• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علی عباس حسینی

ایک ریلوے پل کے نیچے ایک فقیر رہتا تھا، جوٹاٹ پر بیٹھا گدڑی سے ٹانگیں چھپائے رکھتا تھا۔ اس کی ٹانگیں ہیں یا نہیں، یہ معلوم نہ ہوسکا ،کیوں کہ اسے کسی نے بھی کھڑایا چلتے پھرتے نہیں دیکھا تھا، جب دیکھا بیٹھے ہی دیکھا۔ کمر کے اوپر کا دھڑ خاصا توانا اور لحیم شحیم تھا۔ بڑی سی توند تھی، سینہ چوڑا، گول چہرے پر لمبی سی کھچڑی داڑھی، چپٹی موٹی ناک اور آنکھوں کے دھندلے دیدوں کے کونوں میں کیچڑ بھری ہوئی جب کہ سر کے بال بڑے بڑے الجھے ہوئے اور مٹی میں اٹے ہوتےتھے۔ 

صبح سے شام تک بس اس کی ایک ہی رٹ سنائی دیتی تھی۔ ’’ایک پیسہ بابا! ایک پیسہ‘‘۔اس کی آواز میں ایسی گھن گرج تھی، جیسی بڑے طبل پر ہاتھ سے چوٹ لگانےسے نکلتی ہے، فقیر کا کمال یہ تھا کہ وہ اس موٹی بھدی، آواز کو دردناک بنا لیتا تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ جو ایک پیسہ مانگتا ہے، اگر اس کا سوال نہ پورا کیا گیا تو مر ہی جائے گا، بس اس ایک پیسہ کے نہ ہونے سے اس کا دم ہی نکلنے والا ہےیا وہ بھوک سے پھڑک کر جان دینے والا ہے اور ہم ایک پیسہ نہ دیں گے تو اس کے مرنے کا گناہ ہمارے سر ہوگا۔

یہی وجہ تھی کہ اس مقام سے گزرنے والا کوئی ایسا نہ تھا جو اسے ایک پیسہ دینے پر مجبور نہ ہو۔ کالج میں پڑھنے والے لڑکے،اساتذہ اور جو پل کے نیچے سے گزرتے تھے، اسے خیرات دینے کے لیے گھر سےچلتے وقت پیسہ دو پیسہ جیب میں ڈال کر نکلتے تھے۔ یکے ،تانگے، رکشہ والے بھی اس فقیر کو پیسہ دو پیسہ ضرور دان کرتےتھے ،اور اس کا حال یہ تھا کہ آپ پیسہ دیجئے یا نہ دیجئے اس کی یہ رٹ ’’ایک پیسہ بابا‘‘ ایک پیسہ بابا‘‘ برابر جاری رہتی تھی۔زیادہ تر طلباء اور ان کے ماسٹر تک اسے پہنچا ہوا بزرگ سمجھتے تھے۔بدعقیدہ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ بابا دنیا داری سے اپنا ناتہ توڑ چکا ہے اور اسیےکسی چیز کی کوئی ضرورت نہیں۔ 

وہ تو بھیک اس لئے مانگتا ہے کہ ان پیسو ںسے مفلس لوگوں کی مدد کرسکے۔ ان ہی میں سے ایک لڑکاحمید بھی تھا، جو سیدھا سادہ سا تھا۔وہ دسویں جماعت میں پڑھتا تھا اوروز اس پل کے نیچے سے گزرتاتھا۔ اپنی ماں سے ضد کر کے فقیر بابا کے لئے پیسہ ہی نہیں بلکہ کھانے پینے کی چیزیں بھی لاتا تھا۔ کبھی مٹھائی، کبھی پھل، کبھی شیرمال، کبھی مٹی کی پلیٹ میں پلاؤ، کبھی زردہ۔ آہستہ آہستہ فقیر پر اس کی مہربانیاں وعنایات پورے اسکول میں مشہور ہوگئیں۔ 

اساتذہ سمیت زیادہ تر طلبہ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی ڈھونگی فقیر ہے جوحمید کوبے وقوف بنا رہا ہے، اس کا کچھ علاج ہونا چاہئے۔ ایک روز سب نے طے کیا کہ پل کے قریب رہنے والے طلباء ہر وقت اس پر نگاہ رکھیں کہ وہ کب سوتا ہے، کب جاگتا ہے، کب ہاتھ منہ دھوتا ہے، کب کھاتا پیتا ہے، جتنے پیسے روز بھیک مانگ کر کماتا ہے انہیں کیا کرتا ہے۔ اب کیا تھا دو چار دن میں رپورٹیں آنے لگیں، تمام لڑکوں نے طے کیا کہ اس کا سارا کچا چٹھا حمید کے سامنے کھولا جائے۔

دوسرے دن جب حمید کلاس میں آکر بیٹھا تو اس کے کچھ ساتھی اس کےپاس آئے اور کہا کہ تم جس فقیر کو پہنچا ہوا بزرگ سمجھ کر اتنی آؤ بھگت کرتے ہو، وہ فریبی اور ٹھگ ہے۔یہ سن کر حمید طیش میں آگیا اور ان سے لڑنا شروع کردیا۔ ان میں سے کچھ لڑکوں نے حمید کا غصہ ٹھنڈا کیا اور کہا ’’اچھا!آج اسکول کے میچ بعد گھر نہ جانا، ہمارے ساتھ تماشا دیکھنا، بابا کا اصل روپ سامنے آجائے گا۔ شام کوکرکٹ کا میچ ختم ہونے کے بعد آٹھ دس لڑکےحمید کے ساتھ ریلوے پل کے نیچے پہنچ گئے اور وہاں مختلف جگہوں پر چھپ کر بیٹھ گئے۔ مغرب کی اذان کے ساتھ فقیر کی رٹ میں کمی ہوئی۔ بس جب کوئی بھولا بھٹکا شخص پل کے نیچے سے گزرتا تو وہ اپنی ہانک لگا دیتا۔ 

