• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ دھرتی انوکھے تہوار اور منفرد میلوں کی وجہ سے پوری دنیا میں انفرادیت رکھتی ہے۔ وادی سندھ کے زیریں علاقے لاڑہ کے ضلع بدین کے دوسرے بڑے کلیدی شہر ٹنڈو غلام علی میں ہر سال گدھوں کی عالمی منڈی اور ’’خرمیلہ‘‘کا روایتی اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ ایشیا میں لگنے والی گدھوں کی سب سے بڑی منڈی ہے، جو حسب دستور اس سال بھی نہایت تزک و احتشام سے لگائی گئی تھی ۔ ایک صدی سے زائد عرصے سے لگائی جانے والی یہ منڈی امسال 11ویں اور 12 ویں محرم الحرام کو ٹنڈو غلام علی ڈگری روڈ پر واٹر سپلائی اسکیم کے گراوٗنڈ میں لگائی گئی۔ 

 اس سے قبل یہ منڈی شہر کے مختلف علاقوں میں لگائی جاتی رہی ہے ۔ ٹاوٗن کمیٹی کی جانب سے منڈی میں صفائی، روشنی، پینے کے صاف پانی کیلئے ٹینکر کی فراہمی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ ملک کے تمام شہروں سے مختلف نسل کے ہزاروں گدھے ٹنڈو غلام علی لائے گئے۔ گدھا منڈی میں ملک کے دور دراز علاقوں سے آنے والے خریداروں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔

رواںسال گدھوں کی خرید و فروخت کے رجحان میں کافی کمی دیکھی گئی۔ ماتلی کے تاجر نجف دایو نے نمائندہ جنگ کو بتایا کہ انہوں نے اپنے گدھے کی فروخت کیلئے ڈھائی لاکھ روپے کی بولی لگائی، جس پر خریداروں کی جانب سے دو لاکھ روپے قیمت لگائی گئی، لیکن انہوں نے بیچنے سے انکار کردیا۔ معمر تاجر اوبھایو چوہان اور لاڑکانہ کے علی گوہر جتوئی نے بتایا کہ انہیں ہر سال گدھا منڈی کے دن کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے ۔

گدھا فروخت کرنے والے ایک شخص، محمد اسماعیل جکھرو نے بتایا کہ وہ سالانہ منڈی میں اپنے جانور لانے سے قبل ان کی نشوو نما کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ تاجر غلام حسین سومرو ،محمد رفیق، جاوید قریشی اور شکیل احمد کا کہنا ہے کہ وہ سالانہ منڈی میں بچپن سے شرکت کیلئے آرہے ہیں۔ ہمارے آنے کا مقصد’’خر میلے ‘‘کی گہما گہمی سے لطف اندوز ہونا ہوتا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ منڈی کی گہما گہمی اپنی جگہ لیکن اس میں گدھوں کی شرکت کے لیے داخلہ فیس بہت زیادہ مقرر کی گئی ہے جب کہ ان کی خریدوفرخت پر سرکاری ٹیکس بھی بہت زیادہ ہے ، جس کی وجہ سے زیادہ تر گدھا مالکان یہاں آنے سے گریز کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ منڈی میں گدھوں کی انٹری فیس اور سرکاری محصولات میں کمی کی جائے تاکہ گدھا مالکان سکون سے اپنا کاروبار کرسکیں۔

اس سال منڈی میں گدھوں کے علاوہ 2 خچر اور اور ایک گھوڑا بھی فروخت کیلئے لایا گیا تھا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک بھر میں گدھوں سے بار برداری کا کام لیا جاتا تھا لیکن اب ان کی جگہ چنگچی رکشہ نے لے لی ہے جس کی وجہ سے اس کی خریدوفروخت کے رجحان میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تھرپار کر سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر، سلیمان نے گدھوں کی مختلف اقسام کے بارے میں بتایا کہی ہاں لائے جانے والے گدھوں میں ایرانی، لاسی، کھودا، ٹامڑی ، خچر، تھری، لاڑی، مکڑو شامل ہیں لیکن سب قیمتی لاڑی نسل کے گدھے ہوتے ہیں۔

خر منڈی میں گدھوں کی کیٹ واک بھی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ شکارپور سے آنے والے تاجر عمران سیلرو اور رانی پور کے نیاز راجپر اپنے گدھوں کو راکٹ، میزائل، کلاشنکوف، ہن کھن، بجلی، مادھوری، شعلہ، شبنم کے ناموں سے پکار تے ہیں۔ گدھوں کی خوراک کے لیے گھاس اور چارے کے علاوہ ، ان کی سجاوٹ ، آرائش و زیبائش کے سامان کے بھی اسٹال لگے ہوئے تھے، جب کہ خریداروں اورتماشائیوں کے لیے بھی ہوٹل، ریستوران، چائے خانے،پان سگریٹ کے کیبن ، پکوڑے ، سموسے ، سیخ بوٹی ،کباب ، روٹی، چھولے، چاٹ،کے اسٹال بھی لگائے گئے تھے۔ 

منڈی کے احاطے میں مسافر اور باربردار گاڑیوں کی بھی طویل قطاریں تھیں، جن کے مالکان ،گدھا مالکان و مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے منہ مانگا کرایہ وصول کررہے تھے۔منڈی میں سیکڑوں گدھے ڈھینچوں ڈھینچوں کا راگ الاپ رہے تھے، جن کی بازگشت قرب وجوار کی بستیوں میں بھی سنائی دے رہی تھی۔ منڈی دو روز تک مقامی و غیر مقامی افراد کے روزگار کا ذریعہ بنی رہتی ہے۔ اس سال یہاں تقریباً 400 گدھے فروخت کیلئے لائے گئے جن کے خدمت گار کے طور پر تقریباً 1500افراد تعینات تھے۔