• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صنعت و حرفت اور تجارت کی ترقی اس امر پر منحصر ہے کہ ملک میں ضرورت کی خام اجناس بہ کثرت پیدا ہوں اوران کی نقل و حمل میں زیادہ دقتیں پیش نہ آئیں۔ سندھ کا خطہ ان دونوں شرائط پر پورا اترتا تھا۔ اس لئے صنعت و حرفت نے بھی ابتدا ہی سے خوب ترقی کی اور تجارت نے بھی بڑا فروغ پایا۔ یہاں کپاس کی کاشت قدیم دور سے ہوتی تھی ، لہٰذا کپڑے کی صنعت بھی بام عروج پرتھی۔ 

اس دور میں خام چمڑے، لکڑی اور اون کی بھی کمی نہ تھی۔ دریائے سندھ کے ذریعے ،کشتیاں اور چھوٹے جہاز شمال سے جنوب اور جنوب سے شمال تک آتے جاتے تھے اور ان کے ذریعے سامان تجارت ہر جگہ پہنچایا جا تا تھا۔ یہ خطہ ایسی جگہ واقع تھا کہ ایشیا کے اکثر ملکوں اور یورپ سے جو قافلے خشکی اور ترکی کے راستے آتے وہ سب سے پہلے سندھ پہنچتے ۔ یوں اس کا تعلق دنیا بھر سے قائم ہو گیا اور یہ برصغیر پاک و ہند کی تجارت کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ تجارت کےساتھ ساتھ صنعتیں بھی ترقی کرتی رہیں۔

اس خطے کی زرعی پیداوار اور صنعت و حرفت نے یورپی اقوام کو برصغیر خاص طور سے وادی مہران میں دل چسپی لینے پر مجبور کیا۔ سب سے پہلے پرتگیز وہاں پہنچے اور ان کی کوشش یہ رہی کہ کوئی دوسری قوم سندھ کی کسی بندر گاہ میں قدم نہ جمانے پائے ۔ ان کے بعد انگریز آئے اوروہ سندھ میں تجارتی کوٹھی بنا کر رہنے لگے۔ 

ان کی کوشش بھی یہی تھی کہ سند ھ کی تمام تجارت صرف ان کے قبضے میں رہے۔ آخر میں ولندیزی آئے جس کے بعد سندھ میں قدم جمانے کے لیے یورپی اقوام میں مسابقتی دوڑ شروع ہوگئی۔ ہندوستان میں پرتگیزحکومت کے سرکاری وقائع نگار’’ ا نٹونیو بکارو‘‘ نے اس سلسلے میں تحریر کیا کہ ’’سندھ کی سلطنت اتنی خوشحال اور اس کی تجارت اتنی وسیع ہے کہ جتنے بھی جہاز باہر سے آجائیں، انہیں مال تجارت مل جاتا ہے‘‘۔

سندھ کی صنعت و حرفت میں سب سے پہلے سوتی پارچہ جات کا ذکر آتا ہے۔ برطانوی مؤرخ ،مسٹر چبلاتی کے بیان کے مطابق مغلوں اور کلہوڑوں کے عہد میں، ٹھٹھہ سوتی پارچہ جات کی صنعت کا ایک اہم مرکز تھا۔یہاںکا کپڑاتنا نفیس تھا کہ اسےایشیائی پارچہ جات میں سب سے اچھا سمجھا جاتا تھا اور ہر جگہ اس کی مانگ تھی۔ یورپی تاجر سندھ سے کپڑے کے تھان ،جہازوں میں بھر کر لے جاتے اوراپنے ممالک میں انہیں فروخت کرکے دولت کماتے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کار پردازوں نے ایک موقع پر اپنے سندھی کارندوں کو ہدایت کی کہ سندھ کے ’’بافتے‘‘ انگلستان میں سب سے زیادہ بکتے ہیں۔ 

مال بھیجتے وقت ان بافتوں کی مقدار بڑھائی جائے۔ 1696ء میں یہ حالت تھی کہ سندھ کا بنا ہوا کپڑا ہی لوگ زیادہ خریدتے تھے۔ ٹھٹھہ، نصر پور، سہون، کنڈیارو، دربیلو، بکھر، سکھر، روہڑی، گمبٹ، بوبک اور سن، سوتی پارچہ جات کے مشہور مراکز تھے۔ سندھ کی بنی ہوئی ’’چھینٹ‘‘ دنیا کی ہر منڈی میں مقبول تھی۔ انٹونیو بکارو کا بیان ہے کہ 1631ء میں جب ٹھٹھہ شہر کی آبادی صرف تیس ہزار نفوس پر مشتمل تھی ،اس وقت تین ہزار کنبے صرف پارچہ بافی کی صنعت سے وابستہ تھے۔ برطانوی مؤرخ، ہملٹن کا بیان ہے کہ ٹھٹھہ میں 1696ء میںطاعون کی وباء پھیلی، جس میں 80ہزار سے زیادہ افراد جو ریشمی اور سوتی کپڑے کی صنعت سے وابستہ تھےلقمہ اجل بن گئے۔ٹھٹھہ کے بعد نصر پور کا درجہ تھا جس میں انگریزوں کے بیان کے مطابق ایک ہزار کنبے صرف اسی پیشے سے تعلق رکھتے تھے۔

