• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ٹیم کے انتخاب سے ہمارا کوئی تعلق نہیں

صائمہ ہارون ( لندن)

تصاویر : عمران منور

پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیف ایگزیکیٹیو آفیسر وسیم خان پیدا تو برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ہوئے لیکن ان کا آبائی تعلق آزاد کشمیر کے علاقے بھمبر سے ہے۔ انہوں نے زندگی کے ابتدائی ایام برمنگھم کے علاقے ا سمال ہیتھ میں گزارے۔ بارہ برس کی عمر میں جب انہیں وارکشائر انڈر 13 کے لئے منتخب کیا گیا تو اس ٹیم میں سرکاری اسکول میں پڑہنے والے واحد کھلاڑی تھے۔

وسیم خان انگلینڈ انڈر 19 کی ٹیم میں بھی شامل رہے۔2018 میں انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائض کیا گیا اور بعد ازاں وہ پاکستان کر کٹ بورڈکے چیف ایگزیکیٹیو بن گئے، وسیم خان کو حال ہی میں پاکستانی ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے موقع پر وارکشائر کائونٹی کی جانب سے اعزازی کیپ اور سٹی کونسل کی جانب سے ان کی خدمات کے صلے میں شیلڈ سے نوازا گیا۔ ہاکستان روانگی سے قبل وسیم خان نے جنگ سے خصوصی بات چیتکی جو قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔

س: کتنے مطمئن ہیں آپ پاکستانی ٹیم کی حالیہ پرفارمنس سے؟

ج: دیکھیں جب پاکستانی ٹیم ہارتی ہے تو سب کے اوپر پریشر آتا ہے۔ کھلاڑی تو پوری کوشش کر رہے ہیں پوری محنت کررہے ہیں کوچز بھی محنت کر رہے ہیں۔انگلینڈ کی سیریز سے پہلے ہم چھ سیریز لگا تار جیتے تھے تو کافی پراگریس ہو گئی تھی، ہمیں معلوم ہے کہ ٹیم ہارے تو سب پر پریشر آتا ہے، جیتنے پر کھلاڑیوں اور کوچز کی واہ واہ ہوتی ہے۔ چونکہ پاکستان میں کرکٹ کے حوالے سے بہت جذبات پائے جاتے ہیں اس کا دباؤ بھی علیحدہ ہوتا ہے۔ ہر سیریز کے بعد ہم ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔

س: ٹیم ہارتی ہے تو الزام کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف کے ساتھ ساتھ پی سی بی انتظامیہ ، بھی آجاتا ہے، آپ کا کتنا اثر و رسوخ ہے ٹیم سلیکشن میں؟

ج: دیکھیں میں تو ٹیم سیلیکٹ نہیں کرتا کیونکہ ہمارا سیلیکشن پینل ہے۔ جومکمل آزادی سے کام کر رہے ہیں، ہیڈ کوچ اور کیپٹن کی رائے بھی لی جاتی ہے۔ ٹیم سیلیکشن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ، میرا خیال ہے کہ جب ٹیم لڑ کر اور پرفارم کر کے ہارتی ہے تو فینز کے لئے یہ قابل قبول ہے لیکن اگر غیر معیاری پر فارمنس سے ہارے توپھر یہ مداحوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔

س: اکثر اوقات ہمیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ باہر سے آکر ایک شخص پاکستان کی کرکٹ کوتباہ کر رہا ہے، پاکستان میں آپ کو باہر والا کیوں سمجھا جاتا ہے؟

ج: دیکھیں میں ایک برٹش پاکستانی تو ہوں اور اس حقیقت کو تبدیل تو نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ملک کا اپنا سسٹم ہے لیکن اگرآپ دیگر ممالک کو دیکھیں تو وہاں کے کرکٹ بورڈز میں بھی دیگر ممالک سے لوگ آکر کام کر رہے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کرکٹ کا سی ای او بھی دوست ملک سے آیا ہے۔ تھوڑا پریشر تو آتا ہے ،ہم طویل المعیاد بنیادوں ہر کام کر رہے ہیں۔ ہم نے ہائی پرفارمنس سسٹم کو تبدیل کیا۔ 

دیگر مملکت کی ٹیمیں کرکٹ کھیلنے پاکستان آ رہی ہیں۔ دو تین سال پہلے پاکستان کرکٹ میں کیا ہو رہا تھا اور اب کیا ہو رہا ہے۔ جو تبدیلیاں ہم لائے ہیں ان کےنتائج آنے میں تھوڑا وقت تو لگے گا۔ جب آپ ملک کا فرسٹ کلاس کرکٹ سسٹم تبدیل کریں اور سولہ ٹیموں کی جگہ چھ ٹیم میں لے آئیں تو نتائج آنے میں پانچ سے چھ برس لگ سکتے ہیں۔

