• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی شاید دنیا کے ان گنتی کے شہروں میں سے ایک ہے جس کی آبادی ریکارڈ ٹائم میں 100 گنا سے بھی زیادہ بڑھی ہے۔ یہ ایک ایسا عالمی ریکارڈ ہے جو کوئی دوسرا شہر آج تک نہیں توڑ سکا۔ کراچی کو دوسرا اعزاز یہ بھی شامل ہے کہ یہ دنیا کا سب سے زیادہ خیرات دینے والا شہر ہے جس کی سڑکوں پر ہر شخص کو کھانا ملتا ہے اور جہاں غریب بھوکا نہیں سوتا۔ کراچی کو عروس البلاد یعنی شہروں کی دلہن کا خطاب اس لیے ملا کہ ایک زمانے میں اس شہر کی سڑکیں روزانہ دھلتی تھیں۔

کراچی ایک قدرتی بندرگاہ ہے اور قدیم زمانے سے یہ ماہی گیری کا مرکز رہی ہے۔ اپنی قدامت کے اعتبار سے اس کی قدیم تہذیب کانسی کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔ کانسی کا زمانہ کوئی 4000 سال پہلے شروع ہوا تھا۔اس طرح کراچی کے قدیم باشندے دھاتوں کے استعمال میں مہارت رکھتے تھے۔ کراچی قدیم زمانے ہی سے بحری تجارت کا مرکز تھا۔ اس زمانے میں اسے مختلف ناموں سے پکارا گیا۔ کراچی کے بارے میں ماہریں آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ وادی سندھ کی تہذیب یعنی موہن جو داڑو سے بھی زیادہ قدیم ہے۔ 

کراچی سے کچھ فاصلے پر ایک قدیم بندرگاہ بھمبھور کے آثار موجود ہیں جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہی دیبل تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا۔ اسی طرح دریائے حب جس جگہ سمندر میں گر رہا ہے وہاں بھی ایک قدرتی بندرگاہ تھی۔ کراچی سے جتنے بیرونی حملہ آور گزرے انہوں نے اسے الگ الگ نام دئے۔ مثلا جب سکندر اعظم یہاں سے گزرا رو اسے کروکولا اور موروٹوبارا کا نام دیا اور جب اس خطے میں ، ہندو یونانی باختری سلطنت قائم ہوئی تو اسے بارباریکن کا نام دیا گیا۔

بعض یونانی مخطوطوں میں اسے رامیا لکھا گیا۔خیال ہے کہ جدید کراچی جس جگہ واقع ہے دریائے سندھ کی کوئی شاخ اس کے قریب سمندر میں گرتی تھی لیکن بعد میں دریا نے اپنا راستہ بدل لیا۔ ممکن ہے کہ یہی دیبل ہو۔ محمد بن قاسم نے 712 میں سندھ پر حملہ کیا تو سندھ کی بڑی بندرگاہ دیبل تھی۔ ماہرین بھنبھور کو دیبل قرار دیتے ہیں کیونکہ وہاں عربوں کے قیام کی نشانیاں ایک مسجد کی شکل میں محفوظ ہیںَ۔. جدید کراچی کی بندرگاہ 19 ویں صدی کے آخر میں برطانوی نوآبادیاتی راج کے دوران قائم ہوئی جو منوڑا جزیرے کے قریب تھی اس طرح اس نے پہلی بار ایک جدید بندرگاہ کی شکل میں ترقی کرنا شروع کی ۔

کراچی کے قدیم ناموں میں کروکولا، بارباریکن، نوا نر، رام باغ، کرک، کرک بندر، اورنگا بندر، مناگارا، کلاچی، مورن ٹوبارا، کلاچی جو گوٹھ، بن بھور، دیبل، بارباریس اور کراچی Kurrachee شامل ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کے سامنے ملری کی پہاڑیوں پر کراچی یونیورسٹی کے محققین کی ٹیم نے قدیم آثار قدیمہ دریافت کیے ہیں جو Paleolithic (پتھر کا زمانہ)اورMesolithic (آٹھ ہزار سے بیس ہزار سال پرانا)دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں قدیم زمانے میں شکار کرکے کھانے والوں نے چٹانوں پر اپنی نشانیاں چھوڑی ہیں۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں قدیم شکاریوں کی آبادیاں تھیں۔یہاں بیس مقامات پر flint tools بھی دریافت ہوئے۔

