• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومتی عدم توجہی‘ سندھ‘ پنجاب‘ کے پی کے میں شوگر ملوں کی چاندی

اسلام آباد (حنیف خالد) شوگر ملوں کی چاندی لگی ہوئی ہے‘ بینکوں کے ذریعے ملک بھر کی شوگر ملوں نے کم و بیش 220روپے من گنا کاشت کاروں سے خریدا‘ اور آج انہوں نے 110روپے کلو تک چینی صارفین کو خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔ 80شوگر ملوں کے مالکان نے 21کروڑ سے زائد عوام کو یرغمال بنا لیا ہے اور سوا دو سو روپے من خریدا گیا گنا ملک کی اسی شوگر ملوں نے سیزن میں 58لاکھ ٹن چینی پیدا کی جو کہ ملکی ضرورت سے بھی 2لاکھ ٹن زیادہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان انجمن کاشت کاران کے مرکزی صدر سردار محمد یعقوب نے بدھ کی شب جنگ گروپ کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ چینی شوگر ملز مالکان نے 80روپے سے 83روپے فی کلو کے ایکس ملز ریٹ پر جس میں 17فیصد سیلز ٹیکس بھی شامل ہے شوگر ڈیلروں کو فروخت کی۔ اگر کسی کو کوئی شک ہے یا کوئی شوگر ملز مالک اسے غلط قرار دیتا ہے تو حکومت پنجاب‘ فیڈرل بورڈ آف ریونیو‘ سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان‘ ایف آئی اے اور دوسرے حکومتی ادارے وزیراعظم کے ایک حکم پر بتا دیں گے کہ پنجاب‘ سندھ‘ خیبر پختونخوا کی شوگر ملوں نے چینی کے ایکس ملز ریٹ بمعہ سیلز ٹیکس کی انوائسز کس ریٹ پر کاٹی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ملک میں جہانگیر خان ترین سب سے بڑے شوگر پروڈیوسر ہیں‘ انکی جے ڈی ڈبلیو شوگر مل بھی 2لاکھ ٹن چینی پیدا کرتی ہے جبکہ جہانگیر ترین کی کم و بیش 8بڑی پیداوار والی جدید ترین شوگر ملیں ہیں۔ یہ ملیں پورے پاکستان میں بننے والی 58لاکھ ٹن چینی کا 23فیصد چینی بنا رہی ہیں۔ باقی تمام ملیں 77فیصد چینی پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ملوں کی پیداوار اور انکے ایکس ملز ریٹ ایس ای سی پی کے پاس رپورٹ ہوتے ہیں‘ ایف بی آر چیک کر سکتا ہے کہ کس ریٹ پر انوائس کاٹی گئی اور کس شوگر ملز نے کتنا سیلز ٹیکس اپنی بنائی گئی چینی پر ادا کیا ہے۔ آل پاکستان انجمن کاشت کاران کے مرکزی صدر سردار محمد یعقوب نے بتایا کہ جہانگیر خان ترین کے بعد آصف زرداری اور انکے رفقاء کا اومنی گروپ سب سے بڑا شوگر پروڈیوسر ہے‘ جس کی چھوٹی چھوٹی شوگر ملیں ہیں جن کی پیداوار جمال دین والی (جے ڈی ڈبلیو) گروپ کی شوگر ملوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

ملک بھر سے سے مزید