س : آپ کے کونسے ایسے اقدامات ہیں جن سے پاکستان میں کر کٹ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگئی

ج: پہلے دن سے وزیراعظم عمران خان کی خواہش تھی کہ ہماری فرسٹ کلاس کرکٹ میں صرف چھ ٹیمیں ہوں جیسا کےآسٹریلیا میں ہیں۔ چونکہ وہ کرکٹ بورڈ کے پیٹرن بھی ہیں تو ہمارا کام ان کے ویژن کا نفاذ ہے۔ ہم نے اس پر خاصا کام کیا اورانٹرم کمیٹیاں قائم کی ہیں چھ ٹیموں ہر مشتمل فرسٹ کلاس سسٹم بھی چل رہا ہے ، ان کے نیچے ان کی سیکنڈ الیوینز بھی قائم ہیں،19 شہروں پر مشتمل پروگرام بھی تیار کیا ہے۔ 

ستمبر میں کلب کرکٹ بھی شروع ہو جائے گی جس میں چار ہزار کلبز شامل ہیں۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ فرسٹ کلاس کا معیار اب بہت اونچا ہوا ہے کیونکہ اب ہر ٹیم کو دس میچ کھیلنے ہوتےہیں فرسٹ کلاس میں تو ان پر بھی پرفارمنسدکھانے کا پریشر ہوتا۔

س : انگلینڈ کی آبادی چھ کروڑ کے لگ بھگ ہے، جبکہ یہاں فرسٹ ڈویژن کی اٹھارہ کاونٹی ٹیمزہیں، ہاکستان کی آبادی 22کروڑ سے زیادہ ہے، لیکن پورے ہاکستان میں چھ ٹیمیں بنائی گئی ہیں

ج : دیکھیں ہمارا کام فرسٹ کلاس کرکٹ کو مظبوط بنانا ہے۔ نے پہلے کہا کہ یہ وزیراعظم عمران خان کی خواہش تھی کہ فرسٹ کلاس کرکٹ چھ ٹیموں پر مشتمل ہوہمارا کام اس کا نفاذ ہے۔

س : نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیموں کو کیسے پاکستان آنے پر راضی کیا

ج : سفید بال کی کرکٹ کھیلنے کے لئے تو ٹیمیں پاکستان آ رہی تھیں لیکن ہم ان کو پاکستان آنے کے پیسے دیتے تھے۔ جیسے ویسٹ انڈیز کی ٹیم آئی تھی ان کو پیسے دیئے گئے تھے اس طرح ورلڈ الیون نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا اور انہیں بھی پیسے دیئے گئے تھے۔ لیکن جب تقریبا ڈھائی سال پہلے ہم نے کام شروع کیا ،صاف صاف کہ دیا تھا کہ ہم نہ کسی کو پیسے دیں گے اور نا ہی متحدہ عرب امارات میں کھیلیں گے۔ 

بعض اوقات سسٹم سے زیادہ لوگوں پر اعتماد کیا جاتائے اور میرے انگلینڈ ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ اچھے تعلقات تھے جس کو ہم نے اپنے فائدے کے لیے استعمال بھی کیاہے ان کو پاکستان کے سسٹم پر اعتماد میں بھی لیا ہے۔ سیکیورٹی انتظامات کے لئے حکومت کیساتھ ملکر کافی اقدامات کئے ہیں۔ان سب اقدامات پرمیں نے ایم سی سی ورلڈ کمیٹی کو اعتماد میں لیا۔ 

جس کے بعد ایم سی سی کی ٹیم نے ہاکستان کا دورہ کیا تھا، اسی طرح چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے جس کی وجہ سے جنوبی افریقا کی ٹیم آئی اور اب نیوزی لینڈاور انگلینڈ کی ٹیم آئے گی۔ اس کے علاوہ ویسٹ انڈیز اور اب آسٹریلیا کی ٹیم بھی آئے گی اگلے سال فروری میں پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن کے لئے جنوری کی ونڈو پر غور شروع کیا ہے اور اس پر فرنچائز مالکان کو بھی اعتماد میں لے رہےہیں۔

س : آئندہ برس دورہ آسٹریلیا سے پی ایس ایل کو کوئی خطرہ تو نہیں؟

ج: نہیں ، آسٹریلیا کی ٹیم بائیس برس بعد پاکستان کا دورہ کرے گی اور ہم ان کے دورے کی تاریخوں میں ردو بدل نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے فیوچر ٹورز پروگرام مکمل طور پر بُک ہے لہذا اس میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی تھی۔

س: کیا پاکستان نے کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی کی پیش کش کی ہے۔