وادی سندھ کی تہذیب : اللہ دینو اور پیر شاہ جیو میں وادی سندھ تہذیب کے آثار قدیمہ ملے ہیں. اللہ دینو سائٹ پر فرشی ٹائلیں دریافت کی گئی ہیں۔ جدید کراچی کی قریبی بندرگاہیں دیبل اور بھنبھور تھیں جو سیتھی پارتھین دور میں 8 ویں صدی عیسوی کے اوائل تک تجارتی سرگرمیوں کا مرکز تھیں۔اس وقت تک سندھ پر بودھ بادشاہوں کی حکومت تھی جبکہ راجہ داہر جس کا محمد بن قاسم کی فوجوں سے مقابلہ ہوا ہندو تھا۔ بھنبھور کی مسجد 727ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ایک مغربی مورخ اسٹریبو نے کراچی اور دیگر بندرگاہوں سے چاول کی برآمد کا ذکر کیا ہے۔

محمد بن قاسم

711 میں، محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا اور 712 میں دیبل فتح کیا۔ اس وقت سندھ میں عوام کی اکثریت کا مذہب بودھ مت تھا۔ اسی وجہ سے سندھ کے عوام نے عربوں کو اپنا نجات دہندہ تصور کیا۔ ممکن ہے کہ چچ نامہ کا مصنف خود بھی بودھ ہو جس نے عربوں کے حملے کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

مغل سلطنت

سندھ کے مغل گورنر مرزا غازی نے کراچی اور قرب و جوار کی دوسری بندرگاہوں کو پرتگیزی حملہ آوروں سے بچانے کے لیے قلعہ بندیاں تعمیر کیں۔ دیبل اور کراچی کے جزیرہ منوڑہ کا تذکرہ مغل دور کے مورخین کی تحریروں میں ملتا ہے۔ اسی زمانے میں ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے امیر البحر ایڈمرل سید علی رئیس نے بھی اس خطے کا دورہ کیا۔ ترک امیر البحر اپنے بیڑے کے ساتھ انڈونیشیا کی بندرگاہ ایچے گیا تو سندھی ملاح بڑی تعداد میں اس کی فوج میں ملازم ہوگئے اور اس کے ساتھ کئی بحری جنگوں میں شریک ہوئے۔ برطانوی سیاحوں تھامس پوسٹس اور ایلیوٹ نے بھی ان بندرگاہوں کادورہ کیا اور اپنے سفر ناموں میں کئی شہروں خاص طور پر ٹھٹھہ کا تذکرہ کیا۔

کڑک کی بندرگاہ

ساتویں صدی میں کڑک بندر کراچی اور بلوچستان کی سرحد پر بہنے والے دریائے حب کے ڈیلٹا پر ایک چھوٹی سی بندرگاہ تھی۔ یہ جنوبی وسطی ایشیائی تجارت کے لئے ایک عبوری مقام تصور کی جاتی تھی۔ 1728 ء میں بھاری بارشوں کی وجہ سے اس بندرگاہ کو نقصان پہنچا۔ یہ بندرگاہ اب استعمال کے قابل نہیں رہ گئی۔ نتیجے کے طور پر کرک بندر کے تاجروں نے کراچی کی جانب اپنی کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 

کراچی تھوڑے عرصے میں بحری تجارت کا مرکز بن گیا۔ 1729 اور 1839 کے درمیان تجارت میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ شاہ بندر اور کیٹی بندر جو دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں واقع تھیں اور ان بندرگاہوں سے گزر کر بحری جہاز اور کشتیاں دریائے سندھ میں داخل ہوتی تھیں اور شمالی علاقوں تک جاتی تھیں۔بعد میں ان بندرگاہوں سے ہونے والی تجارت بندرگاہ میں مٹی بھر جانے کی وجہ سے کراچی منتقل ہوگئی۔

