انسان کا ماحول اور خود انسان کی ذہنی صلاحیتیں، جس سطح کی بھی ہوں، تخلیق انسان کی فطرت میں شامل ہے اور عموماً اس کا ذریعۂ اظہار بھی بنتی ہے۔ اسی سے انسان کا ادبی ذوق و شوق تشکیل پذیر ہوتا ہےاور اسی کے نتیجے میں مختلف سطح اورمعیار کاادب تخلیق پاتا ہے۔ اس کے لیے انسان کا تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ چناں چہ ہر دَور، ہر زبان اور ہر معاشرے میں ادب تخلیق ہوتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ معاشرے کا طبقۂ نسواں بھی اپنے ذوقِ ادب اور تخلیقِ ادب کا اظہار کرتا رہاہے۔ یہاں میں اپنی والدہ اور اُن کے منفرد ذوقِ ادب کی ایک مثال پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
میری والدہ، عزیزہ بانو،1928ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ایک مثالی خاتون ِ خانہ کی حیثیت سے بھرپور زندگی گزاری اور اپنی بہترین یادیں چھوڑ کر14؍ جولائی 2018ء کواس دارِ فانی سے رخصت ہوئیں۔ اُن کی پرورش اورتربیت حیدرآباددکن کے ایک روشن خیال، مہذّب خاندان میں ہوئی۔ شادی حیدرآباد دکن ہی کے ایک جاگیردار خاندان میں سیّد ضمیر الدین سے ہوئی، جو جامعہ عثمانیہ سے 1932ء میں فراغتِ تعلیم کے بعد سرکاری ملازمت سے وابستہ ہوئے اور پھر 1953ء میں پاکستان ہجرت کرنے تک وہیں تعینات رہے۔ تمام عمر شغفِ علمی میں گزاری۔
اُن کا خاندان ایک مجاہدخاندان تھا، جس کے جدّ اعلیٰ سیّد علاؤالدین، سیّد احمد بریلوی کی تحریکِ مجاہدین سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے 17جولائی 1857ء کو انگریز مخالف جدوجہد کے تحت انگریزوں کے مرکز، حیدرآباد ریذیڈینسی پر ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی میں کافی شہرت پائی، جس کی پاداش میں انگریزوں نے انہیں 1859ء میں گرفتارکرلیا۔ بعدازاں، عُمرقید کی سزا سُنا کر جزیرۂ انڈومان بھیج دیا، جہاں وہ1884ء میں خالقِ حقیقی سے جاملے۔
میری والدہ کا تعلق جس خاندان سے تھا، وہ بھی مملکتِ حیدرآباد کی سرکاری ملازمت سے وابستہ تھا۔ بھارت میں والد کی آخری تعیناتی ضلع بیدر کے ایک تاریخی شہر، اودگیر میں ہوئی۔ مجھ سمیت چار بھائیوں کی پیدایش بھی اسی شہر میں ہوئی، جن میں سے دو بھائی اوائلِ عُمری ہی میں فوت ہوگئے تھے، جب کہ مجھ سے بڑے بھائی سیّد محی الدّین نثار کا انتقال کراچی میں ہوا۔
میری والدہ نے پوری زندگی ایک سگھڑ، مثالی خاتونِ خانہ کے طور پر گزاری۔ پورے خاندان میں انہیں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر ہی پر حاصل کی، اُس وقت کے رواج کے مطابق کسی تعلیمی ادارے یامدرسے میں نہیں بھیجی گئیں۔ بہرحال، ہمارے گھر کے ماحول میں علم و ادب کی فضا تھی۔ والد کو تاریخ اور سیاست و ادب سے یکساں دل چسپی تھی، مصوّری سے بھی شغف رہا۔
میری والدہ اُن کی بنائی ہوئی تصاویر بڑی چاہ سے فریم کرواکر دیواروں پر آویزاں کرتیں اور ایسی بہت سی تصاویر عزیز اقرباء کو بطور تحفہ بھی دیتیں۔ اُن کی اس دَور کی بنائی ہوئی کچھ تصویریں اب تک ہمارے پاس محفوظ ہیں۔ میرے والد مطالعے کے بہت شوقین تھے۔ وہ زیادہ تر وقت لائبریری اور دوستوں سے لائی ہوئی کتابوں کے مطالعے میں گزارتے۔ ان کتابوں سے اقتباسات بھی نقل کرکرکے محفوظ کرتے رہتے، جن کی ایک آدھ جِلد اب تک محفوظ ہے۔ ایسے ہی مشاغل میں ایک شغل دھات پر مرصّع سازی بھی تھا،جو چاندی کے تاروں کی مدد سے کیاجاتا تھا۔
والدہ کو سلائی کڑھائی اورکشیدہ کاری سے بے پناہ رغبت تھی، جس کا اظہار تکیوں کے غلافوں،چادروں اور میز پوشوں پر کڑھت کے نمونوں سے ہوتا تھا، جو ایک زمانے تک محفوظ رہے۔ اس کے علاوہ انہیں مطالعے کا بھی بے حد شوق تھا۔ وہ دینی کتب کے علاوہ اردو کے معروف ناولز اور رسائل باقاعدگی سے پڑھتیں۔ اکثر اوقات سلائی، کڑھائی اورامورِ خانہ داری میں مصروف رہتیں، تو کوئی کتاب بالعموم کوئی ناول مجھے دے کرکہتیں ’’میں کام کرتی رہوں گی، تم اسے پڑھ کرسناتے رہو۔‘‘ مَیں بھی اس عمل سے شاد رہتا۔ مجھے یاد ہے کہ اُس دوَر میں، مَیں نے علامہ راشد الخیری، عبدالحلیم شرر، اے آر خاتون، نسیم حجازی، قیسی رام پوری اور رئیس احمد جعفری وغیرہ کے متعدد ضخیم ناولز پرائمری تعلیم کے دوران ہی پڑھ ڈالے تھے۔
اس عمل سے مجھے بے حد فوائد حاصل ہوئے۔ مَیں سمجھتاہوں کہ میری والدہ کا اس طرح کتابیں دے کر مجھ سے پڑھوانا اور خود سُننا کچھ مصلحتاً ہی تھا۔ اس طرح نہ صرف میرے پڑھنے میں روانی پیدا ہوئی، بلکہ ادبی ذوق کی آب یاری بھی ہوئی۔ مَیں ابتدائی عُمر ہی سے شاہ کار افسانوی ادب سے خاصا مانوس ہوچکا تھا، جب کہ اس عمل سے میری والدہ کو اس طرح فائدہ پہنچا کہ ازدواجی زندگی کے آغاز میں، جب سرکاری مصروفیات کے سلسلے میں والد صاحب اکثر شہر سے باہر جاتے تو وہ فارغ اوقات میں افسانے لکھنے لگیں۔ وہ افسانے انہوں نے چھپوائے تو نہیں، لیکن طویل عرصے تک ہمارے پاس محفوظ رہے۔
وہ نہ صرف ایک بہترین افسانہ نگار تھیں، بلکہ افسانوی ادب، افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں پر سیرحاصل گفتگو بھی کرلیاکرتی تھیں۔ عُمر کی آخری ڈیڑھ دو دہائیوں میں، گھریلو کاموں سے کچھ فراغت میسّر آئی، تو اُن کا زیادہ تر وقت کتابیں اور اخبارات و رسائل پڑھنے یا پھر اُس دَور کے مقبول ٹی وی ڈرامے دیکھنے میں گزرتا۔ میری کُتب بینی کی عادت بھی اُنھیں بے حد پسند تھی۔ میں نے اسکول ہی کے زمانے میں پرانی اور نایاب کتابیں خریدنا شروع کردی تھیں، جو چند ہی برسوں میں بڑھتے بڑھتے اس قدر ہوگئیں کہ گھر کا ایک گوشہ ذاتی کتب خانے کی صُورت اختیار کرگیا۔
والد اور والدہ میری خریدی ہوئی کُتب کا بصد شوق مطالعہ کیا کرتے۔ میری ہی خواہش پر والدصاحب نے ان کتابوں کی سلسلہ وار فہرست ایک رجسٹر میں درج کرنا شروع کی۔ اُن کی وفات کے بعد یہ سلسلہ والدہ نے برسوں جاری رکھا۔ یہ رجسٹر اب تک میرے پاس محفوظ ہے۔ کتابوں کی فہرست سازی کے علاوہ میرے والدین خستہ و بوسیدہ کتابوں کو محفوظ کرنے کے لیے جِلد سازی کا بھی باضابطہ اہتمام کیاکرتے۔ یہ عمل اس لیے ضروری تھا کہ میں زیادہ تر پرانی کتابوں کی دکانوں، ردّی فروشوں اور کباڑیوں سے نادر و نایاب کتب خریدا کرتا تھا، جو سستی اور استطاعت کے مطابق ہوتی تھیں۔
میری والدہ اس طرح کی متنوّع مصروفیات میں بھی گھر کے سارے کام تنِ تنہا انجام دیتیں، کبھی کسی قسم کے سخت سے سخت کام میں تھکن کا اظہار نہ کرتیں۔ انہوں نے ایسی مثال قائم کی، جو آج کی نسلوں میں ناپید ہے۔ والد صاحب کی طرح وہ بھی کُتب و رسائل سے اقتباسات نقل کرکے محفوظ کرلیا کرتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے اپنی بیاضیں بھی ترتیب دیتی رہتیں۔ جن میں اقتباسات کے علاوہ ہر طرح کے مالی معاملات کا حساب کتاب بھی درج کرتیں۔ جو اقتباسات وہ کتابوں اور رسائل سے نقل کرتی رہیں، اُن میں سے بعض نہایت اہم اور دل چسپ و مفید تھے۔
میں نے زمانۂ طالبِ علمی میں جب ایم اے اور پی ایچ ڈی کے موضوعات ’’تحریکِ پاکستان کا لسانی پس منظر‘‘ (1969ء) اور ’’تحریکِ آزادی میں اردو کا حصّہ‘‘ (1975ء)کے تحت اُردو کے سیاسی و قومی ادب کو جمع کرنا شروع کیا، اس میں شامل شاعری کو میرے والد اور والدہ بہت دل چسپی و تجسّس سے پڑھاکرتے اور والدہ کو جو نظمیں یا اشعار پسند آتے، انہیں نقل کرکے محفوظ کرلیا کرتیں۔
جو اب بھی اُن کی بیاضوں میں موجود ہیں۔ گزشتہ دنوں اُن کی ایک ایسی بیاض میری نظروں سے گزری، جو اپنے زمانے کی چند مقبول سیاسی نظموں کے اقتباسات پر مشتمل ہے۔ اور مَیں مناسب سمجھتاہوں کہ بطورِ نمونہ اس بیاض میں تحریر اشعار یا نظموں کو قارئین کے سامنے پیش کروں تاکہ اُن سے میری والدہ کے ذوق و شوق کا اندازہ ہوسکے، جو خصوصاً تحریکِ آزادی و تحریکِ پاکستان کے زمانے میں عام تھا اور عوام کی سیاسی شاعری، سیاسی موضوعات اور اپنے قائدین و رہنمائوں سے جو رغبت و عقیدت تھی، اُس کا بھی اندازہ ہوسکے۔
یہ شاعری اپنے زمانے کی مقبول اردو شاعری کا ایک نمونہ بھی ہے، جس کے بارے میں بالعموم تصدیق نہیں ہوتی کہ اُن کے شاعر واقعتاً کون تھے۔ بہرحال، چند نمونے ملاحظہ فرمائیں؎قائداعظم آگے آئے.....پیچھے ساری قوم کو لائے.....بوڑھے بچّے سب چلّائے.....نعرے یوں دن رات لگائے.....قائد اعظم کا فرمان .....اپنا دین، اپنا ایمان .....بٹ کے رہے گا ہندوستان.....مسلم لیں گے پاکستان.....سینے پہ گولی کھائیں گے.....ماریں گے، مرجائیں گے.....مقصد اپنا پائیں گے.....پاکستان بنائیں گے۔
تقسیمِ ہند کے نتیجے میں پاک سرزمین پہنچنے والے مہاجرین کے بارے میں یہ نظم دیکھیے؎سندھ کے ریگستان میں اُترے.....بالو کے طوفان میں اُترے.....پتھریلے میدان میں اُترے.....سب ہی خوش، پاکستان میں اُترے.....کوئی کراچی اِک دَم پہنچا.....کوئی ٹنڈے آدم پہنچا.....پنڈی پہنچا، جہلم پہنچا.....شور تھا سارا عالم پہنچا۔ ہجرت ہی کے تناظر میں یہ نظم بھی کیا خُوب ہے؎مسلم نے سامان اٹھایا.....ہندونے طوفان اٹھایا.....سکّھوں نے کرپان اٹھایا.....سرپر ہندوستان اٹھایا.....مسلم نے گھر بار کو چھوڑا.....روپیا پیسا، ہاتھی گھوڑا.....ساتھ میں لے کے تھوڑا تھوڑا.....پاکستان سے رشتہ جوڑا..... ہرفن مولا گھر گھر آئے .....صنعت کے سب ماہر آئے.....بیوپاری اور تاجر آئے.....بن کے نئے مہاجر آئے.....بی اے، ایم اے مسٹر آئے.....خان بہادر اور سر، آئے.....کون بتائے کیوں کر آئے.....لیکن آخر سب گھر آئے۔ بھارت کے بٹوارے کے وقت کانگریس کی ناکامی اور مسلمانوں کی عظیم فتح کے موقعے پر کہی گئی ایک پُرتاثیر نظم سُنیے؎چرچل ویول بول رہے تھے.....زہر ہلاہل گھول رہے تھے.....دل میں فتنے ڈول رہے تھے.....اُڑنے کو پَر تول رہے تھے.....کانفرنسیں عام ہوئی تھیں.....سب کی سب ناکام ہوئی تھیں.....جی بھر کے بدنام ہوئی تھیں.....لندن کا پیغام ہوئی تھیں.....کارندے سرکاری نکلے.....کلّو مل پنساری نکلے.....رقمیں لے کر بھاری نکلے.....ووٹوں کے بیوپاری نکلے..... ووٹوں کی بھرمار ہوئی تھی.....سیٹوں پر تکرار ہوئی تھی.....کانگریس کی ہار ہوئی تھی.....لڑنے پر تیار ہوئی تھی.....ہندو لے کے بھالے نکلے.....آفت کے پرکالے نکلے.....گورے نکلے، کالے نکلے.....گاندھی ٹوپی والے نکلے.....ہم بھی کچھ مجبور نہیں تھے.....طاقت سے معذور نہیں تھے.....کثرت سے رنجور نہیں تھے.....قائد اعظم دُور نہیں تھے.....چھوڑ کچہری اور دیوانی.....نکلا پاکستان کا بانی.....قائد کی تقریر نئی تھی.....ملّت کی تعمیر نئی تھی.....پٹیل کی تفسیر نئی تھی.....اُن کی ٹیڑھی کھیر نئی تھی.....نشتر اورلیاقت بولے.....جیسے ساری ملّت بولے.....کرکے دل میں ہمّت بولے.....یعنی حسبِ ضرورت بولے.....آخر جیتے قائد اعظم.....لہرایا اسلام کا پرچم.....ہندو اور انگریز تھے بے دَم.....پاکستان ہوا پھر قائم.....ہوگئے ہندوستان کے ٹکڑے.....انگریزی دُکان کے ٹکڑے.....مذہب اور ایمان کے ٹکڑے.....بھارت اور بھگوان کے ٹکڑے.....ہندو یوں ناکام ہوئے تھے.....دنیا میں بدنام ہوئے تھے.....پاگل گنگا رام ہوئے تھے.....بٹوے ہرسُو عام ہوئے تھے۔ (ڈاکٹر معین الدین عقیل، کراچی)