• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صحت کے نظام پر بہت کام ہوا، بڑی کامیابیاں بھی ہیں، تیمور سلیم جھگڑا


کراچی(ٹی وی رپورٹ)جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ صحت کے نظام پر بہت کام ہوا ہے اور بڑی کامیابیاں بھی ہیں۔

صحت کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ لیتے رہے ہیں اور لیتے رہیں گے، چیف پیٹرن ینگ ڈاکٹرز (کے پی) ڈاکٹر عالمگیر یوسف زئی نے کہا کہ ہم سے مشاورت کرکے چیزوں کو آگے بڑھانا چاہئے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ اسپتالوں کا آڈٹ کرایا جائے۔ 

پروگرام کے آغاز میں میزبان سلیم صافی نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریٹنگ کے چکر کی وجہ سے بلوچستان کی طرح اور گلگت بلتستان کی طرح اور کشمیر کی طرح کے پی کے کو بھی مین اسٹریم میڈیا میں وہ توجہ نہیں ملتی جو کہ پنجاب اور سندھ وغیرہ کو ملتی یا کراچی کو بالخصوص ملتی ہے۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ کے پی کے میں سونامی سرکار باقی ملک سونامی سرکار کے آنے سے پانچ سال پہلے آگئی تھی ۔ 

پی ٹی آئی نے2018ء کے الیکشن سے قبل پانچ سال وہاں پر حکومت کی تھی۔ پی ٹی آئی یہ کریڈٹ لے رہی تھی اور الیکشن میں بھی اس کارڈ کو کیش کیا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کو بدل دیا ہے۔ 

خصوصاً دو شعبوں صحت اور تعلیم کے بارے میں پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں کے پی کے کا صحت اور تعلیم کے شعبوں کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ پورے پاکستان کو پتہ چلے کہ پانچ سال بعد یا آٹھ سال بعد پی ٹی آئی کی جو حکومت ہے اس کی کارکردگی کیا ہوگی۔ 

صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑانے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے نظام میں تفصیلات میں بعد میں جاسکتے ہیں صحت کے نظام پر بہت کام ہوا ہے اور بڑی کامیابیاں بھی ہیں۔ جب کام ہوگا تو اس میں تنقید بھی آئیں گی پش بیک بھی آئے گی شاید کچھ چیزیں اس طریقے سے بھی نہیں ہوں گی جس طرح ہونی چاہئیں۔ 

صحت کے نظام پر جتنا بھی کام ہو مگر اس سے زیادہ کام باقی رہے گا۔ ہم نے صحت میں ایک ایسے پروگرام کا آغاز کیا جو صحت انصاف کارڈ کا ہمارا ہے جو کہ کے پی کے ہر شہری کو وہ کوریج دے رہا ہے جو آج سے دو تین سال پہلے کوئی سوچ نہیں سکتا تھا۔ 

یہ بات بالکل غلط ہے کہ سرکاری اسپتالوں کا بجٹ کم کیا گیا سرکاری اسپتالوں کا بجٹ زیادہ کیا گیا ہے اور صحت کارڈ کا ریونیو وہ ان کے اوپر چھوڑا ہے کہ اس کے اوپر وہ حاصل کریں تاکہ اس سے اسپتالوں میں بھی مزید سرمایہ کاری ہوسکے۔

اہم خبریں سے مزید