• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملزم ظاہر جعفر کا اعترافی بیان عدالت میں سنایا گیا


اسلام آباد ہائی کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کے دوران وکیل نے ملزم ظاہر جعفر کا اعترافی بیان پڑھ کر سنایا گیا۔

دورانِ سماعت ملزمان کی جانب سے خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے، جس کے بعد تیسرے روز دلائل شروع ہوئے۔

خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ یہ کیس بہت زیادہ پیچیدہ نہیں تھا۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہماری پولیس کو تفتیش کے دوران کڑیاں ملانا نہیں آتا۔


خواجہ حارث نے کہا کہ اعترافی بیان اور کال ڈیٹا ریکارڈ کے بارے میں کورٹ کو بتانا چاہتا ہوں۔

اس کے بعد خواجہ حارث نے ظاہر جعفر کا پولیس کے سامنے اعترافی بیان عدالت کو پڑھ کر سنایا۔

اپنے دلائل میں خواجہ حارث نے کہا کہ ایک جملے سے پورے کیس کی شکل بدل جاتی ہے کہ والد کا کیا کردار تھا، میمو آف ریکوری میں صرف ریکوری کا بتایا جاتا ہے، اس میں بیان کیسے آ گیا؟

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میمو آف ریکوری میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ملزم تفتیشی افسر کو کہاں لے کر گیا اور کیا ریکور کرایا۔

خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی تحویل میں ملزم کے ریکارڈ کرائے گئے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، ملزم کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرانا ضروری ہے۔





خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہو گئے، جس کے بعد عدالت نے مدعی کے وکیل کو 21 ستمبر کو دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔

مدعی کے وکیل شاہ خاور ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ میں دلائل کے لیے ایک گھنٹے سے کچھ زائد وقت لوں گا۔

جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ کیا آپ جوابی دلائل بھی دینا چاہیں گے؟

خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میں دلائل کے بعد جوابی دلائل بھی دینا چاہوں گا۔

قومی خبریں سے مزید