جیسے جیسے اندھیرا بڑھا، آواز لگانے کا دورانیہ بھی بڑھتا گیا۔ ساڑھے سات بجے کے قریب انہوں نے دیکھا کہ ایک بالائی فروخت کرنے والا آوازیں لگاتا ہوا پل کے نیچے پہنچا۔ فقیر کے پاس پہنچ کر اس نے چار بڑے بڑے شیرمال اور پاؤ بھر بالائی فقیر بابا کو دی اور اس سے اس کے دام نہیں لئے۔ فقیر نے اسے تمام دن بھیک میں ملنے والے پیسے گدڑی میں سے نکال کر دیئےاور بالائی والے نے انہیں نوٹوں میں تبدیل کردیا۔ حمید اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا،جب بالائی والا وہاں سے روانہ ہوا تو لڑکوں نے اس کا پیچھا کیا۔

جب وہ پل کے اوپر پہنچا تو انہوں نے اسے گھیر لیا ۔ حمید نے اس سے پوچھا،’’کیا یہ بابا تم سے روزانہ شیر مال اور بالائی لیتا ہے ‘‘۔ اس نے جواب دیا ’’ میاں، یہ میرا بندھا ہوا گاہک ہے، روزانہ مجھ سے صبح،شام دوشیر مال اور پاؤ بھر بالائی خریدتا ہے، اس کے علاوہ بھیک میں ملنے والے سیکڑوں روپے کےسکوں کو کرنسی نوٹ میں تبدیل کرواتا ہے ۔‘‘ 

یہ باتیں سن کر حمید غصہ میں بھرا ہوا فقیر کے پاس پہنچا اور اس سے کہا، ’’تمہیں شرم نہیں آتی بابا؟ بھیک مانگتے ہو اور شیر مال اور بالائی اڑاتے ہو، سیکڑوں روپے روزانہ جمع کرتے ہو‘‘؟ فقیر نےاسے جھڑک کر کہا ’’جاؤ میاں جاؤ، اپنے کام سے کام رکھو، یہ میرا خاندانی پیشہ ہے، پاؤ سوا پاؤ بالائی روزانہ نہ کھاؤں تو دن بھر ’’ایک پیسہ! ایک پیسہ!‘‘ کی صدا نہیں لگا سکتا‘‘۔ 

حمید اس وقت تو پاؤں پٹختا ہوا گھر چلا گیا مگر اس کے بعداس نے اپنے ساتھیوں کا جتھابنا کرپل کے نیچے سے گزرنے والےہر راہ گیر سے کہنا شروع کردیا،’’اس فقیر کو کچھ نہ دینا، یہ ڈھونگی بابا ہے، روزسوا پاؤ بالائی کھاتا ہے، سیکڑوں روپے گدڑی میں جمع کرکے رکھتا ہے!‘‘ پل کے نیچے کچی آبادی کے رہائشی بچوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے گروپ کی صورت میں فقیر کے قریب آکر نعرے لگانا شروع کردیئے، ’’بالائی کھانے والا، شیرمال کھانے والا فقیر! توند والا فقیر !‘‘۔ فقیر یہ نعرے بازیاں سن کر طیش میں آجاتا، بچوں کوگالیاں بکتا، انہیں مارنے دوڑتا، لیکن وہ جتنا زیادہ چڑتابچوں کو نعرے لگانے میں اتنا ہی مزا آتا۔راہ گیروں نے بھی اسے بھیک دینا ختم کردی، سارا دن وہ پل کے نیچے بیٹھا، ’’ایک پیسہ، ایک پیسہ‘‘ کی صدائیں لگاتا لیکن اس کی طرف کوئی بھی متوجہ نہیں ہوتا اور اس کی صدائیں، ’’صدا بہ صحرا ‘‘ ثابت ہوتیں۔

چند ہی دنوں میں فقیر بابا کا دھندا بالکل ختم ہوگیا ،اس نے ریلوے پل کا ٹھکانہ چھوڑ کر ایک مزار کے پاس فٹ پاتھ پر بسیرا کر لیا، مگر وہاں درخت کی شاخوں کے سوا دھوپ یا بارش سے بچنے کے لیےکوئی سائبان نہیں تھا۔ ایک رات دسمبر کی سردیوں میں بوندا باندی کے ساتھ جب اولے بھی پڑے تو فقیر بابا کو کہیں پناہ نہ ملی۔ درخت کی شاخیں اسے برف کے گولوں کی بوچھار سے نہ بچا سکیں۔ صبح وہاں سے گزرنے والوں نے اسے اپنی گدڑی میں لپٹا ہوا مردہ پایا ۔ لوگوں نے تھانے میں اطلاع دی ، پولیس نے وہاں پہنچ کر جب اس کے چیتھڑوں کی تلاشی لی تو ان میں ہزاروں روپے کے بڑے، پچاس اور دس روپے کے چھوٹے نوٹ اور سیکڑوں سکےملے۔