• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جی ایم پی افسر کا ہتھکڑی لگے شخص پر بارہا ٹیسر استعمال کرنے کا اعتراف

لندن (پی اے) گریٹر مانچسٹر پولیس کے ایک افسر نے ہتھکڑی لگے ایک شخص پر بار بار ٹیسر استعمال کرنے کے کامن ایسالٹ کا اعتراف کیا ہے۔ گریٹر مانچسٹر پولیس (جی ایم پی) سے تعلق رکھنے والے 47 سالہ فلپ سمتھ نے جون 2018 میں ڈرکن فیلڈ ٹیمسائیڈ میں ایک پراپرٹی میں طلب کئے جانے کے بعد پانچ مرتبہ ٹیسر کا استعمال کیا تھا۔ بعد میں پولیس واچ ڈاگ نے انویسٹی گیشن میں پتہ لگایا کہ آخری تین بار ٹیسر استعمال کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ پرسٹن کرائون کورٹ میں اسے 18 ماہ کا مشروط ڈس چارج دیا گیا اور اسے معاوضے کے طور پر 250 پونڈ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ پولیس کے ایک گروپ کو 29 سالہ شخص کی ویلفیئر  خدشات کی وجہ سے پراپرٹی میں طلب کیا گیا تھا، اس گروپ میں فلپ سمتھ بھی شامل تھا۔ انڈی پینڈنٹ آفس فار پولیس کنڈکٹ کی ریجنل ڈائریکٹر امانڈا رو نے کہا کہ فلپ سمتھ نے اس وقت بار بار ٹیسر کا استعمال کیا جب وہ شخص اس یا اس کے ساتھ کسی کیلئے خطرے کا باعث نہیں تھا۔ اس دوران اس شخص کو پانچ بار ٹیسر کیا گیا اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ آخری تین مواقع پر ٹیسر کےاستعمال کا کوئی جواز نہیں تھا کیونکہ اس شخص کو پہلے ہی روک لیا گیا تھا اور ہتھکڑیاں لگا دی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر اس کا ٹیسر کا استعمال کرنا بلاجواز تھا اور یہ قانون کی نظر میں ایسالٹ کے مترادف تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے اور جج نے تسلیم کیا کہ پی سی سمتھ غصے میں تھا اور آپے سے باہر ہو گیا تھا اور اب فلپ سمتھ کے خلاف گراس مس کنڈکٹ ڈسپلنری پروسیڈنگز ہوگی، جس کے نتیجے میں اس کی برطرفی ہو سکتی ہے۔ گریٹر مانچسٹر پولیس (جی ایم پی) کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر کسی افسر کو کرمنل آفنس میں سز ا دی جاتی ہے تو وہ بلاشبہ کمیونٹی کیلئے تشویش کا باعث ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ اب واپس ہماری پروفیشنل سٹینڈرڈز برانچ کو ریفر کر دیا گیا ہے جو پولیس ریگولیشنز کے مطابق اب اس کو ڈیل کرے گی۔
یورپ سے سے مزید