• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے بڑے بڑے سمندر... ’’کتنے پانی میں ہیں؟‘‘

اللہ رب العزت نے کائنات کی تمام مخلوقات کو اَن گنت نعمتوں سے نوازا ہے، جس کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے۔ سورئہ ابراہیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ:’’اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہ کرسکو گے۔‘‘ سمندربھی اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں سے ایک ہے، جو اپنی اتھاہ گہرائیوں میں ‘‘خزانوں کا سمندر‘‘ سموئے ہوئے ہیں ۔ بے شمار نباتات، معدنیات، تیل، گیس اور قیمتی پتھروں کے علاوہ 75فی صد آکسیجن بھی یہی سمندر مہیّا کرتے ہیں۔ پھر ان میں آبی حیات کی بھی اس قدر اقسام ہیں کہ جن کا صحیح شمار بھی ممکن نہیں۔ ساتھ ساتھ پینے کا 40 فی صد صاف پانی بھی ان ہی سمندروں کے مرہونِ منّت ہے۔ یعنی ایک طرف یہ معاشی طور پر انسان کے مدد گار ہیں، تو دوسری جانب دُور دراز علاقوں سے بھاری بھر کم سامان کی ترسیل کا موثر ذریعہ بھی ہیں۔

بہت بڑے سمندر کو’’بحر‘‘ جب کہ نسبتاً چھوٹے سمندر کو ’’بحیرہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک دنیا میں چار بڑے سمندر، بحرالکاہل، بحرِاوقیانوس، بحرِہند اور بحرِ منجمد جنوبی تھے۔ پھر 2000ء میں بحرِ منجمد شمالی کو باضابطہ طور پر پانچویں سمندرکا درجہ دیا گیا، جس میں انٹارکٹیکا کےاردگرد کا پانی بھی شامل ہے۔ 

یہ پانچوں سمندر ایک دوسرےسے جُڑے ہوئے ہیں، جب کہ اس کے برعکس دنیا کے پچاس کے لگ بھگ چھوٹے سمندر ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں۔ سمندر زمین کے کُل رقبے کے تقریباً 70 سے 75فی صد حصّے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ انسان نے بلند ترین پہاڑوں سے لے کر سیّاروں تک تو رسائی حاصل کرلی، لیکن اس کرئہ ارض کے 75 فی صد حصّے کے بارے میں اب تک صرف 5 فی صد معلومات تک رسائی حاصل کرسکا ہے۔ بہرحال، ذیل میں دنیا کے پانچ بڑے سمندروں کا احوال پیشِ خدمت ہے۔

بحرالکاہل: بحرالکاہل دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے، جس کا رقبہ 15 کروڑ 55لاکھ 57 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ دنیا کے 28فی صد رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور امریکا کے کُل رقبے سے 15 گُنا طویل ہے۔ اس کی اوسط گہرائی 13215 فٹ، جب کہ گہرا ترین مقام ماریانا ٹرنچ ہے۔ بحرالکاہل میں لگ بھگ 25 ہزار جزائر ہیں، جو دنیا بھر کے کُل سمندری جزائر سے بھی زیادہ ہیں۔ 

دنیا کی 60 فی صد مچھلیاں بھی یہی سمندر مہیّا کرتا ہے۔ بحرالکاہل کے ساحل کی لمبائی ایک لاکھ 35 ہزار 156 کلومیٹر ہے۔ جب کہ اس وسیع و عریض سمندر میں 75فی صد آتش فشاں پہاڑ بھی واقع ہیں۔ بحرالکاہل اس قدر طول طویل ہے کہ اس میں بہ یک وقت ساتوں براعظم بھی سماجائیں، تب بھی بہت سا رقبہ بچ رہے گا۔

بحرِاوقیانوس: دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سمندر بحراوقیانوس ہے، جس کا کُل رقبہ 7کروڑ67لاکھ62ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس سمندر کی اوسط گہرائی 12880فٹ اور گہرا ترین مقام پورٹوریکو ٹرنچ ہے، جس کی گہرائی 28231 فٹ ہے۔ انگریزی میں اسے اٹلانٹک اوشن کہتے ہیں اور اس نے زمین کے 5/1 حصّے کو گھیر رکھا ہے۔

