• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنے دل کی سُنیں... سہل طرزِ زندگی ترک کریں

بات چیت: رؤف ظفر، لاہور

عالمی ادارۂ صحت اور ورلڈہارٹ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ہر سال دُنیا بَھر میں 29 ستمبر کو ایک نئے تھیم کے ساتھ’’عالمی یومِ قلب‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس سال کے لیے جو تھیم منتخب کیا گیا ہے،وہ"Use Heart To Connect"ہے، جس کے ذریعے یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اپنے دِل کی آواز سُنتے ہوئے اس کا خیال رکھیں اوراس ضمن میں دیگر افراد کی بھی رہنمائی کریں۔ 

ورلڈہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق پوری دُنیامیں کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (CardioVascular Diseases) کی وجہ سے ہر سال 18.6ملین افراد لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔ یعنی مختلف بیماریوں سے ہونے والی اموات میں سے نصف کا سبب امراضِ قلب ہیں۔ تب ہی فاؤنڈیشن نے2025ءتک دِل کے امراض سے ہونے والی اموات میں 25فی صد تک کمی لانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور یہ اُسی صُورت ممکن ہے، جب ہر سطح تک امراضِ قلب سے متعلق معلومات عام ہوں۔سو، ہم نے اس ضمن میں معروف ماہرِ امراضِ قلب، ڈاکٹر گوہر سعید سے تفصیلی بات چیت کی، تاکہ دِل کی بیماریوں کی وجوہ اور احتیاطی تدابیر سے متعلق تفصیلاً جان سکیں۔

ڈاکٹر گوہر سعید انٹرنل میڈیسن، کارڈیالوجی اور انٹرنیشنل کارڈیالوجی میں امریکن بورڈ سرٹیفائیڈ (M.D)ہیں۔ پاکستان کے ساتھ امریکا میں بھی پریکٹس کررہےہیں۔ سینٹرل جارجیا میں 2011ء سے بطور کارڈیک کنسلٹنٹ کام کر رہے ہیں، توہیوسٹن میں ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر بھی رہ چُکے ہیں،جب کہ2015ء سے تاحال نیشنل اسپتال اینڈ میڈیکل سینٹر، ڈی ایچ اے، لاہور میں بطور کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ واضح رہے، مذکورہ اسپتال میں وہ جدید طریقۂ علاج کے روحِ رواں بھی ہیں۔ ملاحظہ کیجیے، ڈاکٹر گوہر سعید سے ہونے والی گفتگو کی تفصیل۔

س:پاکستان میں امراضِ قلب کی عمومی صُورتِ حال کیا ہے؟

ج: صُورتِ حال قطعاًحوصلہ افزا نہیں ہے۔ گرچہ اس ضمن میں پاکستان میں کوئی منظّم سروے نہیں ہوا،لیکن 2018ء میں عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں امراضِ قلب سےسالانہ تقریباً دو لاکھ 50ہزار مریض انتقال کر جاتے ہیں، جو کہ مجموعی اموات کا 20.28فی صد ہے۔ 

عالمی سطح پر امراضِ قلب کے حوالے سے پاکستان 18ویں نمبر پر شمار کیا جاتاہے، جب کہ یہاں درمیانی عُمر کے ہر چار میں سے ایک فرد میں دِل کے امراض سے متاثر ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ یاد رہے، 2016ء میں بھی ایک رپورٹ شایع کی گئی تھی، جس کے مطابق پاکستان میں ہونے والی کُل اموات میں سے 30سے 40فی صد کا تعلق امراضِ قلب سے ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہمارے مُلک میں ہر ایک گھنٹے میں12افراد ہارٹ اٹیک سے انتقال کرجاتے ہیں۔

عمومی طور پر عارضۂ قلب کو عُمر رسیدہ افرادکا مرض تصوّر کیا جاتاہے، لیکن اب گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں 30سے40سال کی عُمر کے افراد میں بھی(چاہے مَرد ہوں یا خواتین)دِل کے عوارض رپورٹ ہورہےہیں، جو خاصی تشویش ناک صورتِ حال ہے ،جب کہ مستقبل میں نوجوانوں میں امراضِ قلب کی شرح کم ہونے کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آرہا۔ اس اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ماضی میں لوگوں کی رسائی ڈاکٹرزتک محدود تھی، مگر اب گاؤں، دیہات اور چھوٹے شہروں میں بھی مستند اور امراضِ قلب کے ماہرین موجود ہونے کے نتیجے میں زیادہ کیسزسامنے آرہے ہیں۔