اس وقت کراچی کو کلاچی (Kolachii) کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یہاں سے بحری تجارت اور ماہی گیری کرنے والے زیادہ تر لوگ بلوچ تھے۔ یہ لوگ اب بھی عبداللہ گوٹھ کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر رہتے ہیں، جو کراچی پورٹ کے قریب واقع ہے۔ اصل نام ''کلاچی'' مائی کلاچی کے نام سے منسوب ہے جو بعد میں بگڑ کر کراچی کے نام میں زندہ رہا ہے ۔سندھ کے مغل گورنر مرزا غازی بیگ نے ساحلی سندھ کی ترقی کے لئے کافی کام کیا۔

1729 میں بلوچستان اور مکران سے بلوچ قبائلیوں نے ماہی گیری کے مرکز کے طور پر کلاچی کی بستی قائم کی۔ روایت کے مطابق ایک ماہی گیر خاتون مائی کلاچی یہاں اپنے خاندان کے ساتھ آباد تھی اس لیے اس بندرگاہ کو اس کے نام سے منسوب کیا گیا۔ سندھی زبان میں اس کا نام ’کولاچی جو گوٹھ‘ تھا۔ سندھ نے 18 ویں صدی کے آخر میں مسقط اور خلیج فارس کے ساتھ سمندری تجارت شروع کی تو کلاچی نے اہمیت حاصل کرلی۔ 

مسقط سے کچھ توپیں در آمد کی گئیں اور اس کی حفاظت کے لئے ایک چھوٹا سا قلعہ تعمیر کیا گیا تھا۔ اس قلعہ کے دو اہم دروازے تھے: ایک سمندر کی طرف تھا اس لیے کھارا در کہلایا۔ دوسرا دریائے لیاری کی طرف تھا جس میں میٹھا پانی ہوتا تھا اس لیے میٹھادر کہلایا۔یہ دونوں جگہیں آج بھی موجود ہیں۔ سومرا خاندان، سمہ خاندان، آرغون خاندان، ترکھان اور تالپور خاندانوں نے سندھ پر حکمرانی کی۔

کلہوڑا خاندان

کلہوڑا خاندان کی حکمرانی میں کلاچی شہر نے ماہی گیری کے مرکز کے طور پر ترقی کرنا شروع کی۔ کلاچی شہر 1720 کی دہائیوں میں تالپور خاندان کی حکومت کا لازمی حصہ تھا.کراچی کا نام 1742 سے ایک ڈچ دستاویز میں پہلی بار استعمال کیا گیا ۔ اس دستاویز میں ایک بحری جہاز ڈی ریڈرکرک (de Ridderkerk) کے ڈوبنے کا تذکرہ ہے۔ پھر یہ شہر تالپور حکمرانوں کے قبضے میں رہا ۔ 2 فروری 1839 کو جان کینی کے سرکردگی میں بمبئی کی انگریزی فوج اس پر قبضہ کر لیا۔

تالپور دور

1795 تک کلاچی جو گوٹھ ریاست قلات کا حصہ تھا۔قلات نے اس شہر کا کنٹرول سندھ کے تالپور حکمرانوں کو دیا۔ ستمبر 1799 میں انگریزوں نے یہاں ایک چھوٹی سی فیکٹری قائم کی لیکن اسے ایک سال میں بند کر دیا گیا۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس شہر پر توجہ دینا شروع کیاور 3 فروری 1839.کو اس شہر کو فتح کرلیا۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں کراچی کلہوڑا خاندان کے قبضے میں آیا اور قلات کے خان کو کلہوڑوں کی طرف سے اپنے بھائی کے قتل کے لئے خون بہا کی رقم کے طور پر دیا گیا تھا۔ تالپور خاندان نے1838 میں اسے واپس لے لیا۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس شہر پر اس لیے قبضہ کیا تاکہ وسط ایشیا اور افغانستان میں روسی سلطنت کے خلاف اپنی فوجی مہموں میںاستعمال کرسکیں۔

(1839 - 1947) سامراجی دور

برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے 3 فروری، 1839 کو کراچی کو فتح کیا۔یہ شہر برطانوی کالونی کا حصہ اس وقت بنا جب سندھ کو 17 فروری 1843 کو میانی کی جنگ میں چارلس جیمز نیپیر نے شکست دی۔ (کراچی کا نیپیئر روڈ، نیا نام الطاف حسین روڈ اسی کے نام پر ہے) انگریزوں نے کراچی کو سندھ کا دارالحکومت بنادیا۔ انگریزوں نے اس شہر کو چھاونی میں تبدیل کردیا اور تیزی سے اس کی بندرگاہ کو جہاز رانی کے لئے تیار کیا۔ شہر کی میونسپل حکومت کی بنیادیں رکھی گئیں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی شروع کی گئی۔ نئے کاروباری ادارے کھلنے لگے اور شہر کی آبادی تیزی سے بڑھنی شروع ہوئی. 1839 ء میں کراچی میں کمپنی بہادر کے نئے فوجیوں کی آمدکے ساتھ فوجی کنٹونمنٹ کی بنیاد رکھی گئی۔

