• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیئرمین نیب تعیناتی، شہباز سے مشاورت مفادات کا ٹکراؤ، فروغ نسیم


کراچی (جنگ نیوز) جیو نیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان“ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری پر وزیر اعظم کی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مشاورت آئینی ضرورت ہے لیکن اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پر کرپشن کیسز ہیں، ان سے مشاورت طلب کرنا مفادات کا ٹکراو ہوگا۔ 

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم پر بھی کرپشن کے مقدمات ہوتے تو ان کو بھی یہی کہتا کہ وہ مشاورت کا حصہ نہ بنیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی دوبارہ تقرری سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا لیکن ان کے نام پر بھی غور ہو رہا ہے۔ 

میزبان کے سوال کہ اپوزیشن کی تنقید ہے کہ ایک ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد چیئرمین نیب کی پوزیشن حکومت کے سامنے کمپرومائزڈ ہے، ان کی غیر جانبداری پر سوالات ہیں تو وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن مطالبہ کرے تو چیئر مین نیب کی مبینہ ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کرایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں20دن باقی ہیں۔ موجودہ یا کسی بھی سابقہ چیئرمین کی دوبارہ تقرری کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اس کے دو ہی طریقے ہیں، یا تو نئی قانون سازی کی جائے، یا پھر موجودہ قانون میں ہی ترمیم کی جائے۔

اہم خبریں سے مزید