س:بیرونِ مُمالک میں امراضِ قلب کے پھیلاؤ کی شرح کیا ہے اور کیا وہاں بھی نوجوان دِل کے امراض کا شکار ہورہے ہیں؟

ج:جی، پوری دُنیا ہی میں امراضِ قلب کی شرح بُلند ہورہی ہے، اس لیے ویسکیولر ڈیزیزز کو ’’نمبر وَن کِلر‘‘ بھی سمجھا جاتا ہے، مگر امریکا اور یورپ میں اب بھی عارضۂ قلب کو بڑھاپے ہی کا مرض کہا جاتا ہے۔ ممکن ہے، پہلے کبھی نوجوانوں میں شرح بُلند رہی ہو، لیکن اب کچھ عرصے سے60، 70برس کے افراد ہی میں کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ دراصل، ان مُمالک میں گزشتہ دو تین دہائیوں سے امراضِ قلب سے متعلق تفصیلاً معلومات فراہم کی جارہی ہیں، تمباکو نوشی کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی، نیز عوامی آگہی کی بدولت اکثریت یہ بات جانتی ہے کہ کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے دِل کے امراض سے بچا جاسکتا ہے۔ 

جب کہ باقاعدگی سے ورزش کا رجحان بھی عام ہے، بتدریج فروزن فوڈکا استعمال کم ہورہا ہے اور آرگینک یعنی قدرتی خوراک کو ترجیح دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ سائنسی طور پرجڑی بوٹیوں کی افادیت تسلیم کیے جانے کے بعد ان کا استعمال اور فطری طریقۂ علاج بھی عام ہوا ہے۔ 

یاد رہے، چند سال قبل جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکیوں نے اپنی اور اپنے بچّوں کی صحت کے لیے ہربل میڈیسن اور دیگر متبادل طریق علاج پر اپنی جیب سے صرف ایک سال میں 30ارب ڈالر خرچ کیے۔ حالاں کہ ہمارے یہاں طب میں جڑی بوٹیوں کا استعمال ایک عرصے سے کیا جارہاہے، لیکن ہم رفتہ رفتہ قدرتی اور دیسی طریقۂ علاج سے دُور ہوتے جا رہے ہیں۔

س:رواں برس ورلڈ ہارٹ ڈے کا تھیم "Use Heart To Connect"ہے، تو اس کے انتخاب کی وجہ کیاہے؟

ج: اس تھیم کا انتخاب اس لیےکیا گیا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے امراضِ قلب سے متعلق آگہی، روک تھام اور علاج معالجےکے نظام میں بہتری لائی جائے۔ اگر ہم معاشرے میں متوازن غذا، سادہ طرزِ زندگی، احتیاطی تدابیر، ادویہ اور پرہیز سے متعلق مستند معلومات عام کردیں، تو امراضِ قلب سے پاک معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے، جس کی توقع عالمی ادارۂ صحت 2025ء تک کر رہا ہے۔

س: کیا امراضِ قلب کی شرح مَرد و خواتین میں یک ساں ہے اور دونوں میں ایک ہی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں یا…؟

ج: نازک دِل کہلانے کے باوجود خواتین میں مَردوں کی نسبت دل کے امراض کے امکانات کم پائے جاتے ہیں،خاص طور پر جب تک ان کا ہارمونک سائیکل یعنی ماہ واری کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔اگر مینوپاز یا پھر کسی اور وجہ سے ماہ واری رک جائے، تو یہ امکانات مَردوں کے مساوی ہوجاتے ہیں۔ جب کہ خواتین میں دِل کے مرض کی علامات، مثلاً سانس پُھولنا، دِل ڈوبتا ہوا محسوس ہونا اور بازو میں درد وغیرہ مَردوں سے مختلف ہوسکتی ہیں، مگر یہ لازم نہیں ہے۔

س: امراضِ قلب لاحق ہونے کے محرّکات کیا ہیں اور کیا جدید آسائشیں بھی مختلف بیماریوں کی(بشمول دِل) وجہ بن رہی ہیں؟

ج: امراضِ قلب لاحق ہونے کے کئی محرّکات ہیں، جن میں سرِفہرست موروثیت ہے، لیکن موجودہ دَور میں بنیادی وجہ طرزِ زندگی میں تبدیلی ہے۔ بلاشبہ موجودہ دَور میں انسان نے اپنے لیے کئی آسانیاں پیدا کرلی ہیں، مگر ان کے ردِّعمل میں ہم سے صحت بخش زندگی چِھن گئی ہے۔ پہلے خواتین گھر کے تمام امور خود انجام دیتی تھیں۔ کپڑے دھو کر نچوڑنے، جھاڑو پونچھا کرنے سے ہاتھوں، پیروں کی ورزش ہوجاتی تھی۔ 

مگر اب ایسے الیکٹرانک آلات اور مشینیں موجود ہیں کہ محض ایک بٹن دبانے سے سب کام ہوجاتے ہیں۔بعض خواتین کا ماننا ہے کہ کھڑے ہو کر کھانا پکانے سے وہ متحرک رہتی ہیں، تو یہ غلط تصوّر ہے، کیوں کہ کھڑے ہو کر کھانا پکانے سےجوڑوں کے کئی امراض لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پھر طلبہ اور آفس ورکرز 8، 10گھنٹے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے کام کرتے رہتے ہیں۔ کاروں اور موٹر سائیکلز نے سفر بہت ہی آسان کردیا ہے کہ قریبی دکان یا میڈیکل اسٹور سے بھی کچھ خریدنا ہو، توپیدل جانے کی بجائے موٹر سائیکل ہی کو ترجیح دی جاتی ہے، تو اس روش نے زندگیوں پر جمود طاری کر دیا ہے، جو امراضِ قلب سمیت مختلف بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔

س: کیا متموّل طبقہ امراضِ قلب کا جلد شکار ہوجاتا ہے؟

ج: یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ امیر، کھاتے پیتے اور صاحبِ ثروت افراد میں امراضِ قلب کی شرح بُلند ہے کہ ان میں خوش خوراکی، موٹاپا، جنک فوڈز، سُستی، کاہلی اور ورزش کی کمی وغیرہ اس کے اسباب بنتے ہیں۔ اس کے برعکس غریب اور نچلے طبقے میں امراض ِقلب کی شرح کم پائی جاتی ہے، کیوں کہ یہ مزدور اور محنت کش طبقہ جفاکشی کی زندگی بسر کرتا ہے۔پھر وسائل کی کمی کی وجہ سے ان کی خوراک سادہ اور کم ہوتی ہے (غربت اور کم خوراکی کی وجہ سے ان کی اپنی علیٰحدہ بیماریاں ہیں)۔

یہ افراد برگر، پیزا، جنک فوڈز، گھی، چکنائی، دودھ، مکھن وغیرہ کم استعمال کرتے ہیں، اسی لیے ان اشیاء کے مضرات سےمحفوظ رہتے ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں ناں کہ آدمی زیادہ کھانے سے مَرتا ہے، کم کھانے سے نہیں،سو فی صد درست بات ہے۔مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان دونوں طبقات میں تمباکو نوشی کی لت عام ہے، تو چائے بھی بہت زیادہ پی جاتی ہے۔ اگرچہ چائے کا دِل کے امراض سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں، لیکن اکثر لوگ اعتدال سے کام نہیں لیتے۔

س: آج کل جس طرح کی غذائیں استعمال کی جارہی ہیں، تو کیا یہ بھی دِل کی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہیں؟

ج: جی بالکل، موروثیت سے قطع نظر غیر متوازن غذا کا استعمال عارضۂ قلب کا بنیادی سبب قرار دیا جا سکتا ہے۔ امراضِ قلب سے متاثر ہونے کے تقریباً تمام عوامل کا تعلق غذا اور طرزِ زندگی سے ہے۔ آج کل جس طرح بچّوں، نوجوانوں اوربڑی عُمرکے افرادمیں برگر، پیزا، شوارما، نہاری، سری پائے، بیکری آئٹمز، تھائی، چائنیز، سری لنکن، میکسیکن اور پراسیسڈ فوڈز وغیرہ کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے، اُسی قدر دِل ،جگر، معدے کی بیماریوں اور ذیابطیس میں مبتلا ہونے کے امکانات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

اس طرح کے کھانوں میں غذائیت اور توانائی نہیں پائی جاتی ۔یہ صرف زبان کے ذائقے تک محدود ہیں، جو خون گاڑھا اور اس کی کیمسٹری تبدیل کردیتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ غیر معیاری کھانےکھاکرہم8، 8 گھنٹے بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ لوگوں کی زندگیوں سے ورزش کا عنصر ہی غائب ہو چُکا ہے۔ یاد رکھیے، 8گھنٹے ایک جگہ بیٹھے رہنے کے(چاہے کوئی کام کررہے ہوں، ٹی وی یا ویڈیو گیمز میں مشغول ہوں) مضرات سگریٹ کے دو پیکٹس پینے کے برابر ہیں۔ 

پھر مسلسل بیٹھے رہنے سے دِل صحیح طور پر خون پمپ نہیں کرتا اور خون کی سُست گردش دِل کے مسلز کم زور کردیتی ہے۔ دیہات اورپہاڑی علاقوں کے مکینوں کی طویل العمری کا راز بھی یہی ہے کہ اُن کا سارا دِن محنت و مشقّت میں گزرتا ہے۔ انسان کے جینز میں حرکت پوشیدہ ہے اور حرکت ہی اُس کی زندگی میں بہتے پانی کا کردار ادا کرتی ہے کہ اگر پانی ایک جگہ کھڑا رہے، تو وہ بدبودار جوہڑ بن جاتا ہے۔ اِسی لیے کہا جاتا ہے حرکت میں برکت ہے۔ خوش خوراکی کے بعد ورزش نہ کرنے سے بھی کئی امراض جنم لیتے ہیں۔

س: عارضۂ قلب میں مبتلا ہونے کےرِسک فیکٹرز کیا ہیں؟

ج: بُلند فشارِ خون اورذیا بطیس کا شمار رسک فیکٹرز میں کیا جاتا ہے کہ اگر یہ امراض کنٹرول میں نہ ہوں، تو دِل کی بیماریوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ بلڈپریشر اور ذیابطیس نے تو اب وبائی صُورت اختیار کرلی ہے کہ ہر دوسرا، تیسرا فرد ادویہ ساتھ اُٹھائے پھر رہا ہے۔ نیشنل ہیلتھ سروے آف پاکستان کے مطابق مُلک بَھر میں 18 فی صد بالغ اور 45 سال سے زائدعُمرکے 33 فی صد افراد ان امراض میں مبتلا ہیں۔

س: فی زمانہ تقریباً ہر فرد ذہنی دبائو کا شکار ہے، تو کیا یہ کیفیت بھی دِل کی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے؟

ج: جی بالکل، ذہنی دباؤ، تناؤ، اسٹریس،بے چینی،ڈیپریشن اور اعصابی کشیدگی جیسے عوامل قوّتِ مدافعت کم زور کرکے مختلف بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں، جن میں سرِ فہرست عارضۂ قلب اور ذیابطیس ہیں۔ یہ بھی مشاہدے میں ہے کہ زیادہ تر افراد تفکّرات سے نشے کی بُری علّت میں مبتلا ہوجاتے ہیں، جو بعد ازاں دِل کی صحت کے لیے سنگین مسائل کا باعث بنتا ہے۔

س: کیا کورونا وائرس دِل کے مریضوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوا ہے؟

ج: کووِڈ-19میں خون کی کلاٹنگ کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، لیکن انہیں ادویہ کےذریعے کنٹرول کرسکتے ہیں۔

س: بچّوں میں بھی دِل کی بیماریاں عام ہیں؟

ج: جی، چند دہائیاں قبل بچّوں میں دِل کے امراض عام نہیں تھے، لیکن اب 10، 15سال کی عُمر کے بچّے بھی ان کا شکار ہو رہے ہیں۔پھر بچّے برگر، چپس، پیزا، شوارما، بسکٹس، چاکلیٹس اور ٹافیاں زیادہ شوق سے کھاتے ہیں،تو ان میں موٹاپے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ اوّل تو ہمارے یہاں زیادہ تر اسکولز میں کھیلوں کے میدان ہی نہیں اور اب تو آن لائن کلاسز نے بچّوں کو مزید سُست، آرام طلب اور کاہل بنا دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب بچّوں میں بھی ذیابطیس اور دِل کے امراض کی شرح بڑھ رہی ہے۔

س: اگر کسی فرد کو دِل کا دورہ پڑ جائے، تو ہنگامی طور پر کیا کیا جائے؟

ج: ہارٹ اٹیک کی علامات ہر مریض میں مختلف ہوسکتی ہیں۔ تاہم، سینے پر بوجھ، ٹھنڈے پسینے، گھٹن، سانس کی تنگی، بازو اور جبڑے میں درد عام علامات ہیں، جن کے ظاہر ہونے پر مریض کو فوری طور پر اسپتال لے جائیں۔اگر اسپتال دُور ہو، تو ڈسپرین کی ایک گولی کھلا دیں، تاکہ اسپتال جانے تک درد کی شدّت کم رہے۔ دِل کا دورہ پڑنے کے ایک گھنٹے کے اندر اگرمریض کو طبّی امداد فراہم ہو جائے، تو دِل کے مسلز متاثر ہونے سے بچ سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر مریض کی جان بچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

س: پاکستان میں کچھ عرصے سے اسسٹنٹس کے غیر معیاری ہونے پر بحث مباحثہ ہو رہا ہے، تو اس حوالے سے بھی کچھ بتائیں؟

ج: ہمارے یہاںدِل کی بند شریانیں کھولنے کے لیے جو اسٹنٹ ڈالے جاتے ہیں،وہ پاکستان میں تیار نہیں ہوتے، بلکہ امریکی اور یورپی ساختہ ہیں۔ امریکی اسٹنٹ عام طور پر اعلیٰ معیار کے تصوّر کیے جاتے ہیں، لیکن یورپی اسٹنٹ کو غیر معیاری نہیں کہہ سکتے۔ اس لیے پاکستانی ڈاکٹرز کا جعلی یا غیر معیاری اسٹنٹ استعمال کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

س: پاکستان میں ہر سطح تک علاج معالجے کی جدید سہولتیں دستیاب ہیں؟

ج: پاکستان کے بعض بڑے شہروں میں علاج کی جدید ترین سہولتیں دستیاب ہونے کے باوجود مجموعی طور پر صُورتِ حال اس لیے اچھی نہیں کہ بعض انتظامی مسائل کی بنا پر عام افراد ان سے مستفید نہیں ہوپاتے۔ پھر مریضوں کی تعداد کے پیشِ نظر کارڈیالوجسٹس بھی کم ہیں۔ لاہور کی ڈیڑھ کروڑ آبادی کے لیے صرف پندرہ بیس کارڈیالوجسٹ موجودہیں۔ 

پاکستان میں تحصیل اور ضلعی ہیڈکوارٹرز میں تو صُورتِ حال مزید دگرگوں ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر مریض اتائیوں سےرجوع کرتے ہیں، جو دِل کے درد، سینے پر بوجھ، دبائو اور گھٹن کا علاج تبخیرِمعدہ کے طور پر کرکے مرض پیچیدہ کردیتے ہیں۔ ہمارے بیش تر سرکاری اور حتیٰ کہ نجی اسپتالوں میں بھی ہارٹ اٹیک کے مریضوں کے لیے ہنگامی ادویہ اور انجیکشنز بروقت نہیں ملتے۔ اگرچہ فی الوقت حکومت لانگ ٹرم پلاننگ کررہی ہے، جب کہ ہمارے موجودہ حالات ہنگامی اقدامات کے متقاضی ہیں۔

س: دِل کے امراض سے بچائو کے لیے کس طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں؟

ج: متوازن غذا کا استعمال اور سادہ طرز زندگی اختیار کریں۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ بعض افراد اپنی قبر خود اپنے دانتوں سے کھودتے ہیں، تو بالکل صحیح ہے۔ دراصل ہم جو غذائیں استعمال کرتے ہیں اور جس طرز کی زندگی گزارتے ہیں، ہماری جسمانی و ذہنی صحت بھی اِسی پر انحصار کرتی ہے، لہٰذا طرز ِزندگی سادہ رکھیں، متوازن غذا استعمال کریں۔ جنک، فروزن فوڈز، تمباکو نوشی، بیکری آئٹمز، عام گھی میں تلی ہوئی اشیاء سے اجتناب برتیں۔ 

سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ اپنا وزن، اپنی جسامت کے مطابق رکھیں۔ہمارے یہاں یہ تصوّر عام ہے کہ انڈے اور دیسی گھی کا استعمال طبّی مسائل کا سبب بنتا ہے، تو اب عالمی سطح پر ماہرین نے انڈے کھانے کی اجازت دے دی ہے۔ اِسی طرح کم مقدار میں دیسی گھی بھی مفید قرار دیا گیاہے۔

یہ دونوں اشیاء دیہات میں غذا کا حصّہ ہیں، اس لیے وہاں دِل کے امراض نسبتاً کم پائے جاتے ہیں۔ ورزش کو اپنا معمول بنا لیں۔ لفٹ کی بجائے سیڑھیاں استعمال کریں، کم مسافت طے کرنے کے لیے پیدل چلیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے امراضِ قلب سے محفوظ رہنے کے لیے جو بنیادی اصول بیان کیے ہیں، وہ بھی تقریباً یہی ہیں۔ یعنی صحت بخش متوازن غذا، پھل اور سبزی کا زائد استعمال کریں، جسمانی طور پر سرگرم رہیں، وزن پر کنٹرول رہے، تمباکو نوشی سے اجتناب برتیں اور بلڈپریشر بڑھنے نہ دیں اور جس خاندان میں امراضِ قلب کی ہسٹری شامل ہو،وہ35،40سال کی عُمر میں معالج کے مشورے سے ٹیسٹ کروائیں۔

س: قلب کے عالمی یوم کے موقعے پر کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

س: ’’پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘، جس پر عمل کر کے نہ صرف امراضِ قلب، بلکہ دیگر عوارض سے بھی محفوظ رہا جا سکتا ہے۔مَیں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ بے شک موجودہ دَور میں علاج معالجے کی جدید سہولتیں میسّر ہیں، لیکن کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم متوازن اور سادہ طرز زندگی اختیار کرکے معالج کے پاس جانے کا موقع ہی نہ آنے دیں، کیوں کہ ایسا کر کے ہی ہم ثابت کرسکتے ہیں کہ ہم اپنے دِل کی بات ’’میرا خیال رکھیں‘‘سُن اور مان رہے ہیں۔

دِل کے لیے 7 خطرناک غذائیں

دُنیا بَھرکے کارڈیالوجسٹس نے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں7 غذائوں کی نشان دہی کی ہے، جن کے زائد استعمال سے امراضِ قلب لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ان میں سرِفہرست پیزا (بالخصوص ریستوران اور ہوٹلز کا تیارکردہ) ہے، جس میں کیلوریز، سوڈیم اور چکنائی زائد مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو بعد ازاں موٹاپے، بُلند فشارِخون اور کولیسٹرول میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ 

* فرینچ فرائز بھی دِل کے لیے نقصان دہ ہیں کہ جو افراد فرینچ فرائز کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں، اُن میں فرینچ فرائز نہ کھانے والوں کی نسبت ہارٹ اٹیک یا امراضِ قلب سے جلد موت کے امکانات دو سے تین گنا بڑھ جاتے ہیں۔

* فرائیڈ چکن بھی دِل کی صحت کے لیے مضر ہے۔ دراصل اسے ڈیپ فرائی کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کیلوریز، چربی اور نمک کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ 

* آئس کریمز بھی کیلوریز، چینی اور سیچورٹیڈ چربی سے بَھرپور ہوتی ہیں اور وزن بڑھاتی ہیں۔ 

* فنگ چپس چوں کہ وزن میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، اس لیے یہ بھی دِل کے لیے غیر معیاری غذا تصوّر کیے جاتے ہیں۔ یاد رہے، ایک نارمل چپس کے پیکٹ میں 153کیلوریز پائی جاتی ہیں۔

* کولڈڈرنک کا صرف ایک کین پینا بھی دِل سے دشمنی کے مترادف ہے کہ اس میں چینی زائد مقدار میں شامل ہوتی ہے، جو موٹاپے کا باعث بنتی ہے، جس کے نتیجے میں ذیابطیس، بُلند فشارِ خون اور امراضِ قلب کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

* ڈبّے میں بند چکن سوپ بھی دِل کے لیے خطرناک ہے۔ واضح رہے، چکن سُوپ اور کریم کے ایک کین میں سوڈیم کی 1600ایم ، جی مقدار شامل ہوتی ہے، جو کہ بلڈ پریشر بڑھاتی ہے۔ 

سنڈے میگزین سے مزید