ج : ہم نے آئی سی سی کے چھ عالمی ٹورنامنٹس کے پاکستان میں انعقاد کے درخواست دی ہے جن میں دو چیمپینز ٹرافی ٹورنامنٹ ، دو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور دو ایک روزہ کرکٹ ورلڈ کپ شامل ہیں۔ چیمپینز ٹرافی ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لیے ک لئےتین وینیوز درکار ہوتے ہیں لہذا پاکستان اس کے انعقاد کا اکیلا بھی انتظام کر سکتا ہے۔ 

ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے لیے آٹھ وینیوز چاہیے ہوتے ہیں اس کے لئے ہم نے متحدہ عرصہ امارات کے اشتراک سے درخواست دی ہے۔ جبکہ ایک روزہ ورلڈ کپ کے لیے دس وینیوز چاہیے ہوتے ہیں اس کے انعقاد کے لئے ہم نے سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ساتھ مل کردرخواست دی ہے۔

س : آپ کا آبائی تعلق آزاد کشمیر سے ہے، انگلینڈ کی قومی ٹیم میں اس وقت تین کشمیری نژاد کرکٹرز ہیں، جبکہ پاکستان میں ایک بھی نہیں

ج : جو نیا فرسٹ کلاس سسٹم ہم نے بنایا ہے اس میں ناردرن کی ٹیم خاص طور پر اس لئے ہے کہ اس میں کشمیر سے ت کھلاڑی بھی شامل ہو سکیں اور مستقبل میں کشمیری کھلاڑیوں کے لئے مواقع پیدا ہونگے۔ اس کے اوپر بھی ہم کام کررہے ہیں کہ ہمیں ہوتا احساس ہے کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والا کوئی لڑکا پاکستان انڈر 19 یا قومی ٹیم میں شامل نہیں ہے۔ پہلی بار کشمیر لیگ کا انعقاد کیا گیا جس کے لئے ابتدائی طور پر کے پی ایل کو ایک سال کا این او سی دیا ہے دیکھتے ہیں اس کے کیانتائج نکلتےہیں۔

س : فرسٹ کلاس کرکٹ میں پرفارم کئے بغیر کسی کھلاڑی کو بھی چند ٹی ٹوینٹی میچز میںپرفارمنس کی بنیاد پر قومی ٹیم میں شامل ہونا چاہیے؟

ج: ٹی ٹوئنٹی ایک مختلف فارمیٹ کی کرکٹ ہے۔ دوسرے ممالک مثلاً انگلینڈ میں بھی ایسے ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں کے کاونٹی کے ساتھ صرف ٹی ٹوئنٹیکے معاہدے ہوتے ہیں آسٹریلیا کی ا سٹیٹ کرکٹ میں بھی ایسا ہوتا ہے اور جنوبی افریقا میں بھی ایسا ہوتا ہے کیونکہ کوئی کھلاڑی صرف وائٹ بال اسپیشلسٹ ہوتے ہیں اور کوئی ریڈ بال کرکٹ میں اور بعض کھلاڑی دونوں میں ، جیسے بابر اعظم، شاہین آفریدی اور حسن علی اور کئی دوسرے کھلاڑی۔ لہذا یہ فارمیٹ پر منحصر ہے،جب تک آپ ہر فارمیٹ کی کرکٹ نہیں کھیلیں گے آپ کووائٹ بال کرکٹ میں موقع نہیں ملے گا۔

س : آپ پہلے برٹش پاکستانی ہیں جس نے کاونٹی کرکٹ کھیلی، کتنا فخر محسوس کرتے ہیں

ج : اپنی کرکٹ پر میں کم ہی بات کرتا ہوں ،نوے کی دہائی میں کوئی کائونٹی کھیلنا آسان کام نہیں تھا ، مجھے اور میرے خاندان کو انتہائی فخر ہے کہ مجھے یہ موقع ملا تھا ۔ لیکن کامیابیوں کا فیصلہ تودوسرے ہی کر سکتے ہیں مگر میں خوش قسمت تھا کہ میں وارکشائر کے لئے کھیلتا تھا ۔ برائن لارا ، ایلن ڈونلڈ جیسے کھلاڑی بھی اسی سے کھیلتے تھے۔

س: ایک مرتبہ آپ آسٹریلیا میں پاکستان کے لئے متبادل کھلاڑی کے طور پر کھیلے۔

ج : جی 1996 میں ہاکستان کے لئے بطور متبادل کھلاڑی کھیلا تھا ،سڈنی میں ایک روزہ میچ کے دوران ہاکستان کے کافی کھلاڑی انجری کا شکار تھے۔ مشتاق محمد نے مجھ سے کہا ہمارے لئے فیلڈنگ کر لیں تو میں نےکوئی نو اوورز کے لیے فیلڈنگ کی تھی

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید