• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لیفٹیننٹ کرنل(ر) غلام جیلانی خان

آج 6 ستمبر 2021ء ہے اور پاکستانی قوم 56 واں یومِ دفاع منا رہی ہے۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرا ہے جس میں پاکستان کی دو نسلیں جوان ہوچکی ہیں۔ آج ہی کے دن ہم اپنی تیسری نسل کو بتارہے ہیں کہ اس کے آباواجداد نے دوسری بار عظیم قربانی دے کر عروسِ وطن کی زلفیں سنواری تھیں۔ ہمارے بزرگوں نے پہلی قربانی 14 اگست1947ء کو دی تھی جب دنیا کے نقشے پر ایک نیا اسلامی ملک ابھراتھا اورجس میں برصغیر کے لاکھوں مسلمان بچے، بوڑھے، جوان مردوزن شہید ہوگئے تھے۔ 

تاریخ عالم میں یہ عظیم ترین انتقال آبادی شمار کیا جاتا ہے۔ ایک حوالے سے پاکستان اور پاکستان کے دشمن ایک ہی دن وجود میں آگئے تھے۔ یعنی ازل سے ہی چراغِ مصطفویؐ اور شرارِبو لہبی ستیزہ کار ہوگئے تھے اور آج تک یہ مساوات تبدیل نہیں ہوئی اور ہمارا ایمان ہے کہ ابد تک باقی رہے گی۔

قیامِ پاکستان کو ابھی دوعشرے بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ 6 اور 7 ستمبر 1965ء کی درمیانی شب بھارت نے واہگہ کے راستے پاکستان پر حملہ کردیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان نزاع کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر تھا جو تب سے لے کر اب تک موجود ہے۔ میں اس مختصر آرٹیکل میں اس مسئلے کی کوئی مفصل تاریخ قارئین کے سامنے دہرانا نہیں چاہوںگا۔ ہمارے بچے بچے کو معلوم ہے کہ مقبوضہ کشمیر کہاں ہے، پاکستان اس مسئلے کے منصفانہ حل پر کیوں مصر ہے، اقوام متحدہ کی قرار دادیں کیا ہیں، گزشتہ 70 برسوں میں مظلوم اور نہتے مسلم کشمیریوں پر آلام و مصائب کے کیسے کیسے پہاڑ توڑے گئے ہیں اور آج تک ان پر کیا گزر رہی ہے!… ستمبر1965ء میں بھی یہی مسئلہ کشمیر تھا جو پاکستان اور بھارت کے درمیان باعثِ جنگ بنا تھا۔

19ویں صدی کے ایک مشہور جرمن جنرل اور دانشور کلازوٹنر نے کہا تھا کہ دو ممالک کے درمیان جنگ دراصل سیاسی پالیسی ہی کا تسلسل ہوتی ہے۔ یعنی پہلے یہ ممالک کسی مسئلے پر سیاسی اختلاف کرتے ہیں۔ مثلاً 26اکتوبر 1947ء کو بھارت نے جب مقبوضہ کشمیر میں سری نگر کے ہوائی اڈے پر اپنی پہلی یونٹ اتاری تھی تو تب بھی اصل مسئلہ سیاسی تھا۔ مسلم اکثریت والے علاقے (جموں اور کشمیر) پاکستان کو ملنے چاہیں تھے کہ تقسیمِ برصغیر کا فارمولا یہی تھا۔ لیکن بھارت نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کرکے ایک سیاسی تنازعے کو جنگ کی شکل دے دی۔

یہ کشمیر کے سوال پر پہلی جنگ تھی جو 31دسمبر 1948ء تک جاری رہی اور بالآخر یکم جنوری 1949ء کو بھارت کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کے ذریعے جنگ بندی عمل میں آئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرار داد منظور کی گئی کہ مقبوضہ جموںاور کشمیر میں رائے شماری کروائی جائے گی اور فیصلہ کیا جائے گا کہ اس ریاست نے کس ملک کے ساتھ الحاق کرنا ہے… بھارت کے ساتھ یا پاکستان کے ساتھ؟

القصہ یہ مسئلہ 18برس تک لٹکتا رہا اور اپریل 1965ء میں رن آف کچھ کی ایک مختصرسی جھڑپ کے بعد 6سمتبر 1965ء کو دونوں ملکوں میں آل آئوٹ وار کی شکل میں سامنے آیا۔