فوجی چھاؤنی نے 'سفید' شہر کی بنیاد ڈالی جہاں ہندوستانیوں کو آزادانہ رسائی کی اجازت نہیں تھی. انگریزوں کے لیے 'سفید(فام)' شہر ماڈل کیا گیا تھا جہاں کام اور رہائشی جگہوں کو الگ کر دیا گیا تھا، تفریحی مقامات رہائشی جگہوں کا حصہ تھے۔ کراچی کو دو بڑے قطبین میں تقسیم کیا گیا تھا. شمال مغرب میں 'سیاہ فام ' شہر تھا، جہاں دیسی آبادی تھی۔اس میں پرانا شہر، نیپیر مارکیٹ اور بندرگاہ بھی شامل تھے، جبکہ جنوب مشرق میں 'سفید(فام)'شہر تھا جس میں شہر اسٹاف لائنز، فریر ہال، میسنک لاج، سندھ کلب، گورنر ہاؤس، کلکٹرز کچہری (لا کورٹس) وغیرہ شامل تھے جو سول لائنز میں واقع تھے۔ 

صدر، اردو بازار کے علاقے اور ایمپریس مارکیٹ کو 'سفید' آبادی میں شاملکیا گیا تھا۔ جبکہ سرائے کوارٹرز 'سیاہ(فام)' شہر کا حصہ تھے۔کراچی کے گاؤں کو بعد میں برطانوی سلطنت میں شامل کردیا گیا جب 1843 میں چارلس نیپیر نے پورا سندھ فتح کرلیا۔ سندھ کا دارالحکومت حیدرآباد سے کراچی منتقل ہوگیا۔1847 میں نیپیر کی روانگی پر پورے سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی میں شامل کردیا گیا ۔ گورنر کی پوزیشن ختم ہوگئی تھی اور سندھ میں چیف کمشنر کا عہدہ قائم کیا گیا تھا۔

انگریزوں نے کراچی کو فوجی چھاؤنی اور بندرگاہ کی حیثیت سے بہت اہمیت دی اور تیزی سے جہاز رانی کی سہولتیں فراہم کیں۔ کمشنر کراچی ہارٹ فریر نے شہری میونسپل کمیٹی کی بنیاد رکھی اور انفراسٹرکچر کو ترقی دی۔ اس کے نتیجے میں نئے کاروباری ادارے کھلنا شروع ہوگئے اور شہر کی آبادی تیزی سے بڑھنے لگی۔ کراچی تیزی سے ایک شہر میں تبدیل ہوگیا۔ نیپیر نے کراچی کے بارے میں کہا تھا کہ ’’کیا مجھے کراچی کی وہ عظمت دیکھنے کو مل سکے گی جو اسے مستقبل میں حاصل ہونے والی ہے‘‘۔ 1857 میں جنوبی ایشیا میں جنگ آزادی برپا ہوئی جس کو کراچی میں تعینات برطانیہ کی 21 ویں مقامی انفینٹری نیسختی سے کچل دیا۔

برطانوی راج

1864 میں کراچی اور لندن کے درمیان پہلا ٹیلی گرافک پیغام (تار) براہ راست ٹیلیگراف کنکشن قائم ہونے پر بھیجا گیا۔ 1878 میں کراچی شہر کو ریل کے ذریعہ باقی برطانوی ہندوستان سے منسلک کردیا گیا۔ بہت سی نئی عمارتیں تعمیر ہوئیں جن میں فریر ہال (1865) اور ایمپریس مارکیٹ (1890) شامل تھیں۔ 1876 میں پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کراچی میں پیدا ہوئے۔ کراچی اب مساجد، گرجا گھروں، مندروں، عدالتوں، مارکیٹوں، پختہ گلیوں اور ایک شاندار بندرگاہ کے ساتھ ایک زبردست شہر بن گیا ۔ 1899 تک کراچی مشرق میں سب سے بڑی گندم برآمد کرنے والی بندرگاہ بن چکا تھا۔ 

شہر کی آبادی 19 ویں صدی کے اختتام تک تقریبا ایک لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ مسلمان، ہندو، یورپی، یہودی، پارسی، ایرانی، لبنانی، عرب، عیسائی اس شہر کا حصہ تھے۔اس طرح یہ ایک کاسمپولیٹن شہر تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ سندھ کا حصہ ہونے کے باوجود اس شہر کی آبادی میں سندھی بولنے والے اقلیت میں تھے(حوالہ 1941 اور 1946 کی مردم شماری)۔ 20 ویں صدی کے آغاز پر شہر میں ٹرانسپورٹ کی قلت محسوس کی جانے لگی ۔ چنانچہ جنوبی ایشیا کے پہلے ٹرام وے نظام کی بنیاد 1900 میں رکھی گئی۔ 

روس اور برطانیہ کے درمیان انیسویں صدی میں اس خطے میں غلبہ حاصل کرنے کے لیے مسابقت شروع ہوئی جس کے نتیجے میں ایک جدید بندرگاہ کی ضرورت محسوس کی گئی اور برطانیہ نے کراچی کو تجارت اور صنعت کا ایک بڑا مرکز بنانے کے علاوہ بحریہ کا مرکز بھی بنادیا۔دنیا بھر سے لاکھوں لوگ نقل مکانی کرکے کراچی آنا شروع ہوگئے۔ برطانوی نو آبادیات کاروں نے شہر میں انگریز آبادی کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کیں۔ حفظان صحت کے لیے اسپتال بنائے اور نقل و حمل کی سہولتیں فراہم کیں، پختہ گلیاں، آب نکاسی کی نالیاں تعمیر کی گئیں، بھنگیوں اور خاکروبوں کا نظام، ٹرام نیٹ ورک، اور گھوڑے سے چلنے والی ٹرالیوں کا نیٹ ورک قائم کیا گیا۔ نوآبادیاتی منتظمین نے فوجی کیمپ قائم کیے۔

کئی منظم مارکیٹیں بنائی گئیں۔ شہر میں اشرافیہ کی بڑی آبادی مخصوص علاقوں میں رہتی تھی۔اشرافیہ کے لیے سماجی سرگرمیوں کے کلب بنائے گئے جو 'جمخانہ' کے نام سے جانے جاتے تھے۔ متمول تاجروں نے بھی کراچی کی ترقی کے لیے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے۔ جہانگیر کوٹھاری پریڈ کلفٹن کے مقام پر تعمیر کی اور فریئر ہال کی تعمیر کے فنڈ میں حصہ لیا۔ جابجا نائٹ کلب ،سنیما اور جوئے خانے تعمیر ہوئے۔ کئی تعلیمی ادارے اور اسپتال نجی شعبے نے قائم کیے۔

1914 تک کراچی برطانوی سلطنت کی سب سے بڑی اناج برآمد کرنے والی بندرگاہ بن گیا تھا۔1924 میں کراچی میں ہوائی اڈہ تعمیر کیا گیا اور ہوائی سروس شروع ہوگئی۔ 1936 میں سندھ بمبئی پریزیڈنسی سے الگ ہوگیا۔ 1947 میں جب پاکستان نے آزادی حاصل کی تو کراچی خوبصورت کلاسیکی اور نوآبادیاتی یورپی اسٹائل کی عمارتوں کے ساتھ مکمل طور پر آرام دہ اور پرسکون میٹروپولیٹن شہر بن گیاتھا۔ بنیادی طور پر سندھ کی مسلم آبادی نے مسلم لیگ اور پاکستان کی تحریک کی حمایت کی تھی۔ 1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد ہندوؤں اور سکھوں نے بھارت کی طرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی۔ 