بحرِ ہند: یہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا سمندر ہے، جس کا رقبہ 6کروڑ 85 لاکھ 66ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ بحرِہند کی اوسط گہرائی13002 فٹ، جب کہ گہرا ترین مقام جاواٹرنچ ہے۔ دنیا کا تقریباً 20فی صد پانی کا ذخیرہ رکھنے والے اس سمندر کی گہرائی 23 ہزار 812 فٹ ہے۔

بحرِ منجمد جنوبی: 2 کروڑ 3لاکھ 27 ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا یہ دنیا کا چوتھا بڑا سمندر ہے، اسے چاروں طرف سے براعظم انٹارکٹیکا نے گھیرا ہوا ہے۔ بحرِمنجمد جنوبی کو باقاعدہ طور پر 2000ء میں بین الاقوامی تنظیم برائے آبی جغرافیہ (آئی ایچ او) نے بحر کے طور پر تسلیم کیا۔ اس کی اوسط گہرائی 13100فٹ، جب کہ گہرا ترین مقام ساؤتھ سینڈوچ ٹرنچ اور کُل گہرائی 23737 فٹ ہے۔ اس سمندر کے اکثر حصّوں پر برف جمی رہتی ہے۔ اس کا قدیم نام انٹارکٹیکا (Antarctic Ocean)تھا۔ تاہم، 2000ء کے بعد اس کانام بحرِمنجمد جنوبی(Southern Ocean)رکھ دیا گیا۔

بحرِ منجمد شمالی: یہ دنیا کا پانچواں اور سب سے چھوٹا سمندر ہے، جو ایک کروڑ 40لاکھ 56ہزارمربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔اس کے ساحل کی لمبائی 45 ہزار 389 کلو میٹر پر محیط ہے۔ اوسط گہرائی 3953 فٹ جب کہ گہرا ترین مقام فرام بیسن ہے، جو تقریباً 15305فٹ گہرا ہے۔ بحرمنجمد شمالی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ یورپ، ایشیا، شمالی امریکا، گرین لینڈ اور دیگر جزائر سمیت چاروں طرف سے زمین میں گِھرا ہونے کے ساتھ آبنائے بیرنگ کے ذریعے بحرالکاہل جب کہ بحیرئہ گرین لینڈ کے ذریعے بحرِ اوقیانوس سے بھی ملا ہوا ہے۔ اس کا بھی بیش ترحصّہ برف سے ڈھکا ہوا ہے، جس کے سبب یہاں آبی حیات انتہائی کم تعداد میں ہیں۔ 

سمندر کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’سمندر کی دنیا اس قدر گہری ، پر اسرار اور پوشیدہ ہے کہ زمین کے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر بھی اس کی تہہ تک مکمل رسائی ممکن نظر نہیں آتی۔‘‘ ایک عام غوطہ خورسمندر کی سطح سے 40میٹر کی گہرائی سے زیادہ غوطہ خوری نہیں کرسکتا۔ مشہورِ زمانہ بحری جہاز ٹائی ٹینک کا ملبہ 3800 میٹر کی گہرائی میں ملا تھا، اس سے بھی نیچے جائیں تو 4000میٹر کی گہرائی میں ہم سمندر کے اس حصّے میں جا پہنچتے ہیں، جسے ‘‘ ابیل زون ‘‘ کہا جاتا ہے۔

یہاں پانی کا دباؤ 1100مربع فی انچ تک جا پہنچتا ہے۔اس سے کہیں زیادہ نیچے 6000میٹر کی گہرائی میں ایک ایسا سمندری علاقہ موجود ہے، جسے ’’ہڈل زون ‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ غالباً کائنات کا تاریک ترین حصّہ ہے ۔اور یہاں پانی کا دباؤ 11000گنا زیادہ ہوتا ہے۔ 6500میٹر سمندر کی گہرائی وہ حد ہے،جہاں ڈی ایس وی آلوین نامی مشہور تحقیقی آب دوز پہنچی تھی اورجس نے ٹائی ٹینک جہاز کا کھوج لگانے میں معاونت کی تھی۔ 8848 میٹر کی گہرائی کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی مائونٹ ایورسٹ پوری ڈوب سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی سمندر کی گہرائی ابھی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ سائنس دان اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آنے والے وقتوں میں شاید انسان سمندر کی مزید گہرائی تک رسائی حاصل کرکے بہت سی نئی سمندری مخلوقات کا بھی پتا چلا لے گا۔

سنڈے میگزین سے مزید