ریشمی کپڑے، خصوصاً دیدہ زیب لنگیوں کی صنعت کو بھی فروغ حاصل تھا۔ اس کے علاوہ چکن، دوزی، جامہ وار، کمخواب، کشیدہ کاری، کارچوبی، گل کاری وغیرہ کی صنعت کے نمونے آج بھی ملتے ہیں جنہیں دیکھ کر سندھ کے دست کاروں کی مہارت پر حیرت ہوتی ہے۔ تھر پار کر میں اونی کپڑا بننے کا کام انتہائی نفیس ہوتا تھا، خصوصاً یہاں کی بنائی گئی ٹوپیاں بے مثال مانی جاتی تھیں۔ ان کے علاوہ کمبل، خورجیاں اور بورے نہایت نفاست سے تیار ہوتے تھے۔

کلہوڑا دور حکومت میں سندھ کا خطہ، چمڑے کی مصنوعات کے حوالے سے بھی شہرت کا مالک تھا۔ یہاں گائے ، بھینس، بھیڑ، بکریوں اور اونٹوں کی بہ کثرت افزائش ہوتی تھی، جن کی کھالیں چمڑاسازی کے لیے خام مال کے طور پر با افراط مل جاتی تھیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق یہ کھالیں بھی یورپی ملکوں کو برآمد کی جاتی تھیںجب کہ سندھ کاخام چمڑا بھی وہاںبہت پسند کیا جاتا تھا، یہ ملائمت اور پائیداری میں یورپ میں تیار ہونے والے چمڑے کے مقابلے میں اعلیٰ درجے کا تھا۔

مسٹر چیلانی کا کہنا ہے کہ اس دور میں چمڑا کمانے اور رنگنے کا فن بہت ترقی کر گیا۔ انہوں نے سندھ کے ’’دل آویز چمڑے‘‘ کا ذکر کیا ہے جو میز پوش کےطور پر استعمال ہوتا تھا اور آرائش کے لئے ’’دیوں‘‘ پر لٹکایا جاتا تھا۔اس کی ملائمت کی وجہ سے بستر پر بھی لوگ بچھاتے تھے۔ سندھ کے چمڑے کو مختلف مصنوعات کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔اس سےگھوڑوں کی زین ، اونٹوں کے ساز، ڈھالیں ، دستانے ، پیٹیاں، جوتے، مشکیزے اور گھی کے کپے بنتے تھے۔

سندھ کا جغرافیہ اور محل وقوع ایسا تھا کہ بیرونی ملکوںکو بھیجا جانے والا سامان تجارت یہیں سے گزر کر جاتا تھا، اس لیے یہ خطہ ایشیا ، وسط ایشیا اور یورپی ممالک کے درمیان راہداری کا کردار اد کرتا تھا۔ شمالی ہند ، مار واڑ، بیکانیر، جیسلمیر، ملتان، پنجاب، کشمیر، صوبہ سرحد، بلوچستان اور افغانستان سے جو تجارتی سامان بیرونی ممالک بھیجا جاتا تھا ،وہ پہلے سندھ پہنچتا اور یہاں سے جہازوں میں لاد کر دیگر ملکوں میں بھیجاجاتا تھا۔ باہر سے جو مال ان ملکوں کی ضرورت کے لئے آتا، وہ بھی سب سے پہلے سندھ ہی میں اترتا۔ اسی سبب سے سندھ کی بندر گاہیں، دیبل، لاہری بندر اور نگا بندر، شاہ بندر، بستہ بندر، علی بندر سے مال بصرہ، بندر عباس، ہرمز، مسقط، بحرین وغیرہ مال بھیجا جاتا تھا جہاں سے یہ سامان تجارت، خشکی کے راستے قسطنطنیہ یا مصر اور بعد ازاں یورپ بھیجا جاتا تھا۔ (’’تاریخ سندھ ‘‘سے ماخوذ ایک باب، مصنف، غلام رسول مہرؔ)