مہاجرین نے بہت بڑی تعداد میں بھارت کے مختلف علاقوں سے پاکستان خاص طور پر کراچی کی جانب نقل مکانی کی۔ بہت سے غریب کم ذات ہندو کراچی چھوڑ کر نہیں گئے اور شہر ہی میں رہے۔ کراچی کے دارالحکومت بننے کے بعد یہ شہر ہر طرح کی سیاسی، سماجی اور کاروباری سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ روزگار کے مواقع بڑھے تو پورے پاکستان سے لاکھوں افراد کراچی آنے لگے۔مہاجروں کی بڑی تعداد پہلے کیمپوں میں تھی جہاںزیادہ تر خیمے لگے ہوئے تھے۔ بعد میں کراچی کے نواح میں کئی رہائشی اسکیمیں شروع کی گئیں اور ان مہاجروں کو نئی بستیوں میں منتقل کردیا گیا۔

ان نئی آبادیوں میں پیر الہی بخش کالونی، ناظم آباد، شمالی لالوکھیت، گولیمار، ملیر کالونی، لانڈھی ، کورنگی، شاہ فیصل کالونی، اور نیوکراچی شامل تھیں۔ نجی شعبے نے بھی بڑی تعداد میں رہائشی اور تجارتی پلاٹوں کی اسکیمیں شروع کیں جن میں پی ای سی ایچ ایس اور ایسی ہی درجنوں رہائشی اسکیمیں شامل تھیں۔ شمالی ناظم آباد کو وفاقی حکومت کے ملازمین کے رہائشی علاقے کے طور پر ترقی دی گئی اور ایک اعتبار سے یہ ایشیا کا جدید ترین ٹاؤن شپ تھا۔اس کا ڈیزائن اطالوی منصوبہ سازوں اور آرکیٹیکٹس Carlo Scarpa اور Aldo Rossiنے بنایا تھا۔1958 میں ملک کا دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہونے کے باوجود کراچی کی اہمیت مں کوئی کمی نہیں ہوئی اور یہ ملک کا اقتصادی مرکز رہا اور آج بھی ہے۔

کراچی کے قرب و جوار میں کئی صنعتی علاقے قائم کیے گئے، سب سے پہلا صنعتی علاقہ سندھ انڈسٹریل اسٹیٹ منگھوپیر روڈ پر قائم ہوا۔ 1959 میں پاکستان کا دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد میں منتقل کردیا گیا تھا۔کراچی ایک وفاقی علاقہ رہا اور 1970 میں سندھ کا دارالحکومت بن گیا۔1960 ء کے عشرے میں کراچی کو دنیا بھر میں اقتصادی کردار کے طور پر دیکھا گیا ۔بہت سے ممالک نے پاکستان کی اقتصادی منصوبہ بندی کی حکمت عملی کو پسند کیا اور ان میں سے ایک ملک جنوبی کوریا نے پاکستان کا ''پانچ سالہ منصوبہ'' نقل کیا۔ سیول میں کراچی کے بطور عالمی مالیاتی مرکز ڈیزائن کی نقل کی گئی اور کراچی کو ماڈل تصور کیا گیا۔

کراچی کی ترقی میں کراچی یونیورسٹی یا جامعہ کراچی نے جو حصہ لیا اس کا تذکرہ نہ کیا جائے تو نا انصافی ہوگی۔ کراچی یونیورسٹی کا قیام 1950 میں عمل میں آیا۔اس وقت یہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام تھی کیونکہ کراچی وفاقی دارالحکومت تھا۔ 1962 میں کراچی یونیورسٹی کو حکومت سندھ کے حوالے کردیا گیا۔ ابتدا میں کراچی یونیورسٹی نے سول اسپتال کے قریب پرنسز اسٹریٹ(نیا نام چاند بی بی روڈ) پر کچھ پرانی عمارتوں میں کام شروع کیا۔ بعد میں کراچی یونیورسٹی کو 1279 ایکڑ زمین دی گئی جس پر وسیع کیمپس تعمیر ہوا۔ 

میں 1970-71 میں جب کراچی یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کا طالب علم تھا تو طلبہ کی مجموعی تعداد بمشکل پانچ ہزار تھی۔ اس وقت طلبہ کی تعداد 40,000 سے زیادہ ہے جبکہ کراچی یونیورسٹی سالانہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ طلبہ کا امتحان لیتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ جب کراچی یونیورسٹی شہر سے بارہ میل دور تصور کی جاتی تھی لیکن کراچی اب اتنا پھیل گیا ہے کہ یہ تقریباً کراچی کے وسط میں ہے۔ کراچی یونیورسٹی حقیقت میں مادر علمی ہے کیونکہ درجنوں سرکاری اور غیر سرکاری جامعات کی ڈگریاں کراچی یونیورسٹی ہی تفویض کرتی تھی جو اب خود مکمل یونیورسٹی بن چکی ہیں۔

