• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

اولمپکس: پاکستان کی مایوس کن پرفارمنس نئی نہیں

ٹوکیو اولمپکس گیمزمیں پاکستان کے کھلاڑیوں کی کار کردگی خاصی مایوس کن رہی تاہم کھیلوں کے حلقوں کا کہنا ہے کہ دستے میں شامل ایتھلیٹس سے اس سے اچھی پر فار منس کی توقع نہیں تھی جن کھلاڑیوں نے اس اہم ایونٹ کے لئے اچھی ٹریننگ ہی نہ کی ہو ان سے کیسے اچھے نتائج کی امید کی جاسکتی ہے، کسی بھی کھلاڑی نے سوائے اولمپکس کے رسائی رائونڈ کے کسی دوسرے مقابلوں میں حصہ ہی نہ لیا ان سے آپ کیسے بہتری اور خوش خبری کی توقع کر سکتے ہیں ، آس اور امیدیں وابستہ کر سکتے ہیں، ہامری بدقسمتی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ اولمپکس میں سوائے ہاکی کے کبھی بھی ہمارا ریکارڈ اچھا نہیں رہا،مگر کبھی بھی حکومتی سطح پر دیگر کھیلوں میں تبدیلی اور بہتری کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ 

ہم ہاکی میں جیت کے جشن میں مصروف رہےجس کی وجہ سے پاکستان اسپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن اور فیڈریشنوں کا احتساب نہ ہوسکا، فیڈریشنوں پر برسوں سے براجمان افراد اور چہرے آج بھی اسی طرح موجود ہیں، یہ وہ عمل ہے جس نے ہمیں کھیل کے شعبے میں تباہی اور بر بادی کے دہانے پر پہنچادیا،ماضی میں وفاقی سطح پر ایسے لوگوں کو وزیر بنایا گیا جن کو کھیل کی الف ب تک معلوم نہیں،حکومتی سطح پر کبھی ملک کے نامور کھلاڑیوں اور مدتوں سے کھیلوں کی رپورٹنگ کرنے والے میڈیا پرسن سے رائے نہیں لی گئی جس کا خمیازہ ہمارے سامنے ہیں، ٹوکیو میں وہ ممالک جو آبادی کے اعتبار سے ہم سے بہت کم ہیں وہ بھی میڈلز کو اپنے گلے کی زینت بنانے میں کام یاب ہوچکے ہیں، مگر ہم اب ٹوکیو میں اپنی آخری امید ایتھلیٹ ارشد ندیم کے مقابلے سے مرکوز کئے ہوئے ہیں جو جیولین تھرو میں چار اگست کو ایکشن میں نظر آئیں گے۔ 

ہمارے شوٹرز بھی ناکام رہے،بیڈ منٹن،جوڈو اور پیراکی میں بھی ہمارے ہاتھ اور دامن خالی رہے، ویٹ لفٹنگ میں طلحہ طالب ہار کر بھی قوم کی نظروں میں جیت گئے، بلاشبہ ان کی کار کردگی مثالی رہی، ان کی ناکامی کے ذمے دار ملک میں کھیلوں کے حکام ہیں جو اپنی مستیوں میں مگن رہے مگر انہوں نے طلحہ طالب کے درد کا احسا س نہیں کیا، اس کی فیڈریشن کے حکام نے طلحہ طالب کے لئے میڈل کو ٹارگٹ نہیں بنایا بلکہ اولمپکس میں اپنی شر کت کو اپنا ہدف بنایا، فیڈریشن کے صدر خود اس کے ساتھ سپو رٹنگ اسٹاف کے طور پر چلے گئے مگر ایک اچھا اور معیاری کوچ اس کے ساتھ نہ بھیج سکے،ٹوکیو اولمپکس گیمز میں ویٹ لفٹر طلحہ طالب اور بیڈ منٹن کھلاڑی ماہور شہزاد کے ساتھ کوچز نہ بھیجنے پر کھیلوں کے حلقوں میں تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی کھیلوں کے مداح دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں، حیرت انگیز طور پر ویٹ لفٹر کے ساتھ پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے صدر حافظ عمران بٹ بطور منیجر کم کوچ گئے تھے، جبکہ ماہور شہزاد کے ساتھ فیڈریشن کے سکریٹری واجد علی چوہدری گئے ہیں، جن کے اخراجات پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن نے برداشت کئے، خود اپنی ناکامی کے بعد طلحہ طالب نے کہا کہ انہیں ایک اچھے کوچ کی کمی محسوس ہوئی اور والد کی کمی کا احسا س ہوا ، واضح رہے کہ طلحہ طالب کی زیادہ تر کوچنگ ان کے والد نے کی ہے، دوسری جانب پاکستان بیڈ منٹن فیڈریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فیڈریشن کے سکریٹری واجد علی خود بھی بیڈ منٹن کے انٹر نیشنل کھلاڑی رہ چکے ہیں، انہوں نے مسلسل آٹھ مرتبہ قومی اعزاز جیتا۔

پی ایس بی کی جانب سے کوچنگ کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے واجد نے خود ماہور شہزاد کی کوچنگ کی اور اولمپکس گیمز کے دوران بھی انہوں نے ماہور کو ٹپس دی۔ تاہم کھیلوں کے حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کو ان دونوں کھلاڑیوں کے لئے ملک میں موجود ان کھیلوں کے سابق قومی کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنا چاہئے تھی جو کوچنگ لیول کورس کرنے کے ساتھ ساتھ کوچنگ کا انٹر نیشنل اور ایشیائی تجربہ بھی رکھتے تھے۔پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے صدر اور ٹوکیو اولمپکس میں ایتھلیٹ سپورٹ پرسنل کی حیثیت سے طلحہ طالب کے ساتھ جانے والے حافظ عمران بٹ نے کہا کہ میں جوائے رائیڈ پر نہیں گیا تھا۔ 

میں متعدد بار پاکستان کا قومی چیمپئن رہ چکا ہوں اور کوچنگ کابھی تجربہ رکھتا ہوں۔اولمپئین ویٹ لفٹرطلحہ طالب نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں پاکستان واپڈا میں ملازمت پر مستقل کیا جائے ، جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری کار کردگی پر ملک بھر میں جشن منایا گیا،مگر مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ اگر ایک سال قبل میر درخواست پر مجھے ٹریننگ کی بہتر سہولت فراہم کردی جاتی تو شاید میں گولڈ میڈل جیت لیتا،انہوں نے کہا کہپاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن نے میرے اخراجات اٹھائے اور مجھے اس پلیٹ فارم پر آنے کے لیے تیار کیا تاکہ میں پاکستان کی بہترین انداز میں نمائندگی کر سکوں۔

انہوں نے کہا ویٹ لفٹنگ میں ایک کھلاڑی کے ساتھ کم از کم تینکوچ کی ضرورت ہوتی جو اس کے سامان( وزن) کو چیک کرتے ہیں ، ایک باڈی مسلز کی مالش کرتا، تیسرا کوچنگ کرتا ہے، مجھے فلسطینی کوچ نے دوستی کی وجہ سے سپوٹ کیا، انہوں نے کہا جن سامان سے میں نے تیاری کی وہ دنیا میں اب استعمال بھی کم ہوتے ہیں،امید ہے اگلے اولمپکس کے لئے حکومتی سطح پر میرے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ اولمکس کے ختم ہونے سے پہلے ہی پاکستان اولمپکس اور پی ایس بی کے درمیان لفظی اور الزامات کی جنگ شروع ہوچکی ہے۔

پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کی اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ملک میں کھیلوں کی ترقی انکی ذمے داری نہیں ہے تو کیا اولمپکس چارٹرڈ کے مطابق فیڈریشنوں میں مار کیٹنگ اور میڈیا کے شعبے کا قیام تو پی او اے کی ذمے داری ہے اس پر کس قدر عمل کیا گیا،فیڈریشنوں کو محتاج رکھنے کی ذمے دار پی او اے بھی ہے، پھر اولمپکس گیمز میں ماہور اور طلحہ کے ساتھ معیاری کوچ کے بجائے فیڈریشن کے عہدے داروں کو ساتھ لے جانا پی او اے جیسے اہم ادارے کے لئے قابل غور نہیں ہے،پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے عہدے دار کو بطور آفیشل لے جانے کے بجائے طلحہ کے ساتھ ایک حقیقی کوچ بھیج دیا جاتا تو پی او اے کو تنقید کا سامنا تو نہیں کرنا پڑتا،اس پر نوازے کے الزامات تو نہیں لگتے۔ 

ڈاکٹر اسد عباس اور چیف ڈی مشن کی موجودگی میں شمشاد لودھی کو بطور کوڈ آفیسر لے جاننے کی کیا منطق بنتی ہے، کورونا ایس او پیز پر ڈاکٹر اور چیف ڈی مشن ہی عمل کراسکتے تھے جبکہ کوڈ کے حوالے سے اجلاس میں ڈاکٹر اسد کی نمائندگی ہی کافی ہوتی، دوسری جانب پاکستان اسپورٹس بورڈ کو بھی اپنے رویہ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، فیڈریشنوں کے مسائل اور احتساب پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اہم کھیلوں میں حصہ لینے والے قومی دستےمیں شامل لوگوں کی ضرورت کے مطاق شمولیت کے حوالے سے فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے،صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ پی ایس بی کا کوئی بھی بندہ اولمپکس میں جوائے ٹرپ پر نہیں گیا، کھلاڑیوں کے مسائل پر توجہ دینا ہوگی، ان کو ٹریننگ کی سہولتیں فراہم کرنا ہوگی اس کے بغیر ہر اولمپکس کے بعد قوم کے چہروں پر ایسی ہی مایوسی اور اداسی ہوگی جو آج ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید