• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان میں طالبان نے اپنی حکومت اور اُس کے وزرا کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان ماقبلجمعہ کو متوقع تھا جو نہ ہونے پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں اور بالخصوص یہ کہا جا رہا تھا کہ اندرونی اختلافات بہت زیادہ ہیں۔ علاوہ ازیں بہت سے لوگ یہ توقع کر رہے تھے کہ طالبان جس نوع کی وسیع البنیاد حکومت لانے جا رہے ہیں، اس میں وہ افغانستان میں موجود اثر و رسوخ کے حامل تمام گروہوں کو شامل کریں گے تاکہ اِس نئی حکومت کو عالمی سطح پر منوانے کیلئے معاونت حاصل ہو جائے لیکن جو لوگ طالبان یا کسی بھی انقلاب کی حرکیات کو سمجھتے ہیں اُنہیں اندازہ تھا کہ ایسی کوئی صورت ممکن نہ ہو پائے گی۔

طالبان اپنے تئیں یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی طویل جدوجہد اور قوتِ بازو سے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے تو وہ اپنے علاوہ دیگر دھڑوں، گروہوں یا پارٹیوں کو اقتدار کا حصہ دار کیوں بنائیں؟ حامد کرزئی، عبدﷲ عبدﷲ، گلبدین حکمت یار یا پنج شیر والے اپنی جگہ جو کچھ بھی تیس مار خاں ہوں گے، طالبان کی نظروں میں اُن کی ایسی حیثیت نہیں ہے جنہیں اپنی صفوں میں شامل کرکے وہ نیا فتور یا فتنہ پیدا کر لیں۔ آگے چل کر اگر انہیں کسی نوع کی مجبوری نے گھیرا تو وہ اس حوالے سے ضرور سوچ سکتے ہیں فی الوقت اس عبوری بندوبست میں امیر المومنین ملا ہیبت ﷲ اخوند زادہ نے یہی بہتر خیال کیا ہے کہ اپنے زیادہ سے زیادہ وفادار، ہم خیال اور جدوجہدِ میں صعوبتیں جھیلنے والے علماء اور مجاہدین کو ہی اقتدار کا حصہ دار بنایا جائے۔

امیر المومنین نے تھیوری اینڈ پریکٹس کے تفاوت کو بھی بڑی خوبصورتی سے پیش نظر رکھا ہے۔ مثال کے طور پر عام خیال یہی تھا کہ ملا عبدالغنی برادر کو وہ سربراہِ حکومت (وزیراعظم) مقرر کریں گے کیونکہ انہوں نے پچھلے کئی برسوں سے عالمی سطح پر اپنی جو پہچان بنائی تھی وہ ایک سلجھے ہوئے سیاسی رہنما کی تھی، امریکہ کے ساتھ قطر میں ہونے والے طویل مذاکرات میں اُنہوں نے اپنا مقدمہ بڑی مہارت سے پیش کیا تھا اور اپنی بہت سی سخت شرائط بھی عالمی طاقت سے منوانے میں کامیاب رہے تھے بلاشبہ وہ یہ تمام کردار رہبری شوریٰ کی مشاورت سے ادا کر رہے تھے مگر عین موقع پر امیر المومنین ملا ہیبت ﷲ کی طرف سے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ ملا محمد حسن اخوند کو تفویض کر دیا گیا جن کا تعلق قندھار سے ہے اور جو طالبان کے چار بانیان میں سے ایک ہیں، اُن کی پہچان راسخ العقیدہ عالمِ دین کی ہے اور وہ رہبری شوریٰ کے انچارج بھی ہیں۔ نیز اپنے قائد ملا ہیبت ﷲ کے زیادہ قریب اور قابلِ اعتماد ساتھی ہیں۔

