• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

15 اگست 2021 امریکہ اور افغانستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ثابت ہوا۔ 3000 سے زائد امریکی فوجیوں اور تقریباً 45000 افغان شہریوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن اپنی ناکامی کا ادراک ہونے تک کھربوں ڈالرز اِس جنگ میں جھونک چکا تھا۔ 20 سال کے بعد امریکی حکومت کی جگہ طالبان حکومت نے لے لی ہے۔ کابل کے برآمد ہونے والے حتمی نتائج سے پوری دنیا حیران ہے۔ اس ہزیمت نے لوگوں کو 1970 کی دہائی میںویت نام میں امریکی ناکامی کی یاد دلادی۔ افغان حکومت نے 300,000 سے زائد مسلح فوجیوں ،فضائیہ اور جدید ترین اسلحہ کے باوجود صرف 2 ماہ سے بھی کم وقت میں طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ افغان حکومت طالبان کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی،لیکن اس نے تسلیم کیا کہ اس کے اندازے غلط تھے، امریکہ کوسفارت کاروں اور اتحادیوں کو کابل ایئرپورٹ سے نکالنے کے لئے 5000 فوجی بھیجنے پڑے، لیکن دنیا نے دیکھا کہ امریکی طیارے 2001سے کابل میں موجود اپنے اتحادیوں کو نکالنے کی بجائے صرف اپنے فوجیوں اور ان کے سامان کولے کر چلتے بنے۔ یہ بہت سی دوسری قوموں کے لئے ایک سبق ہے جو امریکہ کی اتحادی بننا چاہتی ہیں۔

افغان حکومت جو امریکیوں اور نیٹو الائنس کی کٹھ پتلی تھی ، بنیادی طور پر کرپٹ اور عوامی حمایت سے محروم تھی۔ افغان فوج امریکی حربی آلات سے لیس تھی لیکن ان کے دل افغان حکمرانوں کے ساتھ نہیں تھے شکست کے آثار دیکھ کر اشرف غنی نے پیٹھ دکھاتے ہوئے بھاگنے میں ہی عافیت جانی۔ امریکیوں کو قوم کی تعمیر کا کوئی تجربہ نہیں، افغان حکومت کی ناکامی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ افغانستان کے لوگوں نے طالبان کی مزاحمت کرنا ہی نہیں چاہی۔بہت سے افغان اس چیلنج سے نمٹنے کی بجائے طالبان پر امریکیوں اور پاکستانیوں کے حوالے سے الزام لگاتے ہیں۔ تاریخ افغانوں کو طالبان کی جارحیت کے مقابلے میں ناکامی کی یاد دلاتی رہے گی۔ افغان حکومت بدعنوان تھی ، 20 برس میں افغانستان کے عوام کے لئے کچھ نہیں کر پائی۔ افغان حکومت کے رہنماؤں نے قومی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی بجائے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اپنے آف شور بینک اکاؤنٹس بھرے، امریکی اس امر سے واقف تھے۔ لیکن وہ انتخاب نہیں کر پا رہے تھے کہ کونسا راستہ چنیں، افغانستان میں ناکامی کو قبول کریں یا کھربوں ڈالر خرچ کرتے ہوئے اپنے فوجیوں کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں مرنے کے لئے چھوڑ دیں؟ 2001 کے حملے کے بعد، طالبان اپنے ہی ملک میں ایک باغی گروپ بن گئے تھے۔ انہوں نے دنیا کی بہترین جدید اسلحے اور ٹیکنالوجی سے لیس فوج اور طاقتور ترین قوم کے خلاف 20 سال تک مزاحمت جاری رکھی۔ وہ دو عوامل کی وجہ سے ایسا کرنے کے قابل ہوئے۔ ایک، ان کی خود کو پشتون کلچر کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت اور ہم آہنگی اور دوسرا ان کاایک مذہبی مثالی معاشرے کی تشکیل کا عزم جس سے افغانستان کے لوگ وابستہ ہو ئے یعنی اسلامی جمہوریہ قائم کرنے کا نظریہ۔ یہ فیصلہ کن نکات تھے جنہیں تاریخ کے آئینے میںبھی دیکھا جا سکتا تھا، یہاں تک کہ آنے والے وقتوں کے لئے ان عوامل نے طالبان کی فتح اور دنیا کی ایک سپر پاور کی تذلیل کا سامان کیا ۔ سقوطِ کابل نوشتہ دیوار تھا ، جسے صرف طالبان اپنے عزم و یقین سے دیکھ سکتے تھے۔

نئی حکمت عملی بنانے والوں کا خیال ہے کہ اب سے امریکی زمینی دستوں کی بجائے جیٹ، ڈرون اور میزائل کے ذریعے طاقت کے حصول پر انحصار کریں گے، کابل سے پسپائی کے بعد یہ ایک اور پسپائی ہوگی۔ ایک درست اقدام کے طور پر، جو بائیڈن نے G-7 کا اجلاس بلایا ہے تاکہ افغانستان کی موجودہ صورت حال اور اس میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکےجہاں امریکی ناکام ہوئے ہیں، چینی اور روسی اس خلا کو پُر کرنے میں تیزی دکھا رہے ہیں۔ امریکیوں کی ناکامی دونوں کی یقینی جیت ہے۔ چین اب طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ سرمایہ کاری، صنعت اور اقتصادی ترقی کے ذریعے افغانستان میں داخل ہونے کے لئے پرعزم ہے۔ طالبان پہلے ہی چین کے ساتھ کام کرنے اور ان کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں شمولیت کے لئے آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ کابل حکومت کے رُخصت ہونےسے پہلے ہی ایرانی طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے۔

سقوطِ کابل کے بعد طالبان نے اعتدال پسندانہ موقف اختیار کیا ہے۔ طالبان نے اُن تمام افواج، سرکاری ملازمین اور لوگوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا ہے جو سابق افغان حکومت کا حصہ تھے۔ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ یہ بین الاقوامی فنڈنگ، پشت پناہی اور تعاون کے ساتھ عالمی تنہائی سے بچنے کے لئے نئی حکمتِ عملی ہے۔ طالبان کی طاقت اب بلا شبہ 2001 کے مقابلے میں بہتر طرز حکمرانی کی غماز ہے۔ طالبان کے امیر المومنین نے خواتین کے حقوق کے تحفظ اور شریعت کے مطابق ان کی تعلیم اور کام پر پابندی عائد نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں افغانستان کے فوجی حل کی سخت مخالفت کی ہے۔ پاکستان کے موقف کی تائید کی جا رہی ہے۔ واحد آپشن مکالمہ، مذاکرات اور ترقی ہیں۔ ترقی کا یہ دور اب پاکستان، ایران، ترکی، روس اور چین کے اتحاد سے آئے گا۔ سپر پاور کا کرداراب انہیں سونپ دیا گیا ہے۔ امید ہے کہ چین نے جو ترقی، بڑھوتری اور برتری کا سلسلہ شروع کیا ہے وہ افغانستان کے لوگوں کو خوشحالی اور امن کے نئے دور سے روشناس کروائے گا۔ شایداب ایک نئی سپر پاوروجود میں آئے جو اس خطے میں روزگار، ترقی، تعلیم، امن اور سلامتی لائے، جو جدید دنیا کی حقیقی سپر پاور ہو۔

تازہ ترین