• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمیل جالبی

انتہائی گرم موسم میں ایک شیر شکار کو نکلا۔ کئی گھنٹے ڈھونڈنے کے باوجود اسے کوئی شکار نظر نہیں آیا۔چلچلاتی دھوپ اور، تپتی ہوئی زمین پر چلنے سے وہ جلد ہی تھک گیا اور ایک گھنے سایہ داردرخت کے نیچے آرام کرنے لیٹ گیا،درخت کی جڑ میں چوہوں کا بل تھا ۔ ابھی اسے سوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ کچھ شرارتی چوہے بل سے باہر نکلے اور اس کی پیٹھ پر چڑھ کراچھلنے کودنے لگے، جس سے شیر کی آنکھ کھل گئی۔

چوہوں کی اس حرکت پر شیر غصے سےغرایا جس سے خوف زدہ ہوکر سارے چوہے بھاگ گئے، مگران میں سے ایک چوہا پیچھے رہ گیا جسے شیر نے لپک کر اپنے پنجے میں دبوچ لیا۔ ابھی وہ اسے غصے سے مارنے ہی والا تھا کہ چوہے نے گڑگڑا کر کہا،’’اے جنگل کے بادشاہ! مجھ غریب پر رحم کیجیے۔ مجھ جیسے چھوٹے اور کمزور کو مارنے سے آپ کی خاندانی شرافت پر آنچ آئے گی اور سارے جنگل میں بدنامی الگ ہوگی کہ جنگل کے بادشاہ شیر نے ایک چوہے کو مار دیا، میری جان بخش دیں، ہوسکتا ہے کسی موقع پر میں آپ کے کام آسکوں‘‘یہ بات سن کر شیر نے اس پر ترس کھایا اور ڈرتے کانپتے چوہے کو آزاد کر دیا۔ کچھ دن بعد وہی شیر شکار کے لیے جنگل میں نکلا۔ شکار کی تلاش میں پھرتے ہوئے وہ شکاریوں کےلگائے ہوئے جال میں پھنس گیا۔ 

اس نے اس مصیبت سے نکلنے کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے، لیکن نہ نکل سکا۔ آخر پریشانی کے عالم میںوہ زور سے دھاڑا۔ وہاں قریب سے وہی چوہا گزر رہا تھا، اس نے جیسے ہی شیر کے دھاڑنے کی آواز سنی، وہ تیزی سے جال کے پاس آیا۔ چوہے نے دیکھا کہ وہی شیر ہے جس نے اس کی جان بخشی تھی۔ وہ شیر کے پاس گیا اور کہا، ‘’ بادشاہ سلامت، آپ نے اس دن میری جان بخشی تھی، آپ فکر مت کریں، میں جال سے نکلنے میں آپ کی مدد کروں گا۔” یہ کہہ کر وہ اپنے تیز دانتوں سے جال کترنے لگا اور ذرا سی دیر میںاسے کاٹ کر شیر کو آزاد کرا دیا۔ جب شیر آزاد ہوا تو اس نے سوچا کہ وہ بھی چوہے کے احسان کے بدلے اسے کوئی بڑا انعام دے۔ 

یہ سوچ کر اس نے چوہے سے کہا، ‘’اے دوست! تو نے مجھ پر احسان کیا ہے، اس کے بدلے جو تو مجھ سے مانگے گا، میں دوں گا، بول کیا مانگتا ہے؟” چوہا یہ سن کر خوشی کے مارے پھولا نہ سمایا اور بھول گیا کہ وہ اپنے لیےکیا مانگے اور کون سی ایسی چیز مانگے کہ شیر اسے دے بھی سکے۔ اپنی حیثیت بھول کر اس نے جلدی سے کہا، ‘’بادشاہ سلامت! اپنی شیر زادی کی شادی مجھ سے کر دیجیے۔

” شیریہ سن کر حیران رہ گیا لیکن کیوں کہ وہ زبان دے چکا تھا اور اپنے قول سے پھرنا بادشاہوں کی شان کے خلاف ہوتا ہے اس لیے اس نے چوہے کی بات مان لی اور رشتہ قبول کر لیا۔شادی کے دن نوجوان شیر زادی بن ٹھن کر نکلی اور جھومتی جھامتی اٹھکھیلیاں کرتی ہوئی اپنی دھن میں چلنے لگی۔ دولہا چوہا اس کے استقبال کے لیے سامنے کھڑا تھا جسے شیرزادی نے نہیں دیکھا تھا۔ بےخیالی میں اس کا پاؤں چوہے پر پڑ گیا اور وہ بے چارا بغیر کوئی آواز نکالے، اس کے پیروں تلے کچل کروہیں ڈھیر ہو گیا۔