اس طرح وزیر خارجہ کیلئے مولوی شیر محمد عباس استنک زئی کا نام لیا جا رہا تھا جنہوں نے دوحہ میں بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا لیکن امیر المومنین نے انہیں بھی نائب وزیر خارجہ کا عہدہ دیا جبکہ وزیر خارجہ ملا امیر خاں متقی کو مقرر کیا گیا جو بوجوہ نظریاتی و فکری طور پر ان کے زیادہ قریب ہیں کچھ اسی نوع کی مشق وزارتِ اطلاعات کے حوالے سے بھی دہرائی گئی ہے۔ سراج ا لدین حقانی کو افغانستان کا وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔ جلال الدین حقانی گروپ کی جو شہرت امریکیوں کی نظروں میں رہی ہے وہ سب پر واضح ہے اس گروپ کی سرگرمیاں کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان پر امریکیوں نے کئی مرتبہ خاصا دبائو ڈالے رکھا طالبان کیلئے انس حقانی کی خدمات بھی ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔آنے والےدنوں میں امریکی اس سلسلے میں کیا پینترے بدلتے ہیں، یہ دلچسپ امر ہو گا۔اسی طرح طالبان کے پہلے امیر المومنین ملا عمر کے صاحبزادے ملا یعقوب مجاہد کو نئے افغانستان کا وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی پہچان افغانستان میں ہونے والے تمام ملٹری آپریشنز کی نگرانی کے حوالے سے رہی ہے جبکہ سراج حقانی ٹی ٹی پی سمیت القاعدہ، داعش اور دیگر جہادی گروپوں کی جانکاری کے سلسلے میں وزیرداخلہ کی حیثیت سے بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

جس 33رکنی عبوری کابینہ کا اعلان کیا گیا ہے، اس میں تبدیلی و توسیع کے امکانات واضح ہیں لیکن یہ امر ضرور سب پر واضح رہنا چاہئے کہ ہمارے لوگوں نے طالبان سے جمہوریت یا وسیع القلبی کے حوالے سے جس نوع کی توقعات وابستہ کررکھی ہیں نہ صرف یہ کہ وہ پوری نہیں ہوں گی بلکہ آنے والے مہینوں میں انسانی حقوق یا حقوقِ نسواں کے سلسلے میں بھی عالمی شکایات بڑھنا شروع ہو جائیں گی۔

درویش کو طالبان، ان کی سوچ اور طرز حکمرانی کے حوالے سے ایک سو ایک اختلافات ہیں لیکن ان کی ایک خوبی کا ضرور اعتراف کرنا پڑے گا یہ کہ وہ منافق نہیں ہیں، جس چیز کو حق سمجھتے ہیں ڈنکے کی چوٹ پر اس کا اظہار کرتے ہیں۔ سچائی تو یہ ہے کہ ہم لوگ اصل اسلام کو بگاڑ رہے ہیں جبکہ طالبان ہوں یا القاعدہ و داعش کے لوگ، ان پر ہم لوگ جتنی چاہیں شدت پسندی یا دہشت پسندی کی پھبتیاں کس لیں لیکن وہ آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل والے اسلام کوہی حقیقی اسلام سمجھتے ہوئے اس پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کا استدلال قابلِ فہم ہے کہ جب قرآن و حدیث فلاں چیز کا واضح حکم فرما رہے ہیں تو ہم کون ہوتے ہیں اس میں مین میخ نکالنے والے۔ طالبان کے موجودہ امیر المومنین ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کی پہچان ایک معروف شیخ الحدیث کی ہے۔ وہ قوانین سازی میں قرآن و حدیث سے ہٹنے کیلئے کسی بھی صورت آمادہ نہیں کئے جا سکیں گے۔ناچیز خود کو ان کا سب سے بڑا ناقدخیال کرتا ہے لیکن اگر مسلم ورلڈ اسلام اُن سے اس قدر وابستگی و دردمندی رکھتی ہے تو پھر کسی کو برا ماننے کی ضرورت نہیں ہے راسخ اسلام وہی ہے جس پر ہمارے طالبان بھائی عمل پیرا ہیںالبتہ ہم اپنے طالبان سے یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ حضور آج کے دور میں اس حکم پر عمل ممکن نہیں ہے کہ پورے کے پورے مذہب میں داخل ہو جائو لہٰذا محبت کی راہوں میں چلنا سنبھل کے۔

تازہ ترین