللّٰہ انہیں صحت دے اسحاق ڈار کی تو طبیعت ٹھیک ہے آپ اور آپ کے بیٹے جیل جاسکتے ہیں وہ جیل کے لئے کیوں نہیں آسکتے پاکستان۔شہباز شریف… اسحاق ڈار نے بھی جیل کاٹی ہے 99 کے کو کے بعد انہوں نے بھی کاٹی ہے ان کو بھی کئی مہینے بند رکھا گیا اب وہ لندن میں ہیں، مجھے بتا دیں نیب نیازی گٹھ جوڑ سے آپ کو انصاف کی توقع ہے، جو کیسز جو عقوب خانہ جو کیسز جھوٹے سچے سب ہماری پارٹی کے مخالف رہے ہیں بتائیں کہاں ہے مالم جبہ ابھی میں نے چند دن پہلے اخبار میں خبر پڑھی نیب نے چیف سیکرٹری کے پی کے کو مالم جبہ کو کیس ریفر کردیا کہ آپ فیصلہ کریں چینی کے اسکینڈل میں گندم کے اسکینڈل میں اربوں روپے خورد برد کر لئے گئے۔

سلیم صافی… اس چیئرمین نیب کا ریکارڈ معلوم نہیں تھا آپ نے کیوں بنایا۔شہباز شریف… اس سے کون انکاری ہے میں نیب نیازی گٹھ جوڑ کی بات کر رہا ہوں پوائنٹ یہ کہہ رہا ہوں کہ تیل ڈیزل مہنگا منگوا کر بجلی پیدا کی گئی انتہائی مہنگی حالانکہ نوازشریف کے دور میں لگے ہوئے سستے ترین پلانٹ موجود ہیں۔

سلیم صافی… آپ نے بھی سی پیک کی مد میں چین کے ساتھ بڑے مہنگے سودے کئے سودے بازی صحیح نہیں تھی۔شہباز شریف… انہوں نے تو ہر چیز کا فرانزک آڈٹ کرایا اور چین کے سی پیک ہے اس میں کتنے کیڑے نکالے جب وفاق کی حکومت میں نہیں آئے تھے کتنے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیئے اس ملک کے خلاف جس نے جنگوں میں آپ کا ساتھ دیا زلزلوں میں آپ کا ساتھ دیا انٹرنیشنل فورم سیکورٹی کونسل میں آپ کا ساتھ دیا چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے جس نے سی پیک کا منصوبہ اس وقت دیا جب پاکستان کی طرف کوئی رخ نہیں کرتا تھا اس وقت انہوں نے ان کو بدنام کیا کرپشن کے الزام لگائے میرے حوالے سے بھی لگائے

عمران خان کا مشہور بیان کہ جاوید صادق میرا فرنٹ مین ہے اور27 ارب روپے چین کے منصوبوں میں کمیشن کھایا ہے کہاں گیا وہ الزام چین کو انہوں نے بدنام کیا جو ہمارا بااعتماد دوست ہے سعودی عرب قطر کی طرح ایک قریب ترین دوست ہے۔

سلیم صافی… چائنہ کے ساتھ دوستی آپ کرتے ہیں آخر میں جا کر عمران خان سے دوستی کرلیتے ہیں آرمی چیف آپ لگاتے ہیں آخر میں وہ عمران خان کے دوست بن جاتے ہیں چیئرمین نیب بھی ان کے دوست ہوجاتے ہیں۔

شہباز شریف… آرمی چیف ہم نے لگا دیا کس طرح۔سلیم صافی… نوازشریف نے۔شہباز شریف… کن کو۔سلیم صافی… جنرل باجوہ کو۔شہباز شریف… جنرل باجوہ کا بتائیں توسیع کا معاملہ جب نوازشریف باہر گئے تو کسی کو خواب آیا تھا کہ توسیع تھرو آرمی ایکٹ سے ہوگی وہ تو صوابدیدی اختیار ہے وزیراعظم کا، چونکہ وزیراعظم عمران خان کی خالی نااہلی نہیں بدنیتی تھی وگرنہ مجھے بتائیں نوازشریف گئے ہیں نومبر 2019 میں، میں ساتھ تھا اس وقت کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ آرمی ایکٹ کی توسیع کا معاملہ پارلیمنٹ میں آئے گا کسی نے نہیں سوچا تھا وہ عمران خان کی نااہلی ان کی گورنمنٹ کی بدنیتی کہہ لیں کہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا ہم تو نہیں لے کرگئے لیکن جب وہ آیا تو ہم نے مشاورت کے ساتھ فیصلہ کیا ہم نے ووٹ ڈالا،سلیم صافی…

آپ سمجھتے ہیں یہ عمران نے بدنیتی سے متنازع بنایا۔شہباز شریف… وگرنہ مجھے بتائیں اس میں کونسی راکٹ سائنس تھی اس طرح کے نوٹیفکیشن 72 سالوں میں کئی وزراء اعظم نے صدور نے آرمی چیف کی اپائنٹمنٹ کے لئے یا توسیع کے لئے زرداری صاحب نے نہیں دی تھی جنرل کیانی کو توسیع ملی تھی اس وقت کوئی سقم نہیں تھا اس ہی کی نوٹیفکیشن لے لیتے اور اس کی کاپی کر لیتے لیکن نقل کے لئے بھی عقل چاہئے تو نقل کے لئے عقل بھی چاہئے اور بدنیتی بھی شامل ہوگی تو سپریم کورٹ میں معاملہ جانا ہی جانا تھا۔سلیم صافی…

اب لگتا ہے وہ چیئرمین نیب کو بھی توسیع دینا چاہتے ہیں اس میں تو سپورٹ نہیں کریں گے۔شہباز شریف… یہ آئینی قانونی معاملہ ہے بطور لیڈر آف دی اپوزیشن یہ معاملہ باہمی مشاورت سے ہوسکتا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے میں باہمی مشاورت کے بغیر یہ فیصلہ نہیں ہوسکتا چیئرمین نیب کی تعیناتی کا۔سلیم صافی… آپ لوگ نہیں کریں گے۔شہباز شریف… میری پارٹی ہے میں پارٹی کا صدر ہوں اور مشاورت کے بغیر اکیلا تو فیصلہ نہیں کرنا قائد کی مشاورت پارٹی کی مشاورت کے ساتھ فیصلہ ہوگا آئین اور قانون کے مطابق معنی خیز مشاورت کے ساتھ اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں درج ہے۔ سلیم صافی… لگتا ہے پی ٹی آئی والوں کو بھی احساس ہے کہ اب ہماری باری آسکتی ہے اگروہ نیب کے قانون کو بدلنا چاہیں تو اس پر آپ لوگ تعاون کے لئے تیار ہیں ان کے ساتھ؟ ۔شہباز شریف… ایک بات طے ہے کہ جو انصاف کا طریقہ ہے انصاف ہونا بھی چاہئے اور سب کو نظر بھی آنا چاہئے۔ اگر کہیں کسی نے زیادتی کی ہے، کرپشن کی ہے انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے ہونے چاہئیں اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ آپ نواز شریف کے دور کو دیکھ لیں جو گزرا ہے یہ پچھلا کسی کو چیونٹی بھی کاٹ گئی میں اس وقت پنجاب کا خادم تھا جو ادارے جن کا کام ہے چاہے اینٹی کرپشن، چاہے وہ نیب ہے وہ اپنا کام کرے۔ لیکن عمران خان تو دن رات ان کو بلا، بلا کر ڈکٹیشن دیتے ہیں کہ شہباز شریف کو کیوں اندر نہیں کیا۔سلیم صافی …وہ کہتا ہے یہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی چوری پر پردہ ڈال رہے تھے اورمیرے تو ہاتھ صاف ہیں؟ ۔

شہباز شریف …یہ ہاتھ صاف ہیں جو مشین تھی اے ٹی ایم مشین مجھے بتائیں کہ وہ جو ہیلی کاپٹر کا کیس ہی وہ ہاتھ صاف ہے۔ یہ جو خود اجازت دی کہ شوگر ایکسپورٹ کردو اور ساتھ سبسڈی بھی دی وہ بھی اربوں روپے جیبوں میں گئے اور آپ کہیں ہاتھ صاف ہیں یہ جو مہنگی ایل این جی خریدی گئی اور پھر یہ اس وقت مہنگی ترین ایل این جی خریدی جارہی ہے 15ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور جو ہمارے دور کے سودے ہیں وہ 8 ڈالر ہیں پر یونٹ۔

جب کووڈ اپنے عروج پر تھا اس وقت4 ڈالر تھا فی یونٹ۔ اور کمپنی تھی جس نے آفر کی باضابطہ آفر کی کہ ہم آپ کے جتنے بھی ایل این جی کی معاہدے ہیں وہ ہم خرید لیتے ہیں اور ہم آپ کو چار ڈالرز پر گیس دیں گے انہوں نے وہ معاہدہ نہیں کیا اور اب سن لیں میری بات ایک سال کے اندر ان کو اربوں ڈالر اضافی پیمنٹ دینا پڑی گے۔ پھر ایل این جی خرید میں۔سلیم صافی…یہ اے ٹی ایم سے مجھے پی ڈی ایم یاد آگئی۔ آپ جب جیل سے رہا ہوئے تھے تو مجھے لگ رہا تھا کہ پی ڈی ایم میں واپس اے این پی اور پی پی کو واپس لانا چاہتے ہیں تو ابھی بھی آپ کی وہ کوشش ہے؟شہباز شریف …

بطور لیڈر آف دی اپوزیشن میرے یہ فرائض میں شامل ہے کہ میں ساری اپوزیشن پارٹی کو ان کو ساتھ لے کر چلوں اور اس کا نتیجہ دیکھا میں نے بجٹ سے پہلے تمام اپوزیشن پارٹی کو اکھٹا کیا، ان کے سربراہان کو عشائیہ بھی دیا اور پھر آپ نے دیکھا کہ ہم بجٹ میں یک جان دو قالب تھے مجھے جو کتابیں ماری گئیں، گالیاں دی گئیں پوری اپوزیشن میرے ساتھ کھڑی تھی۔سلیم صافی …پیپلز پارٹی اپوزیشن ہے؟۔

شہباز شریف …پارلیمنٹ میں تو ہے، میں بجٹ کے حوالے سے بات کررہا ہوں لیکن آپ جو پی ڈی ایم کی بات کررہے ہیں وہ جب بنی تو میں جیل میں تھا، ٹوٹی تو میں جیل میں تھا تو آپ اس بارے میں مجھ سے گلہ تو نہیں کرسکتے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگر کہیں گیپ ہے تو ہمیں اس کے لئے پل کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اگر ہم باہر اکھٹے نہیں ہیں تو کم از کم پارلیمنٹ میں تو اکھٹے ہوں تاکہ ایک آواز کے ساتھ جو اس حکومت کی بدترین کارکردگی ہے اس پر آواز اٹھائیں جو اس کی کرپشن ہی اس کے اوپر آواز اٹھائیں میں سمجھتا ہوں عوام بھی یہ چاہتے ہیں۔ پی ڈی ایم کا معاملہ علیحدہ ہے۔

اہم خبریں سے مزید