1965 کے پاکستانی صدارتی انتخاب اور جنرل محمد ایوب خان کے خلاف سیاسی تحریک کے نتیجے میں کراچی پر سے حکومت کی توجہ کم ہو گئی۔ اس تحریک کا مرکز کراچی تھا اس لیے حکومت کی جانب سے ردعمل ظاہر ہوا۔ شہر کی آبادی پر بنیادی ڈھانچے کی صلاحیت سے زیادہ بڑھ کر دباؤ تھا۔ اس دباؤ میں مزید اضافہ ہوا۔ 1971 کی دہائی میں کراچی کے صنعتی علاقوں میں مزدوروں کی تحریک نے شدت اختیار کی۔ اس کا سبب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی لیبر اصلاحات اورصنعتوں کو قومیانے کا پروگرام بنا۔ مزدوروں کی ہڑتالیں اور بدامنی اقتصادی ترقی میں کمی کی بڑی وجہ تھی۔

اس دہائی میں مشرقی پاکستان(سابق) سے کم از کم 20 لاکھ مہاجر کراچی آئے۔ 1980 کی دہائی اورپھر 90کی دہائی نے سوویت افغان جنگ سے کراچی شہر میں افغان پناہ گزینوں کی آمد بھی دیکھی۔ 1992 سے 1994 کے زمانے کو شہر کی تاریخ میں خونی مدت کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ شہر میں قتل و غارتگری عام تھی۔ جرائم پیشہ افراد دند ناتے پھرتے تھے۔ بھتہ خوری نے کراچی کے تاجروں کا کاروبار تباہ کردیا۔ صنعتی ترقی کو غیر معمولی نقصان پہنچا۔لیاری میں منشیات کے اڈوں پر قبضے کی جنگ میں ہزاروں پرامن معصوم شہری شہید ہوئے۔آخر کار فوج نے (ایم کیو ایم) کے خلاف اپنا آپریشن شروع کیا اور کراچی کے عوام کو بدامنی اور بھتہ خوری کے عذاب سے نجات دلائی۔

کراچی ملک کا ایک اہم مالی اور صنعتی مرکز ہے۔ پاکستان اور وسطی ایشیا کے ممالک کی زیادہ تر تجارت کراچی کے ذریعہ ہوتی ہے۔ کراچی سندھ، پاکستان اور قومی جی ڈی پی(مجموعی قومی پیداوار) کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے۔ ملک کے سفید کالر کارکنوں کی بڑی تعداد کراچی کی آبادی کا حصہ ہے۔ کراچی ایک پگھلنے والے برتن کی طرح ہے جہاں پاکستان کے تمام حصوں اور قومیتوں کے لوگ رہتے ہیں۔ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت دونوں کی جانب سے یہ وعدہ کیا جاتا رہا ہے کہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کوترقی دی جائے گی۔ لیکن ابھی تک ان وعدوں پر عمل درآمد کے آثار نظر نہیں آئے۔ 

اب کچرا، گندگی اور بے ہنگم تعمیرات اس کی شناخت بن چکی ہیں۔ کراچی دنیا کے سب سے بڑے میٹروپولیٹن شہروں میں سے ایک ہے اور حکومتی توجہ اور محبت کا منتظر ہے۔ 1924 میں جب کراچی میں پہلا ہوائی اڈہ تعمیر ہوا تو اس وقت کراچی کو ایشیا کے پیرس کا خطاب ملا تھا۔ 1947 میں جب پاکستان بنا تو شہر کی آبادی چار لاکھ تھی اور اس وقت تک شہر کی سڑکیں دھلتی تھیں۔ کراچی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی عدم توجہ کے باوجود ترقی کرتا رہا اور ایک زمانے میں اسے روشنیوں کے شہر کا خطاب بھی ملا۔اب کراچی کے عوام منتظر ہیں کہ کراچی کب دوبارہ روشنیوں کے شہر کا درجہ حاصل کرتا ہے؟