ستمبر1965ء کی یہ پاک بھارت جنگ 17دنوں تک (6ستمبر تا 23ستمبر) جاری رہی۔ یہ جنگ صحیح معنوں میں ایک بھرپور جنگ تھی جس میں فریقین کی گرائونڈ، ائراور نیول فورسز نے حصہ لیا۔ لاہور، سیالکوٹ، سلیمانکی اور راجستھان کے محاذوں پر ٹینکوں، توپوں اور پیادہ افواج کے درمیان گھمسان کے معرکے لڑے گئے اور پاک فوج نے اپنے سے چارگنا بڑی فوج کے دانت کھٹے کردیئے۔ پاک فضائیہ نے انڈین ائر فورس کے مقابلے میں جس جانفشانی اور جرات وہمت کا مظاہرہ کیا وہ دنیا کی فضائی تاریخوں میں یادگار بن گیا۔ لاہور، سیالکوٹ اور سرگودھا کی فضائوں میں بھارتی فضائیہ کا جو حشر ہوا وہ بھی پاک بھارت جنگوں میں ایک سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے۔ پاک بحریہ نے دوار کا پر حملہ کرکے اپنی برتری کا ثبوت دیا۔

ستمبر1965ء کی یہ جنگ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، ایک ہمہ گیر جنگ تھی جس میں تعداد اور معیار کا مقابلہ تھا۔ بھارت کی کثرتِ تعداد کے باوجود اس کو ناکامی کا سامنا ہوا۔ پاکستان کے لئے یہ جنگ بنیادی طور پر ایک دفاعی جنگ تھی کہ اسے اپنی بقا کا مسئلہ درپیش تھا۔

بھارت کا مسئلہ یہ نہیں تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ رقبے، آبادی، سلاحِ جنگ اور نفری کے اعتبار سے اپنے سے پانچ چھ گنا چھوٹی ریاست اورچھوٹی فوج کو شکت سے دوچار کرکے اکھنڈ بھارت کا اپنا وہ پرانا خواب پورا کرے جس کو بانیٔ پاکستان حضرت محمد علی جناحؒ نے ناکام بنادیا تھا اور جسے ستمبر 1965ء میں 18برس بعد افواجِ پاکستان نے بارِدگر ناکام بنایا۔ یہ جنگ گویا حق و باطل کامعرکہ تھا… اور غزوۂ بدر کا اعادہ تھا!… پوری پاکستانی قوم اس جنگ میں یکجان ہوگئی تھی۔

1965ء کی جنگ چونکہ بقائے پاکستان کی جنگ تھی اس لئے معاشرے کے ہر طبقے نے اسے زندگی اور موت کی اہمیت دی۔ کیا فوجی اور کیا سویلین تمام طبقاتِ آبادی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے۔ لاہور، سیالکوٹ اور سلیمانکی محاذوں کی زمینی لڑائیاں، لاہور اور سرگودھا کی فضائی لڑائیاں اور کراچی اور دوارکا کی بحری لڑائیاں پاکستان کی 74سالہ تاریخ میں یادگار حربی معرکوں کی صورت میں باقی رہیں گی۔

6ستمبر کا دن اس لئے بھی ناقابلِ فراموش رہے گا کہ یہ پاکستانی قوم کے عزم و حوصلے اور مورال کی معراج کا دن تھا۔ پاکستانی قوم ہر قسم کا اندرونی، سیاسی، سماجی، مسلکی اور مذہبی اختلاف بالائے طاق رکھ کر ایک ہوگئی تھی۔ یہ ایکتا اور یہ اتحاد بعد میں بھی بڑی حد تک برقراررہا۔یہ اسی اتحاد اور عزیمِ صمیم کا نتیجہ تھا کہ پاکستان نے انڈیا کی جوہری برتری کا طلسم توڑا اور عین اسی ماہ(مئی 1998ء)میں بھارت کے پانچ جوہری دھماکوں کے جواب میں چھ دھماکے کئے اور اب تک پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ نہ صرف جوہری استعدادحاصل کی بلکہ جوہری وارہیڈز کو دشمن کے اہداف تک پہنچانے کے لئے ڈلیوری سسٹم(میزائل) بھی ڈویلپ کئے۔ یہ سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے اور دشمن کو معلوم ہے کہ پاکستان بقائے وطن کے لئے دفاعِ وطن سے غافل نہیں۔

گزشتہ دو عشروں سے پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جو اگرچہ کمتر سکیل پرتھی آج بھی جاری ہے۔ اس جنگ میں بھی پاکستان کو اپنی بقا کا چیلنج درپیش ہوا اور پاکستان نے ضرب عضب اور ردالفساد کی صورت میں اس چیلنج کا مقابلہ کیا۔ میں سمجھتا ہوں پاکستان کی مسلح افواج کو 6ستمبر1965ء میں تو صرف ایک بھارت کے خلاف صف آرا ہونا پڑا تھا جس میں ہماری بہادر افواج نے دلیری کے ناقابل یقین کارنامے انجام دیئے لیکن آج 56برس بعد پاکستان کو بھارت کے علاوہ اور بھی کئی اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے۔… یہ سب چیلنج بقائے وطن کو درپیش ہیں اور ان کا مقابلہ دفاعِ وطن ہی میں مضمر ہے!