• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں،آئین و قانون کی بالادستی چاہتا ہوں، نواز شریف

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات میں ووٹرز نے پی ٹی آئی کو مسترد کردیا ہے۔ رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سرکاری امور میں کسی کی مداخلت نہیں چاہتا اور آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا خواہاں ہوں۔ان سے جب گھروالوں میں مبینہ اختلافات سے متعلق سوال کیا گیا تو نوازشریف کا کہنا تھا کہ اختلافات سے متعلق رپورٹس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ جب کہ آئندہ وزیراعظم کے امیدوار سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق، سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات میں ووٹرز نے پی ٹی آئی کو مسترد کردیا ہے۔ یہ بات انہوں نے ہائڈ پارک کورنر کے قریب اپنے بیٹے کے دفتر میں پاکستانی رپورٹرز سے بات چیت کے دوران کی۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ ان کا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، ان کی جدوجہد کا مقصد آئین اور جمہوریت کی بالادستی ہے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہیں کئی بار جعلی اور من گھڑت الزامات لگاکر جیل بھیجا گیا تاکہ جمہوریت سے متعلق موقف اختیار کرنے پر سزا دی جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا اسٹیبلشمنٹ یا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے اور نا ہی کبھی ایسا ہوگا۔ میں عوام کے منتخب نمائندگان کے جمہوری مینڈیٹ کا احترام چاہتا ہوں، سرکاری امور میں کسی کی مداخلت نہیں چاہتا اور آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا خواہاں ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ڈاکٹروں کے کلیئر کرنے کے بعد پاکستان واپس آجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا علاج لندن میں ہورہا ہے اور وہ نتائج کی پروا کیے بغیر درست وقت پر پاکستان واپس آجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جیلوں سے نہیں گھبراتے، جب ان کی اہلیہ لندن میں زیرعلاج تھیں تب بھی انہیں ان کی بیٹی کے ساتھ جعلی کیسز میں جیل میں ڈالا گیا، اس کا مقصد 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے لیے مجھے راستے سے ہٹانا تھا۔ وہ جو کہتے ہیں مجھے جیلوں کا خوف ہے انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ میرے لیے نئی بات نہیں ہے، میں کئی ماہ لانڈھی جیل میں رہا جہاں مجھ پر جعلی ہائی جیکنگ کیس پر تشدد بھی کیا گیا۔ پرویز مشرف نے مجھے قید کیا لیکن میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا۔ میں اپنے موقف پر قائم رہا اور اس موقف کی ان شااللہ جیت ہوگی۔ حالیہ کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ ان کی جماعت کے امیدواروں نے پنجاب میں کامیابی حاصل کی ، تاہم انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام بھی لگایا کہ حکومتی مشینری پی ٹی آئی امیدواروں کو سپورٹ کررہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسیوں کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑرہا ہے، انہیں حیرت ہے کہ ایسی جماعت کو کون ووٹ دے سکتا ہے جس نے عوام کو اتنی مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہیں سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نا لینے پر تاحیات نااہل کیا تھا، ان میں سے بیشتر اب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں، تاہم، ان کا دوہرا معیار بےنقاب ہوچکا ہے۔ جج ارشد ملک نے اپنی موت سے قبل کہا تھا کہ مجھے سزا دینے کے لیے انہیں بلیک میل کیا گیا تھا اور جسٹس شوکت صدیقی نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ کس طرح مجھے اور مریم کو 2018 کے انتخابات سے قبل نشانہ بنانے کے لیے دبائو ڈالا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ انصاف تھا؟

اہم خبریں سے مزید